سوال:
مفتی صاحب! ایک 22 سالہ حافظِ قرآن کو گزشتہ دو سے تین سال کے دوران نیند سے بیدار ہونے پر کبھی کبھار کپڑوں یا جسم پر گیلا پن محسوس ہوتا رہا۔ غسلِ جنابت کے احکام سے ناواقف ہونے کی وجہ سے وہ اسے پیشاب سمجھ کر متاثرہ جگہ دھو لیتا، وضو کرکے نماز پڑھ لیتا تھا، اس دوران بعض اوقات اس نے مسجد میں امامت بھی کروائی، اب اسے معلوم ہوا ہے کہ بعض صورتوں میں احتلام کی وجہ سے غسل فرض ہوتا ہے، لیکن اسے یاد نہیں کہ کتنی مرتبہ ایسا ہوا اور کن مواقع پر غسل فرض تھا۔
دریافت طلب امور یہ ہیں:
1) نیند سے بیدار ہونے پر گیلا پن محسوس ہونے کی صورت میں غسل کب فرض ہوتا ہے؟
2) سابقہ نمازوں کی قضا لازم ہے یا نہیں؟ اگر لازم ہے تو تعداد کا تعین کیسے ہوگا؟
3) اس کی اقتدا میں نماز پڑھنے والے مقتدیوں کی نمازوں کا کیا حکم ہے؟
4) لاعلمی کی وجہ سے ہونے والی کوتاہی کے متعلق شرعی ذمہ داری کیا ہے؟
جواب: واضح رہے کہ نیند سے بیداری کے بعد کپڑوں پر جو دھبہ نظر آئے، اس کے بارے میں اگر یقین ہو کہ وہ منی نہیں ہے، پھر اگر وہ دھبہ ودی کا ہے تو غسلِ جنابت واجب نہیں ہوتا، چاہے خواب یاد ہو یا نہ ہو۔ اگر وہ دھبہ مذی کا ہے اور خواب بھی یاد ہو تو غسلِ جنابت واجب ہوگا اور اگر خواب یاد نہ ہو تو غسلِ جنابت واجب نہیں ہوگا۔ اگر اس دھبے کے بارے میں مذی یا ودی کا شک ہو، یا منی، مذی اور ودی کا شک ہو، لیکن خواب یاد ہو تو ان تمام صورتوں میں غسلِ جنابت واجب ہوگا اور اگر صرف مذی اور ودی کا شک ہو، لیکن خواب یاد نہ ہو تو غسلِ جنابت واجب نہیں ہوگا۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ تفصیل کی روشنی میں حکم معلوم کرلیا جائے کہ کن مواقع پر غسلِ جنابت واجب تھا۔ جن مواقع پر غسل واجب تھا اور غسل کیے بغیر نمازیں ادا کی گئی تھیں، ان نمازوں کی قضا لازم ہوگی، چونکہ صحیح تعداد یاد نہیں ہے، اس لیے غالب گمان کے مطابق محتاط اندازہ کرکے ان نمازوں کی قضا ادا کی جائے۔
اسی طرح جن نمازوں میں غسل فرض ہونے کے باوجود امامت کروائی گئی تھی، ان مقتدیوں کی نمازیں بھی درست نہیں ہوئیں، لہٰذا ان مقتدیوں کو بھی جہاں تک ممکن ہو، اطلاع دی جائے تاکہ وہ اپنی نمازوں کا اعادہ کرلیں۔ نیز سابقہ کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کیا جائے اور آئندہ طہارت کے ضروری احکام سیکھنے کا اہتمام کیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*
*رد المحتار: (163/1، ط: دار الفكر)*
اعلم أن هذه المسألة على أربعة عشر وجها؛ لأنه إما أن يعلم أنه مني أو مذي أو ودي أو شك في الأولين أو في الطرفين أو في الأخيرين أو في الثلاثة، وعلى كل إما أن يتذكر احتلاما أو لا فيجب الغسل اتفاقا في سبع صور منها وهي ما إذا علم أنه مذي، أو شك في الأولين أو في الطرفين أو في الأخيرين أو في الثلاثة مع تذكر الاحتلام فيها، أو علم أنه مني مطلقا، ولا يجب اتفاقا فيما إذا علم أنه ودي مطلقا، وفيما إذا علم أنه مذي أو شك في الأخيرين مع عدم تذكر الاحتلام؛ ويجب عندهما فيما إذا شك في الأولين أو في الطرفين أو في الثلاثة احتياطا، ولا يجب عند أبي يوسف للشك في وجود الموجب، واعلم أن صاحب البحر ذكر اثنتي عشرة صورة وزدت الشك في الثلاثة تذكر أولا أخذا من عبارته. اه. ح. أقول: إذا عرفت هذا فاعلم أن المصنف اقتصر على بعض الصور، ولا يلزم أن يكون ما سكت عنه مخالفا في الحكم لما ذكره كما لا يخفى فافهم، نعم قوله أو مذيا يقتضي أنه إذا علم أنه مذي ولم يتذكر احتلاما يجب الغسل وقد علمت خلافه. وعبارة النقاية كعبارة المصنف، وأشار القهستاني إلى الجواب حيث فسر قوله أو مذيا بقوله أي شيئا شك فيه أنه مني أو مذي؛ لأنا لا نوجب الغسل بالمذي أصلا بل بالمني، إلا أنه قد يرق بإطالة الزمان، فالمراد ما صورته صورة المذي لا حقيقته كما في الخلاصة اه فليس فيه مخالفة لما تقدم فافهم.
*الفتاوی الھندیۃ: (14/1)*
"وان استیقظ الرجل ووجد علی فراشہ او فخذہ بللا وھو یتذکر احتلاما ان تیقن انہ منی أو تیقن أنہ مذی أو شک انہ منی أو مذی فعلیہ الغسل وان تیقن انہ ودی لاغسل علیہ وان رأی بللا الا انہ لم یتذکر الاحتلام فان تیقن انہ ودی لا یجب الغسل وان تیقن أنہ منی یجب الغسل".
*الدر المختار: (592/1، ط: دار الفكر)*
(وإذا ظهر حدث إمامه) وكذا كل مفسد في رأي مقتد (بطلت فيلزم إعادتها) لتضمنها صلاة المؤتم صحة وفسادا (كما يلزم الإمام إخبار القوم إذا أمهم وهو محدث أو جنب) أو فاقد شرط أو ركن. وهل عليهم إعادتها إن عدلا، نعم وإلا ندبت، وقيل لا لفسقه باعترافه؛ ولو زعم أنه كافر لم يقبل منه لأن الصلاة دليل الإسلام وأجبر عليه (بالقدر الممكن) بلسانه أو (بكتاب أو رسول على الأصح) لو معينين وإلا لا يلزمه بحر عن المعراج وصحح في مجمع الفتاوى عدمه مطلقا لكونه عن خطأ معفو عنه، لكن الشروح مرجحة على الفتاوى.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی