سوال:
میں نے سنا ہے کہ مردوں پر سونا، ریشم اور مخصوص جانوروں کی کھال حرام ہے، مگر کچھ دن قبل ابو داؤد شریف کی ایک روایت نظر سے گزری، جس کا مضمون یہ تھا کہ مذکورہ اشیاء حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھیں؟، معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا وہ ان چیزوں کو استعمال بھی فرماتے تھے؟ اس حوالہ سے مستند بات ذکر فرمادیں۔
جواب: واضح رہے کہ سوال میں پوچھی گئی مفصّل روایت اپنی سند کے لحاظ سے مضبوط ومعتبر ہے، لیکن روایت سے اس قدر بات ثابت ہوتی ہے کہ مذکورہ اشیاء ممنوعہ (سونا، ریشم، اور درندے کی کھال) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں موجود تھیں، جس کا انہوں نے خود بھی اعتراف کیا ہے، تاہم اس سے یہ بات ہر گز مفہوم نہیں ہوتی کہ وہ ان چیزوں کو ذاتی استعمال میں لاتے یا ان کے استعمال کو اپنے لئے درست سمجھتے تھے، کیونکہ ممکن ہے کہ سونا اور ریشم گھر کی خواتین کے استعمال میں ہوں، جبکہ درندے کی کھال قالین یا بچھونے وغیرہ کے طور پر گھر میں استعمال کی جاتی ہو، جس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے حلم وبردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامنے والے کی طرف سے جان بوجھ کر غصہ دلانے کی کوشش کا جواب نہ دیا ہو (جیسا کہ اس شخص نےاپنی گفتگو کا یہی مقصد صراحتاً ذکر بھی کیا ہے) چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ خاموشی اختیار کیے، محض تائید پر اکتفاء کرتے رہے اور بحث سے بچتے ہوئے اس کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا، کیونکہ اس معاملہ کا تعلق آخرت سے تھا، جس کا فیصلہ اللہ تعالی کے ہاں ہونا ہے۔
ان مذکورہ تاویلات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خود آپ رضی اللہ عنہ سے ہی ان چیزوں کی ممانعت سے متعلق واضح روایت منقول ہے، جس کو امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بھی مذکورہ روایت کے متصل بعد ذکر کیا اور مذکورہ روایت کے آغاز میں ہی صراحتاً فرمایا ہے کہ "وکان معاویة لایتهم في الحدیث" (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ روایتِ حدیث کے سلسلہ میں متّہم ہرگز نہیں تھے)۔ اگرچہ بعض لوگ ان پر یا ان کے گھر والوں پر کچھ نقد اور تبصرہ کرتے ہیں، لیکن ناقدین کاکوئی نقد ان پر روایت ِحدیث کے بارے میں نہ تھا، لہذا وہ باجود خلیفہ و بادشاہ ہونے کے روایتِ حدیث میں سب کے نزدیک معتبر ہی تھے۔ (الدر المنضود،افاداتِ درسیہ مع اضافات ونظرثانی : حضرت مولانا محمد عاقل ؒ صاحب، تلمیذِ رشید شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ، کتاب اللباس ، باب فی جلود النمور، 166/6، مکتبة الشیخ)
بہرحال ان برگزیدہ ہستیوں کے عمومی وخصوصی فضائل کو سامنے رکھتے ہوئے ان سے متعلق اس قسم کی روایات یا واقعات کو جس حد تک ممکن ہو درست محامل پر محمول کرنا چاہیے، یہی ان حضرات سے حسنِ ظن کا تقاضہ اور ایک مسلمان کے شایانِ شان ہے، باقی مذکورہ مفصّل روایت کا مضمون ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:
خالد بن معدان سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مقدام بن معدیکرب، عمرو بن الاسود اور ایک شخص اسدی قنسری کے رہنے والوں میں سے ایک وفد پہنچا۔ مجلس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مقدام کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "آپ کو بھی معلوم ہے کہ حسن بن علی کی وفات ہوگئی ہے؟ " اس پر حضرت مقدام نے اناللہ پڑھی تو ایک شخص نے کہا کہ (ممکن ہے کہ وہ تیسرا شخص اسدی اس بات کا کہنے والا ہو) : کیا تم اس بات کو مصیبت سمجھتے ہوبھلا؟ حضرت مقدام نے جواب دیا کہ میں اس کو کیوں آزمائش نہ سمجھوں، حالانکہ حضور ﷺ نے حضرت حسن کو گود میں اٹھائے ان کے بارے میں یوں فرمایا تھا کہ "یہ حسن مجھ سے ہے اور علی سے بھی ان کا تعلق ہے"۔
