سوال:
میں نے ایک حدیث سنی ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ "جس شخص کی دنیا ہی سب سے بڑی فکر اور مقصد ہو، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو منتشر کر دیتا ہے، اور اس کی محتاجی اس کی آنکھوں کے سامنے رہتی ہے، اور اسے دنیا میں سے صرف اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس کے لیے لکھا گیا ہے۔ اور جس شخص کی آخرت اس کی نیت اور مقصد ہو، اللہ تعالیٰ اس کے معاملات کو جمع کر دیتا ہے، اس کے دل میں بے نیازی اور اطمینان پیدا کر دیتا ہے، اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آتی ہے۔"
براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرما دیں:
1) اس حدیث کے اصل عربی الفاظ کیا ہیں؟
2) یہ حدیث کن کتبِ حدیث میں موجود ہے اور اس کا مکمل حوالہ (کتاب، باب اور حدیث نمبر) کیا ہے؟
3) کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ محدثین نے اس کی صحت کے بارے میں کیا حکم لگایا ہے؟
4) حدیث میں "جس کی دنیا ہی فکر ہو" اور "جس کی آخرت نیت ہو" سے کیا مراد ہے؟
5) کیا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان دنیاوی ضروریات، روزگار، کاروبار، تعلیم، اہل و عیال وغیرہ کی فکر چھوڑ دے؟یا دنیاوی کام کرتے ہوئے آخرت کو اپنا اصل مقصد بنانا مراد ہے؟
6) اگر ممکن ہو تو اس حدیث کی معتبر علماء کی تشریحات بھی بیان فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: سوال میں مختلف امور پوچھے گئے ہیں، جن کو ذیل میں ترتیب وار ذکر کیا جاتا ہے:
(1)پوچھی گئی روایت کے عربی کلمات کتبِ حدیث میں یوں منقول ہیں: من كانت الدنيا همه، فرق الله عليه أمره، وجعل فقره بين عينيه، ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت الآخرة نيته، جمع الله له أمره، وجعل غناه في قلبه، وأتته الدنيا وهي راغمة.
(2) ذکر کردہ روایت کو متعدد محدّثین عظام رحمہم اللہ نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے، جن میں امام ابن ماجہ، ابن حبان، حافظ منذری سرفہرست ہیں۔ حوالہ ملاحظہ ہو:
(الف) سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط، لأبي عبد الله محمد بن يزيد بن ماجة القزويني (209 - 273 هـ)، أبواب الزهد، باب الهمّ بالدنیا، 227/5، المحقق: شعيب الأرنؤوط [ت 1438 هـ]، الناشر: دار الرسالة العالمية
(باء) صحيح ابن حبان: المسند الصحيح على التقاسيم والأنواع ، لأبي حاتم محمد بن حبان بن أحمد التميمي البُستي (ت 354 هـ)، القسم الثالث من السنن، النوع التاسع، ذكر وصف الغنى، 385/4، المحقق: محمد علي سونمز، خالص آي دمير، الناشر: دار ابن حزم – بيروت
(جیم) الترغيب والترهيب ، لعبد العظيم زكي الدين المنذري (ت 656 ھ)، كتاب الْعلم التَّرْغِيب فِي الْعلم وَطَلَبه وتعلمه وتعليمه وَمَا جَاءَ فِي فضل، 61/1، المحقق: إبراهيم شمس الدين، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت
(3) پوچھی گئی روایت کی سند میں موجود تمام راویوں کے معتبر ہونے اور مختلف طرق و روایات سے تائید ملنے کی وجہ سے روایت مستند ہے، جس کی بناء پر اس کو آگے نقل کرنا درست ہے، چنانچہ اس بات کی تصریح علامہ بوصیری شافعی اور علامہ سندھی رحمہما اللہ دونوں حضرات نے شرح کرتے وقت فرمائی ہے۔
(4) حدیث میں موجود جملہ" جس کی دنیا ہی فکر ہو" کا مفہوم یہ ہے کہ وہ شخص دنیا ہی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا مقصد، اصل مطلوب اور ہر کام کی غایت سمجھ بیٹھا ہو، چنانچہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ مال کا حصول، شہرت طلبی، لوگوں پر برتری اور خواہشات کی تکمیل کی خاطر وہ دین، اخلاق، حلال وحرام اور آخرت کو نظر انداز کر بیٹھا ہو۔دوسرے جملے "جس کی آخرت نیت ہو"کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہو، جس میں وہ اپنے دنیوی حلال راستوں مثلاً: ملازمت، کاروبار، کسبِ حلال، اہل وعیال کی ضروریات کی تکمیل وغیرہ سمیت امور کو درست نیت کے ساتھ اللہ کی رضا کو مقصود بناکر پورا کررہا ہو۔
(5) گزشتہ جزئیہ کے جواب سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام رہبانیت یا دنیا سے مکمل کنارہ کشی کی تعلیم ہرگز نہیں دیتا ، بلکہ دنیا کو دل پر غالب کرنے سے روکتا ہے، چنانچہ دنیوی ضروریات مثلاً: روزگار، کاروبار، تعلیم ، اہل وعیال کی خبر گیری کرنے سمیت اللہ کی رضا اور آخرت مقصود ہو، ان دونوں امر (دنیوی ضرورت کی تکمیل اور آخرت کی فکر)کو احسن طریقے سے جمع کرنا یہی مسلمان کے شایانِ شان ہے۔
(6) سنن ابن ماجہ کے مشہور شارح علامہ سندھی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ انسان کے لئے مقرر کردہ رزق اس کو لامحالہ مل کر رہتا ہے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ آخرت کے امیدوار کے پاس اکثر وبیشتر دنیا کا حصول بغیر مشقت ہوتا ہے، کیونکہ اس کے سامنے آخرت کی فکر کے مقابلہ میں دنیاوی تکالیف معمولی ہوتی ہیں، جبکہ ہر وقت دنیا کی محبت میں گرفتار محنت ومشقت کے بعد ہی اس کو حاصل کرپاتا ہے، چونکہ آخرت کا امیدوار دنیاوی مال ومتاع سے دنیا کی زندگی میں راحت وسکون چاہتا ہے، جبکہ دنیاوی لذات کا خواہشمند اسی مال کی فکر میں خود کو تکلیف سے نڈھال کرکے بے چین زندگی بسر کرتا ہے اور اپنی دنیا وآخرت دونوں برباد کردیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل* :
*سنن ابن ماجه ت الأرنؤوط، لأبي عبد الله محمد بن يزيد بن ماجة القزويني (209 - 273 ه)، (أبواب الزهد، باب الهمّ بالدنیا، 227/5، المحقق: شعيب الأرنؤوط [ت 1438 ه]- عادل مرشد - محمَّد كامل قره بللي - عَبد اللّطيف حرز الله، الناشر: دار الرسالة العالمية):*
عن عبد الرحمن بن أبان بن عثمان بن عفان، يحدث عن أبيه، قال: خرج زيد بن ثابت من عند مروان بنصف النهار، قلت: ما بعث إليه هذه الساعة إلا لشيء يسأل عنه، فسألته، فقال: سألنا عن أشياء سمعناها من رسول الله ﷺ، سمعت رسول الله ﷺ ، يقول: «من كانت الدنيا همّه، فرق الله عليه أمره، وجعل فقره بين عينيه، ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت الآخرة نيته، جمع الله له أمره، وجعل غناه في قلبه، وأتته الدنيا وهي راغمة»
*صحيح ابن حبان: المسند الصحيح على التقاسيم والأنواع ، لأبي حاتم محمد بن حبان بن أحمد التميمي البُستي (ت 354 ه)، (القسم الثالث من السنن، النوع التاسع، ذكر وصف الغنى، 385/4، المحقق: محمد علي سونمز، خالص آي دمير، الناشر: دار ابن حزم – بيروت):*
عن عبد الرحمن بن أبان، يحدث عن أبيه قال: خرج زيد بن ثابت من عند مروان نصف النهار، قال: قلت: ما بعث إليه هذه الساعة إلا لشيء سأله عنه، فسألته، فقال: سألنا عن أشياء سمعناها من رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "نضر الله امرأ سمع منا حديثا فبلغه غيره، فربّ حامل فقه إلى من هو أفقه منه، ورب حامل فقه ليس بفقيه، ثلاث لا يغلّ عليهن قلب مسلم: إخلاص العمل لله، ومناصحة ولاة الأمر، ولزوم الجماعة، فإن دعوتهم تحيط من ورائهم، ومن كانت الدنيا نيته فرق الله عليه أمره، وجعل فقره بين عينيه، ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت الآخرة نيته جمع الله له أمره، وجعل غناه في قلبه، وأتته الدنيا، وهي راغمة".
*مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه، لأبي العباس شهاب الدين أحمد بن أبي بكر البوصيري الكناني الشافعي (ت 840ه)، (کتاب الزهد، باب الهم بالدنیا، 212/4، المحقق: محمد المنتقى الكشناوي، الناشر: دار العربية – بيروت):*
قولهﷺ : "من كانت الدنيا همه فرق الله عليه أمره وجعل فقره بين عينيه، ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له، ومن كانت الآخرة نيته جمع الله له أمره وجعل غناه في قلبه وأتته الدنيا وهي راغمة"۔
هذا إسناد صحيح، رجاله ثقات۔ رواه أبو داود الطيالسي عن شعبة رواه بنحوه ،ورواه الطبراني بإسناد لا بأس به، ورواه ابن حبان في "صحيحه" بنحوه، ورواه أبو يعلى الموصلي من طريق أبان بن عثمان عن زيد بن ثابت، وله شاهد من حديث أبي هريرة رواه الترمذي في "الجامع" و ابن ماجة۔
*حاشية السندي على سنن ابن ماجه = كفاية الحاجة في شرح سنن ابن ماجه، لمحمد بن عبد الهادي التتوي، أبو الحسن، نور الدين السندي (ت 1138ه)، (کتاب الزهد، باب الهم بالدنیا، 524/2، الناشر: دار الجيل - بيروت، بدون طبعة):*
قوله ﷺ :"أتته الدنيا وهي راغمة": أي: مقهورة، فالحاصل: أن ما كتب للعبد من الرزق يأتيه لا محالة، إلا أنه من طلب الآخرة يأتيه بلا تعب، ومن طلب الدنيا يأتيه بتعب وشدة، فطالب الآخرة قد جمع بين الدنيا والآخرة؛ فإن المطلوب من جمع المال الراحة في الدنيا، وقد حصلت لطالب الآخرة، وطالب الدنيا قد خسر الدنيا والآخرة؛ لأنه في الدنيا في التعب الشديد في طلبها۔ فأي فائدة له في المال إذا فاتت الراحة؟ وفي الزوائد إسناده صحيح، رجاله ثقات.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی