سوال:
سوال نمبر 1: ہمارا ایک صنعتی ادارہ (فیکٹری) شہر کے مرکزی علاقے میں مین روڈ پر واقع ہے، جہاں تقریباً 180 سے 200 ملازمین کام کرتے ہیں۔ فیکٹری میں پانچوں وقت کی فرض نمازیں باقاعدہ جماعت کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں، تاہم نمازِ جمعہ کے حوالے سے ہمیں درج ذیل عملی مشکلات کا سامنا ہے: فیکٹری سے تقریباً تین سے چار منٹ کی پیدل مسافت پر دو جامع مساجد موجود ہیں، جبکہ ایک مسجد تقریباً دس منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے۔
جمعہ کے دن نماز کے وقت فیکٹری کا کام روک کر تمام ملازمین کو قریبی مساجد میں بھیجنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
ملازمین کی تعداد زیادہ ہونے اور مساجد میں نمازیوں کا غیر معمولی رش ہونے کی وجہ سے اکثر ملازمین کو مسجد میں جگہ نہیں ملتی، حتیٰ کہ بعض اوقات مسجد کے باہر بھی نماز ادا کرنے کی مناسب جگہ میسر نہیں ہوتی،فیکٹری سے وضو کرکے جانے کے باوجود مسجد میں جگہ نہ ملنے کا اندیشہ رہتا ہے، جبکہ مساجد میں وضو کی سہولیات بھی محدود ہیں۔
نماز کے لیے کام روکنے اور ملازمین کو باہر بھیجنے کے نتیجے میں بعض ملازمین نماز کی ادائیگی کے بجائے ادھر اُدھر چلے جاتے ہیں اور نمازِ جمعہ ترک کر دیتے ہیں، جس سے ان کی دینی ذمہ داری اور ادارے کے نظم و ضبط دونوں کے حوالے سے تشویش پیدا ہوتی ہے۔
فیکٹری میں اتنی گنجائش موجود ہے کہ 180 سے 200 ملازمین کے لیے نمازِ جمعہ کا باقاعدہ انتظام کیا جا سکے۔
سوال یہ ہے کہ: کیا مذکورہ حالات میں فیکٹری کے اندر نمازِ جمعہ کی مستقل جماعت قائم کرنا شرعاً جائز ہے، جبکہ قریبی جامع مساجد بھی موجود ہیں؟
کیا مساجد میں جگہ کی تنگی، وضو کی دشواری، کاروباری نقصان اور ملازمین کے نماز ترک کرنے جیسے اسباب فیکٹری میں جمعہ قائم کرنے کے لیے شرعی عذر شمار ہو سکتے ہیں؟
اگر فیکٹری میں جمعہ قائم کرنے کی اجازت ہو تو اس کے لیے شرعی شرائط کیا ہوں گی؟ مثلاً خطبہ، جماعت، اجازتِ عامہ، مسجد سے تعلق اور دیگر ضروری امور؟ کیا فیکٹری میں جمعہ قائم کرنے کے باوجود ملازمین کے لیے قریبی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنا ضروری ہوگا، یا وہ فیکٹری کی جماعت میں شریک ہو سکتے ہیں؟
سوال نمبر 2: ہماری فیکٹری شہر کے مرکزی علاقے میں مین روڈ پر واقع ہے۔ فیکٹری سے تقریباً تین سے چار منٹ کی پیدل مسافت پر دو مساجد موجود ہیں، جبکہ ایک مسجد تقریباً دس منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہے،فیکٹری میں تقریباً 180 سے 200 ملازمین کام کرتے ہیں اور پانچوں وقت کی فرض نمازیں باقاعدہ جماعت کے ساتھ فیکٹری کے اندر ہی ادا کی جاتی ہیں۔ نمازوں کے لیے فیکٹری میں باقاعدہ جگہ مختص ہے اور جماعت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ: جب فیکٹری کے قریب مساجد موجود ہوں اور وہاں سے اذان کی آواز بھی پہنچتی ہو، تو کیا فیکٹری میں قائم ہونے والی جماعت کے لیے الگ سے اذان دینا شرعاً ضروری ہے؟
اگر قریبی مسجد کی اذان سنائی نہ دیتی ہو یا فیکٹری کے اندر اذان کی آواز نہ پہنچتی ہو، تو کیا حکم مختلف ہوگا؟ کیا فیکٹری میں جماعت کے لیے صرف اقامت (تکبیر) کہنا کافی ہے، یا اذان اور اقامت دونوں کا اہتمام کرنا چاہیے؟
اگر فیکٹری میں اذان نہ دی جائے اور صرف اقامت کے ساتھ جماعت ادا کی جائے تو کیا نماز درست ہو جائے گی؟ اور کیا اس صورت میں ترکِ اذان کی وجہ سے کوئی شرعی کراہت یا گناہ لازم آئے گا؟
کیا فیکٹری میں اذان دینے کا حکم اس بات پر بھی منحصر ہے کہ فیکٹری کی جماعت مسجد کی جماعت سے پہلے قائم ہو رہی ہے یا بعد میں؟
براہِ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کا تفصیلی حکم بیان فرمائیں، تاکہ ادارے میں نمازوں کے نظام کو شرعی اصولوں کے مطابق منظم کیا جا سکے۔
جواب: 1) سوال میں پوچھی گئی صورت میں مذکورہ فیکٹری (جو کہ شہر کے اندر واقع ہے) میں جمعہ قائم کرنا جائز ہے، البتہ مسجدِ شرعی جا کر جمعہ ادا کرنے کا ثواب بہرحال زیادہ ہوگا۔ جمعہ ادا کرنے کے لیے امام کے علاوہ کم ازکم مزید تین افراد کا ہونا ضروری ہے، نیز جمعہ کی صحت کے لیے اذنِ عام بھی شرط ہے، البتہ اگر سکیورٹی وجوہات کے بناپر باہر سے مزید نمازی نہ آسکتے ہوں تو پھر یہ اذنِ عام کے خلاف نہ ہوگا۔
نمازِ جمعہ کا طریقہ اور شرائط کی تفصیل کے لیے دارالافتاء الاخلاص کراچی کا سابقہ فتویٰ (https://alikhlasonline.com/detail.aspx?id=22492) ملاحظہ فرمائیں۔
2) واضح رہے کہ نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنا سنَّتِ مؤکَّدہ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ اگر محلہ کی قریبی مسجد میں اذان ہو جائے تو چونکہ یہ اذان پورے اہل محلہ کی طرف سے کافی ہوتی ہے، اس صورت میں محلہ میں اگر کسی اور جگہ جماعت کرائی جائے تو اذان کہنا ضروری نہیں، صرف اقامت کہہ کر نماز پڑھنے سے نماز بلا کراہت ادا ہو جائے گی۔
پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کی فیکٹری میں نماز باجماعت محلہ کی مسجد کی اذان سے پہلے قائم ہوتی ہو تو اس صورت میں اذان اور اقامت دونوں کے بغیر فیکٹری میں نماز پڑھنا مکروہ ہوگا، البتہ اگر صرف اقامت کہہ دی جائے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن اگر فیکٹری کی جماعت سے پہلے مسجد میں اذان ہو جاتی ہے تو پھر فیکٹری میں دوبار اذان دینا ضروری نہیں، البتہ اس صورت میں بھی مستحب یہ ہے کہ باقاعدہ اذان اور اقامت کے ساتھ جماعت قائم کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدر المختار: (137/2- 152، دار الفكر)*
(وَيُشْتَرَطُ لِصِحَّتِهَا) سَبْعَةُ أَشْيَاءَ:
الْأَوَّلُ: (الْمِصْرُ وَهُوَ مَا لَا يَسَعُ أَكْبَرُ مَسَاجِدِهِ أَهْلَهُ الْمُكَلَّفِينَ بِهَا) وَعَلَيْهِ فَتْوَى أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ مُجْتَبًى لِظُهُورِ التَّوَانِي فِي الْأَحْكَامِ وَظَاهِرُ الْمَذْهَبِ أَنَّهُ كُلُّ مَوْضِعٍ لَهُ أَمِيرٌ وَقَاضٍ يَقْدِرُ عَلَى إقَامَةِ الْحُدُودِ كَمَا حَرَّرْنَاهُ فِيمَا عَلَّقْنَاهُ عَلَى الْمُلْتَقَى... (وَ) الثَّانِي: (السُّلْطَانُ) وَلَوْ مُتَغَلِّبًا ... (وَ) الثَّالِثُ (وَقْتُ الظُّهْرِ فَتَبْطُلُ) الْجُمُعَةُ (بِخُرُوجِهِ) مُطْلَقًا وَلَوْ لَاحِقًا بِعُذْرِ نَوْمٍ أَوْ زَحْمَةٍ عَلَى الْمَذْهَبِ لِأَنَّ الْوَقْتَ شَرْطُ الْأَدَاءِ لَا شَرْطُ الِافْتِتَاحِ. (وَ) الرَّابِعُ: (الْخُطْبَةُ فِيهِ) فَلَوْ خَطَبَ قَبْلَهُ وَصَلَّى فِيهِ لَمْ تَصِحَّ. (وَ) الْخَامِسُ: (كَوْنُهَا قَبْلَهَا) لِأَنَّ شَرْطَ الشَّيْءِ سَابِقٌ عَلَيْهِ (بِحَضْرَةِ جَمَاعَةٍ تَنْعَقِدُ) الْجُمُعَةُ (بِهِمْ وَلَوْ) كَانُوا (صُمًّا أَوْ نِيَامًا فَلَوْ خَطَبَ وَحْدَهُ لَمْ يَجُزْ عَلَى الْأَصَحِّ) كَمَا فِي الْبَحْرِ عَنْ الظَّهِيرِيَّةِ... (وَ) السَّادِسُ: (الْجَمَاعَةُ) وَأَقَلُّهَا ثَلَاثَةُ رِجَالٍ (وَلَوْ غَيْرَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ حَضَرُوا) الْخُطْبَةَ (سِوَى الْإِمَامِ) بِالنَّصِّ لِأَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ الذَّاكِرِ وَهُوَ الْخَطِيبُ وَثَلَاثَةٌ سِوَاهُ بِنَصِّ - {فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ} [الجمعة: ٩]- .... (وَ) السَّابِعُ: *(الْإِذْنُ الْعَامُّ) مِنْ الْإِمَامِ، وَهُوَ يَحْصُلُ بِفَتْحِ أَبْوَابِ الْجَامِعِ لِلْوَارِدِينَ كَافِي فَلَا يَضُرُّ غَلْقُ بَابِ الْقَلْعَةِ لِعَدُوٍّ أَوْ لِعَادَةٍ قَدِيمَةٍ لِأَنَّ الْإِذْنَ الْعَامَّ مُقَرَّرٌ لِأَهْلِهِ وَغَلْقُهُ لِمَنْعِ الْعَدُوِّ لَا الْمُصَلِّي، نَعَمْ لَوْ لَمْ يُغْلَقْ لَكَانَ أَحْسَنَ*.
*وفیه ایضاً: (384/1، ط: دارالفکر)*
وهو سنة للرجال في مكان عال (مؤكدة) هي كالواجب في لحوق الإثم (للفرائض) الخمس (في وقتها ولو قضاء) لأنه سنة للصلاة۔
*وفيه أيضاً: (395/1، ط: دارالفکر)*
(وكره تركهما) معًا (لمسافر) ولو منفردًا (وكذا تركها) لا تركه لحضور الرفقة (بخلاف مصل) ولو بجماعة (وفي بيته بمصر) أو قرية لها مسجد؛ فلايكره تركهما إذ أذان الحي يكفيه"....(قوله: إذ أذان الحي يكفيه) لأن أذان المحلة وإقامتها كأذانه وإقامته؛ لأن المؤذن نائب أهل المصر كلهم كما يشير إليه ابن مسعود حين صلى بعلقمة والأسود بغير أذان ولا إقامة، حيث قال: أذان الحي يكفينا۔
*الھدایة: (کتاب الصلاة، باب الأذان، 74/1)*
فإن صلی في بیتہ في المصر یصلي بأذان وإقامة لیکون الأداء علی ہیئة الجماعة وإن ترکہما جاز․
*الھندیۃ: (44/1، ط: دارالفکر بیروت)*
ويكره أداء المكتوبة بالجماعة في المسجد بغير أذان وإقامة. كذا في فتاوى قاضي خان ولا يكره تركهما لمن يصلي في المصر إذا وجد في المحلة ولا فرق بين الواحد والجماعة. هكذا في التبيين والأفضل أن يصلي بالأذان والإقامة كذا في التمرتاشي وإذا لم يؤذن في تلك المحلة يكره له تركهما ولو ترك الأذان وحده لا يكره كذا في المحيط ولو ترك الإقامة يكره. كذا في التمرتاشي۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی