resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: فرض نماز کی ایک رکعت میں تین سجدے کرنے کا حکم

(67255-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب!عصر کی نماز میں ہمارے امام صاحب نے لاعلمی میں آخری رکعت میں تین سجدے کر لیے، مقتدیوں میں سے کسی نے بھی انہیں سبحان اللہ کہہ کر متنبہ نہیں کیا، تاکہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا، اس طرح امام صاحب نے نماز مکمل کر لی اور دعا بھی کروا دی۔
کچھ دیر بعد ایک شخص نے امام صاحب کو بتایا کہ آپ نے آخری رکعت میں تین سجدے کیے تھے تو امام صاحب نے کہا کہ نماز درست ہے۔
اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ کیا ہماری نماز درست ہو گئی ہے یا ہمیں نماز دوبارہ پڑھنی ہوگی؟ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ نماز کی ایک رکعت میں دو سجدے کرنا فرض ہیں۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر امام صاحب نے ایک رکعت میں غلطی سے تین سجدے کر لیے تھے تو اس غلطی کے ازالہ کے لیے ان کے ذمہ سجدہ سہو کرنا واجب تھا، اب اگر انہوں نے آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کیا تو وقت گزرنے سے پہلے پہلے اس نماز کا اعادہ کرنا واجب تھا، اور اب وقت گزرنے کے بعد اس نماز کا اعادہ کرنا مستحب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*الدلائل:*

*البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 105، ط: دارالمعرفة):*
"وقد اقتصر المصنف على هذه الواجبات في باب صفة الصلاة وبقي واجب آخر وهو عدم تأخير الفرض والواجب وعدم تغييرهما وعليه تفرع مسائل منها لو ركع ركوعين أو سجد ثلاثا في ركعة لزمه السجود لتأخير الفرض *وهو السجود في الأول والقيام في الثاني".

*حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 440، ط: دارالکتب العلمیة):*
"كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوباً في الوقت، وأما بعده فندب ". فقط

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)