سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اگر کسی مقابلے میں عام طور پر شرکت کے لیے فیس لی جاتی ہو، لیکن کسی شخص کو ایک مرحلہ یا ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد بغیر کسی فیس کے شرکت کا موقع مل جائے، اور وہ خود کوئی رقم ادا نہ کرے، جبکہ انعامات دوسرے شرکاء کی ادا کردہ فیس سے دیے جاتے ہوں تو کیا ایسے شخص کے لیے اس انعام کو حاصل کرنا شرعاً جائز اور حلال ہے؟ اور اگر اس صورت میں یہ انعام حلال نہ ہو تو اسے حلال بنانے کی کیا جائز صورت ہو سکتی ہے؟ جزاکم اللہ خیراً
*سوال سے متعلق مطلوب وضاحت:*
محترم! آپ کا سوال واضح نہیں ہے۔ براہ کرام درج ذیل باتوں کی وضاحت فرمائیں:
1) مقابلے سے کیا مراد ہے؟ کس کام میں مقابلہ کرایا جاتا ہے اور اس کی شرائط و ضوابط کیا ہیں؟
2) شرکت کیلئے لی گئی فیس قابل واپسی ہوتی ہے یا ناقابل واپسی ؟
3) انعامات کس نوعیت کے ہوتے ہیں، اور ان کے حصول کے حصول کا طریقہ کار اور شرائط و ضوابط کیا ہیں ؟ ان باتوں کی مکمل وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔
مستفتی کی طرف سے فراہم کردہ وضاحت:
محترم مفتی صاحب، آپ کے تینوں سوالات کے جوابات بالترتیب پیشِ خدمت ہیں:
۱) مقابلے کی نوعیت:
ایک کرکٹ بورڈ ٹورنامنٹ منعقد کرتا ہے جس میں کھلاڑی کی بیٹنگ صلاحیت جانچی جاتی ہے، کھلاڑی کو ایک مقررہ تعداد میں رنز بنانے کا ہدف دیا جاتا ہے، البتہ شرط یہ ہوتی ہے کہ وہ ایک دن میں پانچ سے زیادہ اور پورے ٹیسٹ میں دس سے زیادہ وکٹیں نہیں گنوا سکتا۔ یہ خالصتاً مہارت کا امتحان ہے، قسمت یا ڈرا کا کوئی دخل نہیں، اس ٹورنامنٹ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جیتنے والوں کی کوئی تعداد مقرر نہیں، اگر تمام کھلاڑی ہدف پورا کر لیں تو سب انعام پا سکتے ہیں، یعنی کسی ایک کے جیتنے سے دوسرے کا نقصان نہیں ہوتا۔
۲) فیس کی نوعیت اور واپسی:
بورڈ شرکت سے پہلے ایک "ایویلیوایشن فیس" لیتا ہے جسے وہ انتظامی اخراجات کا معاوضہ قرار دیتا ہے، یہ فیس عام حالات میں ناقابلِ واپسی ہوتی ہے، البتہ اگر کھلاڑی نے ابھی کھیلنا شروع نہ کیا ہو تو سات دن کے اندر واپسی ممکن ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ جو کھلاڑی ٹیسٹ پاس کر کے پہلی پرائز منی وصول کرے، بورڈ اس کی پوری ایویلیوایشن فیس اسی پہلی ادائیگی کے ساتھ واپس کر دیتا ہے، چنانچہ کامیاب کھلاڑی کے لیے یہ فیس بالآخر مفت ثابت ہوتی ہے۔
۳) انعامات کی نوعیت اور شرائط:
بورڈ کی شرائط میں یہ صراحت ہے کہ "کوئی بھی انعام مکمل طور پر بورڈ کی صوابدید پر منحصر ہے اور تمام شرائط کی پابندی سے مشروط ہے، اسے اس وقت تک مستحق یا قابلِ ادائیگی نہیں سمجھا جائے گا جب تک بورڈ باضابطہ منظوری دے کر ادا نہ کر دے۔" عملاً بورڈ اکثر کامیاب کھلاڑیوں کو انعام دیتا ہے، جس کا ۸۰ فیصد کھلاڑی کو ملتا ہے اور ۲۰ فیصد بورڈ رکھ لیتا ہے۔ تاہم بعض اوقات بورڈ کسی کھلاڑی پر قواعد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر کے اس کا انعام روک لیتا ہے، اور چونکہ بورڈ قانونی طور پر انعام دینے کا پابند نہیں، اس لیے کھلاڑی کے پاس کوئی قانونی چارہ بھی نہیں ہوتا، اگر کھلاڑی مین اسکواڈ میں آنے کے بعد مسلسل خراب کارکردگی دکھائے یعنی حد سے زیادہ وکٹیں گنوا دے تو بورڈ اسے نکال دیتا ہے، لیکن اس صورت میں کھلاڑی کی جیب سے کوئی رقم نہیں جاتی۔
مطلوبہ شرعی رہنمائی:
اس پس منظر میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
الف) بعض کھلاڑیوں کو کسی دوسرے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کی بنیاد پر یہ سہولت دی جاتی ہے کہ وہ بغیر کوئی ایویلیوایشن فیس ادا کیے براہِ راست مین اسکواڈ میں شامل ہو جائیں۔ ایسے کھلاڑی نے اپنی جیب سے کچھ بھی نہیں لگایا ہوتا تو کیا اس کے لیے بورڈ سے ملنے والی پرائز منی شرعاً حلال ہے؟
ب) مذکورہ بالا پورا ڈھانچہ، ایویلیوایشن فیس، مین اسکواڈ، پرائز منی کی تقسیم، کیا یہ مجموعی طور پر شرعاً جائز ہے؟