اس پر اسدی (تیسرے شخص ) نے کہا کہ ان کی وفات ہوئی تو کیا ہوا؟ ایک چنگاری تھی، جس کو اللہ تعالی نے بجھادیا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو اس پر خاموش رہے، مگر ان کی خاموشی حضرت مقدام کو ناگوار گزری، اس لئے وہ بول اٹھے کہ آج میں بھی اس وقت یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک میں تم (حضرت معاویہ) کو طیش نہ دلادوں اور ناگوار بات نہ سنادوں اور یہ کہہ کر دوبارہ بیٹھ گئے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "دیکھو، اگر میں سچ کہوں تو اس کی تصدیق کرنا اور اگر غلط بات کہوں تو اس کی تکذیب کرنا"۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حلم تو مشہور ہے، انہوں نے یہ بات سن کر فرمایا کہ ٹھیک ہے، میں ایسا ہی کروں گا اور پھر چند چیزیں جن سے حضورﷺ نے منع فرمایا ہے ان کے سامنے ذکر کیں،کہ کیا تم نے حضور ﷺ سے یہ سنی ہیں؟ وہ ہر ایک کے بارے میں بغیر کسی ناگواری کا اظہاری کیے فرماتے رہے کہ ہاں، میں نے حضور ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے۔ وہ امور یہ ہیں: (1) مردوں کے حق میں سونا پہننے کی ممانعت (2)مردوں کو ریشم پہننے کی ممانعت(3)درندے کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے کی ممانعت۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان سب کے بارے میں فرماتے رہے کہ ہاں، میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے، پھر اخیر میں حضرت مقدام نے حضرت معاویہ سے فرمایا کہ یہ سب ممنوع چیزیں تمہارے گھر میں دیکھی ہیں۔ اس پر معاویہ نے فرمایا کہ میں تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ آج میں تجھ سے نہیں بچوں گا اور تیری تنقید کا نشانہ بن کر رہوں گا۔
روایت کے ناقل خالد بن معدانؒ فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مقدام کے لئے اتنے بڑے ہدیہ کا حکم فرمایا جو ان کے دونوں ساتھیوں کے لئے نہیں فرمایا اور اس پر مزید ان کے صاحبزادے (جس کا نام یحیی ذکر کیا گیا ہے) اس کا وظیفہ ان لشکریوں میں لکھوایا جن کا وظیفہ دو سو تک تھا۔ بہرحال جو انعام حضرت مقدام کو دیا گیا وہ انہوں نے اپنے ساتھیوں پر تقسیم کردیا، اور (تیسرے) اسدی شخص، جس نے حضرت حسن سے متعلق سخت جملہ کہا تھا، اس نے حاصل کردہ انعام میں سے کسی کو کچھ نہیں دیا۔ جب یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے حضرت مقدام سے متعلق تعریفی کلمات کہے کہ" مقدام بڑے شریف اور سخی ہیں، ان کا ہاتھ بخشش کے لئے کھلا ہے"۔ اور اسدی (تیسرے شخص )کے بارے میں فرمایا کہ " وہ تو بہت بخیل انسان ہے"۔ (معمولی ترمیم کے ساتھ بحوالہ : الدر المنضود، کتاب اللباس ، باب فی جلود النمور، 166/6، مکتبة الشیخ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:
*سنن أبي داود،لأبي داود سليمان بن الأشعث الأزدي السجستاني (202 - 275 ھ)، (أول کتاب اللباس ، 218/6، المحقق: شعيب الأرنؤوط [ت 1438 ه]- محمد كامل قره بللي، الناشر: دار الرسالة العالمية):*
عن خالد، قال:وفد المقدام بن معدي كرب وعمرو بن الأسود، ورجل من بني أسد من أهل قنسرين إلى معاوية بن أبي سفيان، فقال معاوية للمقدام: أعلمت أن الحسن بن علي توفيّ؟ فرجع المقدام، فقال له رجل: أتراها مصيبة؟ قال له: ولم لا أراها مصيبة وقد وضعه رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجره، فقال: "هذا مني وحسين من علي"؟! فقال الأسدي: جمرة أطفأها الله عز وجل، قال: فقال المقدام: أما أنا، فلا أبرح اليوم حتى أغيظك وأسمعك ما تكره، ثم قال: يا معاوية، إن أنا صدقت فصدقني، وإن أنا كذبت فكذبني، قال: أفعل: قال: فأنشدك بالله، هل سمعت رسول الله ﷺ ينهى عن لبس الذهب؟ قال: نعم. قال: فأنشدك بالله، هل تعلم أن رسول الله ﷺ نهى عن لبس الحرير؟ قال: نعم. قال: فأنشدك بالله، هل تعلم أن رسول الله ﷺ نهى عن لبس جلود السباع والركوب عليها؟ قال: نعم. قال: فوالله لقد رأيت هذا كله في بيتك يا معاوية، فقال معاوية: قد علمت أني لن أنجو منك يا مقدام، قال خالد: فأمر له معاوية بما لم يأمر لصاحبيه، وفرض لابنه في المئتين، ففرقها المقدام على أصحابه قال: ولم يعط الأسدي أحدا شيئا مما أخذ، فبلغ ذلك معاوية، فقال:» «أما المقدام فرجل كريم بسط يده، وأما الأسدي فرجل حسن الأمساك لشيئه۔
*الناهية عن طعن أمير المؤمنين معاوية، لأبي عبدالرحمن ، عبد العزيز بن أحمد بن الحامد القرشي الفريهاري الملتاني (ت بعد 1239ه)، (فصل في فضائل معاوية -رضي الله عنه-، رقم الصفحة 38، تقديم: عبد الله بن عبد العزيز بن عقيل، حققه وعلق عليه وخرج أحاديثه: أحمد بن عبد العزيز بن محمد التويجري، الناشر: غراس للنشر والتوزيع، الكويت):*
«اعلم أن صحابته الكرام مائة ألف وأربعة عشر ألفا كالأنبياء، ومن ورد فيه أحاديث الفضائل أشخاص معدودة، وكفى بالصحبة فضلا للباقي، لترتب الفضائل العظيمة عليها مما نطق به الكتاب والسنة. فإن فقدت أحاديث الفضائل لبعضهم أو قلّت فلا إحجاف به.
*بذل المجهود في حل سنن أبي داود، للشيخ خليل أحمد السهارنفوري (ت 1346 ه)، (باب في جلد النمور، 160/12، اعتني به وعلق عليه: الأستاذ الدكتور تقي الدين الندوي، الناشر: مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية، الهند):*
«عن خالد قال: وفد) بصيغة الماضي، والوفد جمع وافد الذين يقصدون الأمراء للاسترفاد، أو ليسلموا على يده ويبايعوه، (المقدام بن معدي كرب، وعمرو بن الأسود، ورجل من بني أسد من أهل قنسرين) بلدة بقرب حلب (إلى معاوية بن أبي سفيان، فقال معاوية للمقدام: أعلمت) بصيغة المجهول المتكلم من الإعلام، ويحتمل أن يكون بهمزة الاستفهام، وعلمت بتاء الخطاب (أن الحسن بن علي توفي؟ ) كانت وفاته في ربيع الأول سنة 49 هجرية (فرجّع المقدام) أي قال: إنا لله وإنا إليه راجعون (فقال له فلان) ولعله الرجل الأسدي أو غيره: (أتعدها مصيبة؟ فقال له: ولم لا أراها مصيبة، وقد وضعه رسول الله ﷺ في حجره، فقال: هذا) أي: الحسن (مني، وحسين من علي، فقال الأسدي) طلبا لرضاء معاوية وتقربا إليه: (جمرة أطفأها الله) تعالى، أي: أخمدها وأزال شرر شرورها وفتنتها.»
«(قال: فقال المقدام) حين سمع ما قاله في ابن بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم لمراعاة معاوية بن أبي سفيان، (أما أنا فلا أبرح اليوم حتى أغيظك وأسمعك) فيه (ما تكره) كما أسمعتني ما أكره فيه (ثم قال: يا معاوية! إن أنا صدقت فصدقني) في قول (وإن أنا كذبت فكذبني، قال) معاوية: (أفعل، قال) المقدام: (فأنشدك) أي: أقسمك (بالله هل سمعت رسول الله ﷺ ينهى عن لبس الذهب؟ قال) معاوية: اللهم (نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن رسول الله ﷺ نهى) الرجال (عن لبس الحرير؟ قال) معاوية: (نعم، قال) المقدام: (فأنشدك بالله هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس جلود السباع، والركوب عليها؟ قال) معاوية: (نعم).
(قال) المقدام: (فوالله لقد رأيت هذا كله في بيتك يا معاوية) أي على أهلك، فيه أن ما في بيت الآدمي من مكروه أو حرام منسوب إلى مالكه في كونه لا ينكره.»
(فقال معاوية: قد علمت أني لن أنجو منك يا مقدام، قال خالد: فأمر له) أي: أمر (معاوية) للمقدام بعطاء (بما لم يأمر لصاحبيه) الذين وفدا معه، وهما عمرو بن الأسود والرجل الأسدي (وفرض لابنه) أي لابن المقدام، واسمه يحيى (في المئين) أي: كتب اسمه في الديوان في الذين لهم عطاء مقدر، فوق المائتين من الدراهم (ففرقها) أي: ما أعطاه معاوية (المقدام على أصحابه) الحاضرين.
(قال: ولم يعط الأسدي أحدا شيئا مما أخذ، فبلغ ذلك معاوية) أن المقدام فرق المال على أصحابه (فقال) معاوية: (أما المقدام فرجل كريم بسط) بمفتوحات (يده) بالعطاء، (وأما الأسدي فرجل حسن الإمساك لشيئه) أي حسن الإمساك للشيء الذي أعطيه ليصرفه بعد ذلك في مهمات.»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی