resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: نماز میں دل نہ لگنے اور اللہ تعالیٰ سے قلبی تعلق کم محسوس ہونے کا حکم اور اس کا حل

(65731-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں اپنی نماز کے حوالے سے کچھ رہنمائی چاہتا ہوں، کچھ عرصے سے مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ قربت محسوس نہیں ہو رہی جو پہلے محسوس ہوتی تھی، نماز کے دوران دل میں خالی پن اور توجہ کی کمی محسوس ہوتی ہے، کبھی کبھی اس وجہ سے احساسِ ندامت بھی ہوتا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے میں دل کی کیفیت کے بجائے محض معمول کے طور پر نماز ادا کر رہا ہوں۔
تاہم میں اب بھی پابندی سے نماز پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں اور قرآنِ کریم کی تلاوت کی طرف بھی دل سے رغبت محسوس کرتا ہوں۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ وہ سابقہ تعلق اور قربت یاد آتی ہے اور میں سچے دل سے اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب: واضح رہے کہ نماز میں ہر وقت یکساں خشوع و خضوع اور قلبی کیفیت کا برقرار رہنا ایک مشکل امر ہے، کیونکہ انسان کی قلبی کیفیت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، لہٰذا اگر نماز کے دوران پہلے جیسی کیفیت محسوس نہ ہو تو اس سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عبادت پر ثابت قدم رہے اور اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے، لہذا آپ کو چاہیے کہ درج ذیل امور کا اہتمام کریں:
1) پانچوں نمازیں پابندی سے ادا کرتے رہیں، چاہے دورانِ نماز پہلے جیسی قلبی کیفیت محسوس نہ ہو، محض دل کی کیفیت میں کمی آنے کی وجہ سے نماز چھوڑنا یا اس میں سستی کرنا درست نہیں۔
2) نماز میں کی جانے والی تلاوت اور اذکار کے معانی پر غور کریں، تاکہ نماز میں توجہ اور خشوع پیدا ہو۔
3) نماز سے پہلے ذہن کو غیر ضروری خیالات سے فارغ کرنے کی کوشش کریں، موبائل اور دیگر مشغولیات سے دور رہیں اور یہ تصور کریں کہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہیں۔
4) قرآنِ کریم کی تلاوت کا معمول برقرار رکھیں اور اس کے ساتھ ترجمہ و تفسیر پڑھنے کا اہتمام کریں، اسی طرح کثرت سے ذکر، استغفار اور درود شریف کا اہتمام کریں۔
5) اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ دل میں اپنی محبت، خشوع اور عبادت کی لذت پیدا فرمائے۔ اس سلسلے میں یہ دعا بھی مانگیں:
اللّٰهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ (سنن ابی داؤد، حدیث: 1522)
ترجمہ: اے اللہ! اپنے ذکر، اپنے شکر اور بہترین طریقے سے اپنی عبادت کرنے میں میری مدد فرما۔

نیز یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ عبادت کی قبولیت کا معیار صرف قلبی کیفیت یا جذبات نہیں ہیں۔ بعض اوقات انسان کو عبادت میں لذت محسوس نہیں ہوتی، لیکن اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہتا ہے، اور یہ ثابت قدمی قابلِ قدر ہے، اس لیے اپنی سابقہ کیفیت سے موازنہ کرکے مایوس ہونے کے بجائے اخلاص اور استقامت کے ساتھ عبادت جاری رکھیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو نماز میں خشوع و خضوع، اپنے قرب کی لذت اور عبادت پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (المومنون، الایة: 1، 2)*
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ o الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ o

*صحیح مسلم: (كتاب الطهارة، باب فضل الوضوء والصلاة عقبه، رقم الحدیث: 228، ط: دار احیاء التراث العربي)*
حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص ، حدثني ابي ، عن ابيه ، قال: " كنت عند عثمان فدعا بطهور، فقال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: ما من امرئ مسلم، تحضره صلاة مكتوبة، فيحسن وضوءها، وخشوعها، وركوعها، إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب، ما لم يؤت كبيرة، وذلك الدهر كله ".

*سنن ابن ماجه: (كتاب الزهد، باب الحكمة، رقم الحدیث: 4171، ط: دار الجیل)*
عن ابي ايوب قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله علمني واوجز قال:" إذا قمت في صلاتك فصل صلاة مودع ولا تكلم بكلام تعتذر منه واجمع الياس عما في ايدي الناس".

*سنن ابي داود: (كتاب تفريع أبواب الوتر، باب فِي الاِسْتِغْفَارِ، رقم الحدیث:1522، ط: دارالرسالة العالمیة)*
حدثنا عبيد الله بن عمر بن ميسرة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حيوة بن شريح، قال: سمعت عقبة بن مسلم، يقول:حدثني ابو عبد الرحمن الحبلي، عن الصنابحي، عن معاذ بن جبل، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اخذ بيده، وقال:" يا معاذ، والله إني لاحبك، والله إني لاحبك، فقال: اوصيك يا معاذ لا تدعن في دبر كل صلاة تقول: اللهم اعني على ذكرك وشكرك وحسن عبادتك"، واوصى بذلك معاذ الصنابحي، واوصى به الصنابحي ابا عبد الرحمن.

*فیض القدیر: (حرف المیم، 472/5، ط: المكتبة التجارية الكبرى - مصر)*
"(فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها) أي وسائر أركانها بأن أتى بكل من ذلك على أكمل هيئاته من فرض وسنة قال القاضي: إحسان الوضوء الإتيان بفرائضه وسننه وخشوع الصلاة الإخبات فيها بانكسار الجوارح وإخباتها أن تأتي بكل ركن على وجه أكثر تواضعا وخضوعا وتخصيص الركوع بالذكر تنبيه على إنافته على غيره وتحريض عليه فإنه من خصائص صلاة المسلمين."

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)