سوال:
کل میرا ایک پروسیجر تھا، جسے Lap and Dye کہتے ہیں، اس پروسیجر کے لیے مجھے صبح 7 بجے سے شام 7 بجے تک ہسپتال میں داخل رہنا پڑا، پروسیجر کے دوران ہسپتال کے جو کپڑے میں نے پہنے ہوئے تھے، ان پر خون لگا ہوا تھا، ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد میں نے کپڑے تبدیل کر لیے۔ میں نے ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں وضو کرکے انہی کپڑوں میں پڑھ لیں جن پر پروسیجر کے دوران خون لگا ہوا تھا،
کیا میری نمازیں ادا ہوگئیں یا کپڑوں کی ناپاکی کی وجہ سے ان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا ہوگا؟
جواب: واضح رہے کہ خون شرعاً ناپاک ہے، لہٰذا اگر کپڑوں پر ایک درہم سے زیادہ خون لگا ہوا تھا تو ان کپڑوں میں پڑھی گئی ظہر، عصر اور مغرب کی نمازیں دوبارہ پڑھنا ضروری ہے، البتہ اگر کپڑوں پر لگا ہوا خون ایک درہم (یعنی ہتھیلی کے گہراؤ) کے برابر یا اس سے کم تھا تو نمازیں ادا ہوگئیں، انہیں دوبارہ دہرانا ضروری نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار: (402/1، ط: سعید)*
هي ستة (طهارة بدنه) ای جسده...(من حدث) بنوعيه...وخبث مانع كذلك (وثوبه )
*الفتاوی التاتارخانیة: (416/1، ط: ادارۃ القرآن)*
ومن جملتها طهارة ما يستر به عورته اذا كان مقيما وثوب آخر او ليس له ثوب آخر، واذا كان مسافر وله ثوب آخر لا يجوز صلاته مع الثوب النجس اذا كانت النجاسة اكثر من قدر الدرهم
*البحر الرائق: (266/2، ط: سعید)*
واما طهارة ثوبه فلقوله تعالى: وثيابك فطهر فان الأظهر أن المراد ثيابك الملبوسة وأن معناه طهرها من النجاسة
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی