سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! موٹروے ایم ون (M1) پر سفر کے دوران ایک ریسٹ ایریا کی مسجد میں یہ نوٹس آویزاں تھا کہ امام مقامی (مقیم) ہے، اس لیے تمام مسافر حضرات مکمل نماز ادا کریں۔
براہِ کرم سنت و حدیث کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں کہ اگر دورانِ سفر امام مقیم ہو تو مسافر حضرات اس کے پیچھے نماز کس طرح ادا کریں گے؟ کیا انہیں بھی پوری نماز ادا کرنا ضروری ہے، یا وہ قصر نماز ادا کر سکتے ہیں؟ نیز اگر امام مقیم نہ ہو بلکہ مسافر ہو تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟
جواب: 1) واضح رہے کہ اگر امام مقیم ہو اور مقتدی شرعی مسافر ہوں تو مسافر مقتدی کے لیے مقیم امام کی اقتدا میں فرض نماز مکمل ادا کرنا لازم ہے، یعنی ظہر، عصر اور عشاء کے فرض چار رکعت ادا کریں گے، دو رکعت پر سلام پھیر کر نماز ختم نہیں کریں گے، اس لیے کہ مسافر جب مقیم امام کی اقتدا میں نماز ادا کرتا ہے تو اس پر پوری نماز ادا کرنا لازم ہوتا ہے۔
2) اگر امام مسافر ہو تو وہ ظہر، عصر اور عشاء کے فرض دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دے گا، اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے مقیم مقتدی امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑے ہوکر اپنی بقیہ دو رکعتیں مکمل کریں گے، البتہ مسافر مقتدی امام کے ساتھ ہی دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الهداية: (81/1، ط: دار احیاء التراث العربی)*
وإن اقتدى المسافر بالمقيم في الوقت أتم أربعا " لأنه يتغير فرضه إلى أربع للتبعية كما يتغير بنية الإقامة لاتصال المغير بالسبب وهو الوقت.
*العناية شرح الهداية: (433/1، ط: دار الكتب العلمية)*
وعلى هذا إذا اقتدى مسافر بمقيم في الوقت ( أتم ) صلاته ( أربعا لأنه ) التزم المتابعة لمن فرضه الأربع ، ومن التزم المتابعة لمن فرضه أربع ( يتغير فرضه إلى أربع للتبعية كما يتغير بنية الإقامة).
*الهداية: (81/1، ط: دار احياء التراث العربي)*
وإن صلى المسافر بالمقيمين ركعتين سلم وأتم المقيمون صلاتهم " لأن المقتدي التزم الموافقة في الركعتين فينفرد في الباقي كالمسبوق إلا أنه لا يقرأ في الأصح لأنه مقتد تحريمة لا فعلا والفرض صار مؤدى فيتركها احتياطا بخلاف المسبوق لأنه أدرك قراءة نافلة فلم يتأد الفرض فكان الإتيان أولى.
*الدر المختار مع رد المحتار: (باب صلاة المسافر، 129/2، ط: دار الفکر)*
(وصح اقتداء المقيم بالمسافر في الوقت وبعده فاذا قام ) المقيم (الي الاتمام لايقرأ) ولا يسجد للسهو (في الاصح) لانه كلاحق.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی