سوال:
مجھے پہلے یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ جب چار رکعت فرض نماز میں امام کی صرف آخری ایک یا چند رکعتیں ملیں تو امام کے سلام کے بعد جو رکعتیں پوری کی جاتی ہیں، ان میں قعدہ کب کرنا ہوتا ہے۔ میں کبھی کبھی اپنی پہلی مکمل کی جانے والی رکعت کے بعد ہی بیٹھ جاتا تھا، حالانکہ اس موقع پر بیٹھنا نہیں تھا، اور پھر اگلی رکعت میں کھڑا ہوجاتا تھا۔ یہ غلطی مجھے پہلے سے معلوم نہیں تھی اور مجھے یاد نہیں کہ یہ کتنی نمازوں میں ہوئی ہے؟ کیا ان سابقہ نمازوں کو دوبارہ پڑھنا یا ان کی قضا کرنا ضروری ہے؟ اگر ضروری ہے تو کیا اس کے لیے کسی قدرے کا اندازہ لگانا ہوگا؟ مہربانی فرما کر حنفی فقہ کے مطابق دونوں مسائل کا واضح حکم بیان فرمادیں۔
جواب: واضح رہے کہ چار رکعت والی فرض نماز میں اگر کوئی شخص امام کے ساتھ صرف آخری ایک یا چند رکعتوں میں شریک ہوا ہو تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد جو بقیہ رکعتیں پڑھے گا، وہ قراءت کے اعتبار سے اس کی پہلی رکعتیں، جبکہ تشہد کے اعتبار سے آخری رکعتیں شمار ہوتی ہیں، لہٰذا اگر دو رکعتیں رہ گئی ہوں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد دونوں رکعتیں پوری کرے گا اور پہلی رکعت کے بعد قعدہ نہیں کرے گا، بلکہ دوسری رکعت کے بعد قعدہ کرے گا اور اگر تین رکعتیں رہ گئی ہوں تو پہلی رکعت پڑھنے کے بعد قعدہ کرے گا، پھر کھڑا ہوکر باقی دو رکعتیں پوری کرے گا اور آخر میں قعدہ کرے گا۔
پوچھی گئی صورت میں اگر تین رکعتیں رہ جانے کی صورت میں آپ نے پہلی رکعت کے بعد قعدہ کیا ہے تو یہ حکمِ شرعی کے بالکل مطابق عمل کیا ہے، البتہ دو رکعتیں رہ جانے کی صورت میں اگر آپ نے پہلی رکعت کے بعد قعدہ کیا ہے تو یہ غیر محل میں قعدہ واقع ہوا ہے، جس کی وجہ سے سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے، لیکن ایسی صورت میں اگر سجدۂ سہو نہیں کیا جائے تو نماز کا اعادہ وقت کے اندر واجب ہوتا ہے، جبکہ وقت گزرنے کے بعد اعادہ واجب نہیں رہتا۔
لہٰذا جن سابقہ نمازوں میں آپ سے یہ غلطی ہوئی تھی اور اب ان نمازوں کے اوقات گزر چکے ہیں، ان نمازوں کو دوبارہ پڑھنا یا ان کی قضا کرنا ضروری نہیں ہے، البتہ سابقہ غلطی پر استغفار کریں اور آئندہ اس مسئلے کا خیال رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (596/1)
''وفي الفيض عن المستصفى: لو أدركه في ركعة الرباعي يقضي ركعتين بفاتحة وسورة، ثم يتشهد، ثم يأتي بالثالثة بفاتحة خاصة عند أبي حنيفة. وقالا: ركعة بفاتحة وسورة وتشهد، ثم ركعتين أولاهما بفاتحة وسورة، وثانيتهما بفاتحة خاصة اه. وظاهر كلامهم اعتماد قول محمد''.
و فیه ایضا: (596/1)
ويقضي أول صلاته في حق قراءة وآخرها في حق تشهد۔
وفیه ایضاً: (469/1، ط: دار الفکر)
وكذا القعدة في آخر الركعة الأولى أو الثالثة فيجب تركها، ويلزم من فعلها أيضا تأخير القيام إلى الثانية أو الرابعة عن محله، وهذا إذا كانت القعدة طويلة، أما الجلسة الخفيفة التي استحبها الشافعي فتركها غير واجب عندنا، بل هو الأفضل كما سيأتي وهكذا كل زيادة بين فرضين يكون فيها ترك واجب بسبب تلك الزيادة؛ ويلزم منها ترك واجب آخر وهو تأخير الفرض الثاني عن محله.
و فیه ایضا: (457/1، ط: سعید)
تنبیه: قید في البحر في باب قضاء الفوائت وجوب الإعادة في أداء الصلاة مع کراہة التحریم بما قبل خروج الوقت، أما بعدہ فتستحب․
و فيه أيضاً: (596/1)
(والمسبوق من سبقه الإمام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثني ويتعوذ ويقرأ، وإن قرأ مع الإمام لعدم الاعتداد بها لكراهتها مفتاح السعادة (فيما يقضيه) أي بعد متابعته لإمامه، فلو قبلها فالأظهر الفساد، ويقضي أول صلاته في حق قراءة، وآخرها في حق تشهد؛ فمدرك ركعة
(قوله والمسبوق من سبقه الإمام بها) أي بكل الركعات، بأن اقتدى به بعد ركوع الأخيرة، وقوله أو ببعضها: أي بعض الركعات (قوله حتى يثني إلخ) تفريع على قوله منفرد فيما يقضيه بعد فراغ إمامه، فيأتي بالثناء والتعوذ لأنه للقراءة ويقرأ لأنه يقضي أول صلاته في حق القراءة كما يأتي؛ حتى لو ترك القراءة فسدت. ومن أحكامه أيضا ما مر من أنه لو حاذته. مسبوقة معه في قضاء ما سبقا به لا تفسد صلاته، وأنه يتغير فرضه بنية الإقامة، ويلزمه السجود إذا سها فيما يقضيه كما يأتي، وغير ذلك مما يأتي متنا وشرحا؛ وقد أوضح أحكامه في البحر في الباب الآتي.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی