سوال:
السلام علیکم، عشاء کی چار رکعت فرض نماز میں مجھے امام کی آخری دو رکعتیں ملیں، امام کے سلام کے بعد میں نے اپنی دو رکعتیں مکمل کیں، لیکن اس مرتبہ دونوں رکعتوں میں سورۂ فاتحہ کے بعد کوئی سورت نہیں ملائی، اب نماز کو 20 سے 40 منٹ گزر چکے ہیں اور میں وتر بھی پڑھ چکا ہوں، کیا مجھے عشاء کی چار رکعت فرض نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی؟
جواب: واضح رہے کہ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ آخری دو رکعتوں میں شریک ہوا ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد جو بقیہ رکعتیں پڑھے گا، قراءت کے حق میں وہ پہلی دو رکعتیں شمار ہوتی ہیں، چونکہ پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا واجب ہے، لہذا وہ ان میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملائے گا اور اگر سورت ملانا بھول جائے تو واجب رہ جانے کی وجہ سے سجدہ سہو کرے گا، بصورتِ دیگر نماز کا اعادہ کرنا لازم ہوگا۔
مذکورہ بالا تمہید کے مطابق پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ نے امام کے سلام پھیرنے کے بعد باقی ماندہ دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت نہیں ملائی تھی، اور نہ ہی سجدہ سہو سے اس کی تلافی کی ہے، لہٰذا آپ کے لیے دوبارہ نماز پڑھنا لازم ہے، البتہ ایسی صورت میں اگر سجدہ سہو نہ کیا جائے تو وقت کے اندر نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے بعد ضروری نہیں ہوتا، لہٰذا مذکورہ صورت میں عشاء کی نماز کا وقت گزرنے کے بعد نماز دوبارہ پڑھنا ضروری نہیں ہوگا، لیکن اعادہ کرلینا بہتر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الفتاوی الھندیة: (71/1، ط: دار الفکر)
الفصل الثانی فی واجبات الصلاۃ۔ يجب تعيين الأوليين من الثلاثية والرباعية المكتوبتين للقراءة المفروضة حتى لو قرأ في الأخريين من الرباعية دون الأوليين أو في إحدى الأوليين وإحدى الأخريين ساهيا وجب عليه سجود السهو كذا في البحر الرائق. وتجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة كذا في النهر الفائق … وکذا ما یقضیه المسبوق بعد فراغ الامام أول صلاته عندنا.
حاشیة الطحطاوی: (462/1، ط: دار الکتب العلمیة)
"وإن تكرر" بالإجماع كترك الفاتحة والاطمئنان في الركوع والسجود والجلوس الأول وتأخير القيام للثالثة بزيادة قدر أداء ركن ولو ساكنا "وإن كان تركه" الواجب "عمدا أثم ووجب" عليه "إعادة الصلاة"
قوله: "ووجب عليه إعادة الصلاة" فإن لم يعدها حتى خرج الوقت سقطت عنه مع كراهة التحريم هذا هو المعتمد.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی