سوال:
امام صاحب نے مغرب کی نماز میں قرات سرا کی، سلام پھیرنے کے بعد لوگوں نے بتایا کہ آپ نے قرآت سرا کی ہے تو پھر اس نے دوبارہ تین رکعات اور پڑھائی تو اب پہلے والی تین رکعات کا کیا حکم ہوگا؟ کیا وہ لغو باطل شمار ہوں گی یا نفل شمار ہوں گی؟ اگر نفل ہوں گی تو تین رکعات نفل کا کیا حکم ہوگا؟ براۓ کرم رہنمائی فرمائیں
جواب: واضح رہے کہ مغرب کی نماز میں اگر امام صاحب نے جہری قراءت کے بجائے سری قراءت کی ہو اور آخر میں سجدۂ سہو بھی نہ کیا ہو تو نماز کا وقت باقی رہنے تک اس کا اعادہ واجب ہوتا ہے اور اعادے کی صورت میں دوبارہ پڑھی جانے والی نماز پہلی نماز میں ترکِ واجب کی وجہ سے پیدا ہونے والے نقص کی تلافی کے لیے ہوتی ہے، جبکہ فرضیت پہلی نماز ہی سے ادا ہو جاتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں پہلی مرتبہ پڑھی جانے والی تین رکعات نہ نفل ہیں اور نہ باطل، بلکہ فرض نماز شمار ہوں گی، اور بعد میں دوبارہ پڑھی جانے والی تین رکعات پہلی نماز کے نقص کی تلافی کے لیے ہوں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (457/1، ط: دار الفکر)
(قَوْلُهُ وَالْمُخْتَارُ أَنَّهُ) أَيْ الْفِعْلَ الثَّانِيَ جَابِرٌ لِلْأَوَّلِ بِمَنْزِلَةِ الْجَبْرِ بِسُجُودِ السَّهْوِ وَبِالْأَوَّلِ يَخْرُجُ عَنْ الْعُهْدَةِ وَإِنْ كَانَ عَلَى وَجْهِ الْكَرَاهَةِ عَلَى الْأَصَحِّ، كَذَا فِي شَرْحِ الْأَكْمَلِ عَلَى أُصُولِ الْبَزْدَوِيِّ.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: (ص: 248، ط: دار الکتب العلمیة)
والمختار أن المعادة لترك واجب نفل جابر والفرض سقط بالأولى لأن الفرض لا يتكرر كما في الدر.
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی