resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: فرض کی تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونے کے بعد قعدہ اولی یاد آجانے پر سجدہ سہو

(68264-No)

سوال: ظہر کی نماز میں فرض کی دوسری رکعت میں قعدۂ اولیٰ کے لیے بیٹھنے کے بجائے اگر کوئی شخص کھڑا ہونے لگے، لیکن مکمل طور پر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے ہی یاد آجائے اور دوبارہ بیٹھ جائے تو کیا اس صورت میں سجدۂ سہو لازم ہوگا؟ اگر سجدۂ سہو لازم ہو اور کسی نے سجدۂ سہو نہ کیا ہو تو کیا نماز دوبارہ پڑھنا ضروری ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ چار رکعت والی فرض نمازوں میں دوسری رکعت کے بعد بیٹھنا اور التحیات پڑھنا واجب ہے، جبکہ تیسری رکعت میں کھڑا ہونا فرض ہے، اگر چار رکعت والی فرض نماز میں کوئی شخص دوسری رکعت کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونے لگے اور اسی دوران اسے قعدہ اولیٰ یاد آ جائے تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ نمازی قیام کے زیادہ قریب ہے یا قعدہ کے، اگر نمازی قیام کے زیادہ قریب ہو(یعنی اس کے گھٹنے سیدھے ہوگئے ہوں) یا مکمل طور پر کھڑا ہوچکا ہو تو اب اسے قعدہ اولیٰ کی طرف نہیں لوٹنا چاہیے بلکہ تیسری اور چوتھی رکعت ادا کرکے آخر میں سجدہ سہو کرلینا چاہیے، لیکن اگر نمازی غلطی یا لاعلمی کی وجہ سے کھڑا ہونے کے بعد بیٹھ گیا تو راجح قول کے مطابق آخر میں سجدہ سہو کرلینے سے اس کی نماز درست ہو جائے گی۔
اور اگر نمازی قیام کے مقابلے میں قعدہ کے زیادہ قریب ہو(یعنی اس کے گھٹنے مکمل طور پر سیدھے نہیں ہوے ہوں) تو اس صورت میں اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے اور التحیات پڑھے، اس کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو، اس صورت میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا۔
سوال میں پوچھی گئی صورت میں اگر نمازی پر سجدہ سہو واجب ہو گیا تھا مگر اس نے ادا نہیں کیا تو جب تک اس ظہر کی نماز کا وقت باقی تھا، ظہر کی نماز کا اعادہ کرلینا واجب تھا، لیکن اگر اعادہ نہیں کرسکا اور وقت گزر گیا تو اب اعادہ کرنا واجب تو نہیں ہے، البتہ اس (نماز کا وقت گزرنے کی) صورت میں بھی اگر اعادہ کرلے تو بہتر ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الھدایة: (75/1، ط:دار احیاء تراث العربی)
ومن سها عن القعدة الأولى ثم تذكر وهو إلى حالة القعود أقرب عاد وقعد وتشهد لأن ما يقرب من الشيء يأخذ حكمه ثم قيل يسجد للسهو للتأخير والأصح أنه لا يسجد كما إذا لم يقم ولو كان إلى القيام أقرب لم يعد لأنه كالقائم معنى ويسجد للسهو لأنه ترك الواجب۔

رد المحتار: (83/2، ط: سعید)
(سها عن القعود الأول من الفرض) ولو عملياً، أما النفل فيعود ما لم يقيد بالسجدة (ثم تذكره عاد إليه) وتشهد، ولا سهو عليه في الأصح (ما لم يستقم قائماً) في ظاهر المذهب، وهو الأصح فتح (وإلا) أي وإن استقام قائماً (لا) يعود لاشتغاله بفرض القيام (وسجد للسهو) لترك الواجب (فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته) لرفض الفرض لما ليس بفرض، وصححه الزيلعي (وقيل: لا) تفسد، لكنه يكون مسيئاً ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه)، كما حققه الكمال، وهو الحق، بحر۔

حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: (ص: 247، ط: دار الکتب العلمیة)
قوله: "وإعادتها بتركه عمدا" أي ما دام الوقت باقيا وكذا في السهو ان لم يسجد له وإن لم يعدها حتی خرج الوقت تسقط مع النقصان وكراهة التحريم ويكون فاسقا آثما وكذا الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر وغيره ويندب إعادتها لترك السنة".

کذا فی فتاوی محمودیه: (461/7، ط: ادارۃ الفاروق)

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)