ج) بعض اہلِ علم، جن میں جامعہ بنوری ٹاؤن کے علماء بھی شامل ہیں، کا موقف یہ ہے کہ چونکہ یہ انعام بورڈ کی صوابدید پر منحصر ہے اور کھلاڑی کو اس پر کوئی قانونی حق حاصل نہیں، اس لیے یہ قمار کے زمرے میں نہیں آتا اور شرعاً جائز ہے۔ کیا یہ موقف درست ہے؟ اور اگر اس بنیاد پر یہ جائز ہے تو اس کی مزید وضاحت فرمائیں، اور اگر اس کے باوجود کوئی شرعی اشکال باقی رہتا ہو تو اسے بھی بیان فرمائیں۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جواب: ذکر کردہ صورت میں بورڈ کی طرف سے لی جانے والی ایویلیوایشن فیس اگر مقابلے کے اخراجات یا انتظامی امور کے لئے ہوتی ہے، اور بورڈ اس کا مالک بن جاتا ہے، اس کے بعد انعام دینا اس کی صوابدید پر ہوتا ہے، یعنی کھلاڑیوں کی جمع کردہ رقم میں سے لازماً جیتنے والوں کو تقسیم نہیں کیا جاتا تو یہ صورت قمار (جوا) میں داخل نہیں ہوگی اور کامیاب کھلاڑی کے لیے انعام لینا جائز ہوگا۔ چنانچہ:
(الف) جس کھلاڑی کو کسی سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر بغیر فیس کے براہِ راست مین اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہو، اس کے لیے بھی انعام لینا جائز ہے، بشرطیکہ انعام اسی جائز نظام کے تحت دیا جا رہا ہو۔
(ب،ج) پورے نظام کا حکم اس کی حقیقت پر موقوف ہے، چنانچہ اگر فیس بورڈ کی ملکیت میں آتی ہے، فیس دینے والے کو انعام کا حق دار بنانا مقصود نہیں، بورڈ انعام دینے یا نہ دینے میں با اختیار ہے، انعام شرکاء کی جمع کردہ رقم کا لازمی حصہ نہیں، یا انعام کسی تیسرے فریق کی طرف سے دیا جارہا ہو تو یہ صورت اصولاً جائز ہے۔
البتہ اگر حقیقت یہ ہو کہ بورڈ فیس کے نام پر شرکاء سے رقم جمع کرتا ہے اور اسی جمع شدہ رقم کو کامیاب کھلاڑیوں میں تقسیم کرتا ہے، اگرچہ نام "ایویلیوایشن فیس" رکھا گیا ہو تو یہ قمار کی مشابہت رکھے گا اور اس سے اجتناب بہتر ہے۔
اس لئے بہتر ہے کہ بورڈ اپنے اصول وضوابط میں یہ واضح کردے کہ ایویلیوایشن فیس انتظامات کے عوض لی جا رہی ہے، یہ فیس انتظامیہ کی ملکیت ہوگی، کامیاب کھلاڑی کو انعام ملنا ضروری نہیں ہے، بلکہ انتظامیہ اپنی صواب دید پر کامیاب کھلاڑی کو انعام دینا چاہے تو دیدے، یہ انعام کامیاب کھلاڑی کا لازمی حق نہ ہوگا۔
زیادہ بے غبار اور محتاط صورت یہ ہے کہ انعام انتظامیہ کے الگ فنڈ یا کسی تیسرے فریق/اسپانسر کی طرف سے دیا جائے، ایسی صورت میں انعام لینے میں کوئی اشکال نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (549/2، ط: دار إحياء التراث العربي)
وإن شرط فيها أي في المسابقة جعل من إحدى الجانبين، مثل أن يقول أحدهما لصاحبه: إن سبقتني أعطيك كذا وإن سبقتك لا آخذ منك شيئًا، أو شرط فيها جعل من ثالث لأسبقهما، مثل أن يقول ثالث للمتسابقين: أيكما سبق فله علي كذا، جائز؛ لأنه تحريض على آلة الحرب والجهاد، لقوله عليه الصلاة والسلام: المؤمنون عند شروطهم.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (549/2، ط: دار إحياء التراث العربي)
تجوز المسابقة بالسهام والخيل والحمير والإبل والأقدام، لقوله عليه الصلاة والسلام: «لا سبق إلا في خف أو نصل أو حافر»؛ والمراد بالخف الإبل، وبالنصل الرمي، وبالحافر الفرس والبغل.
وفي الحديث سابق رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم وأبو بكر وعمر رضي الله عنهم فسبق رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم، ولأنه يحتاج إليه في الجهاد للكر والفر، وكل ما هو من أسباب الجهاد فتعلمه مندوب إليه سعيًا في إقامة هذه الفريضة، وعن النبي عليه الصلاة والسلام: لا تحضر الملائكة شيئًا من الملاهي سوى النضال والرهان.
بدائع الصنائع: (206/6، ط: دار الكتب العلمية)
وكذلك ما يفعله السلاطين وهو أن يقول السلطان لرجلين: من سبق منكما فله كذا، فهو جائز؛ لما بينا أن ذلك من باب التحريض على استعداد أسباب الجهاد خصوصًا من السلطان.
الدر المختار مع رد المحتار: (403/6، ط: سعید)
وحرم لو شرط فيها من الجانبين؛ لأنه يصير قماراً.
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارةً وينقص أخرى، وسمي القمار قمارًا؛ لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص
الفتاوی الھندیة: (343/5، ط: دار الفكر)
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.
مستفاد من تبویب فتاوی جامعة دار العلوم کراتشی: رقم الفتوی: (35/2519)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی