resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جمع بین الصلاتین سے متعلق تفصیلی احکام، نیز جمع بین المثلین والشفقین کا مطلب

(60499-No)

سوال: کیا کسی معتبر شرعی عذر (مثلاً سفر، بارش یا بیماری) کے بغیر نمازوں کو جمع کرنا (جمع کرنا) جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو پھر فقہِ جعفری میں ظہر کو عصر کے ساتھ اور مغرب کو عشاء کے ساتھ باقاعدگی سے روزانہ کی معمول کی صورت میں صرف ضرورت کے وقت نہیں جمع کرنے کی اجازت کی کیا توجیہ ہے؟
ان کے علماء اس موقف کی بنیاد حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی صحیح حدیث پر رکھتے ہیں، جو صحیح مسلم (حدیث نمبر: 705) میں ہے، جس میں بیان ہوا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کیں، حالانکہ نہ خوف، نہ بارش اور نہ سفر کی کوئی وجہ بیان ہوئی ہے۔ جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ کی امت کو مشقت میں نہ ڈالا جائے۔
چونکہ اہل تشیع حضرات کی پوری جماعت صدیوں سے اس حدیث کی اپنی تشریح کی بنیاد پر اس عمل کو اختیار کرتی آرہی ہے، اس لیے میرے درج ذیل سوالات ہیں:
1) آپ کے مکتبِ فکر کے مطابق کسی معتبر شرعی عذر کے بغیر نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے یا گناہ ہے؟
2) اگر اسے گناہ قرار دیا جائے تو کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پوری اہل تشیع جماعت تاریخ بھر اس عمل کی وجہ سے گناہ گار رہی ہے؟
3) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس حدیث کو جو بظاہر کسی عذر کے بغیر نمازوں کو جمع کرنے کی اجازت پر دلالت کرتی ہے، اس موقف کے ساتھ کیسے جمع کیا جائے کہ بغیر عذر نمازوں کو جمع کرنا گناہ ہے؟ بالخصوص ”جمعِ صوری“ کی توجیہ کی وضاحت فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ کیا اس روایت پر جمعِ صوری کی یہ توجیہ منطبق ہوتی ہے؟
4) کیا اس مسئلے میں ایسا معتبر فقہی اختلاف (اختلافِ رائے) موجود ہے کہ مختلف فقہ کی پیروی کرنے والے مسلمان اگر حسنِ نیت کے ساتھ اپنے مکتبِ فکر کے مطابق عمل کریں تو انہیں اپنے دائرۂ فقہ کے اندر گناہ گار قرار نہ دیا جائے؟
خصوصاً تیسرے اور چوتھے سوال کے بارے میں تفصیلی وضاحت مطلوب ہے، کیونکہ یہی حدیث مختلف فقہی آراء کے درمیان اس اختلاف کا بنیادی نکتہ معلوم ہوتی ہے۔

جواب: 1) فقہِ حنفی میں مشہور قول کے مطابق دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنا جائز نہیں، بلکہ ہر نماز کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کرنا لازم ہے۔ قرآن شریف میں ہے: ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا ●﴾ (النساء، الآية: ١٠٣)* "بے شک نماز مسلمانوں پر ایسا فریضہ ہے جو وقت کا پابند ہے"۔
دیگر اہل سنت والجماعت کے نزدیک بھی عام حالات میں روزانہ بلا عذر جمع بین الصلاتین کی اجازت نہیں، تاہم عذر کی صورت میں بعض ائمہ کرامؒ نے مختلف شرائط کے ساتھ جمع کی اجازت دی ہے۔ نیز علمائے احنافؒ نے عذر کی صورت میں جمع صوری کی اجازت دی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نماز کو تاخیر سے اس کے آخری وقت سے قبل اداکیا جائے اور اگلی نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کیا جائے، اس طرح دو نمازیں صورت کے اعتبار سے جمع ہوجائیں گی اور اپنے اپنے وقت میں بھی ادا ہوجائیں گی، لہٰذا اگر سفر یا مرض میں ہر نماز اپنے وقت میں ادا کرنے میں اگر دشواری ہو رہی ہو تو دفعِ حرج کی وجہ سے اس کے لئے جمع صوری پر عمل کر سکتے ہیں، کیونکہ اس کے جواز میں ائمہ کا کوئی اختلاف نہیں ہے، حضرات حنفیہ کے نزدیک بھی سفر اور مرض میں جمع صوری پر عمل کرنا بلا کراہت جائز ہے۔
نیز بہت سے علمائے احنافؒ نے احادیثِ مبارکہ کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے اس بات کی بھی گنجائش دی ہے کہ اگر مسافر اور مریض کے لئے جمع صوری پر عمل کرنے میں بھی دشواری کا سامنا ہو تو بین المثلین والشفقین جمع کرنے کی گنجائش ہے۔ جمع بین المثلین والشفقین کا مطلب یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نماز کو مثلِ اول اور مثلِ ثانی کے درمیانی وقت میں اکٹھا پڑھ لیا جائے، اور مغرب اور عشاء کو شفقِ احمر اور شفقِ ابیض کے درمیانی وقت میں اکٹھا پڑھ لیا جائے۔ علمائے احناف میں علامہ انورشاہ کاشمیریؒ اور شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ اس صورت کے جواز کے قائل ہیں، لہٰذا ایسے شدید عذر کی صورت میں جب نماز کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو، اس رائے کے مطابق عمل کیا جاسکتا ہے۔ (تبویب جامعہ دار العلوم کراچی: 2199/43)
2)یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اہل سنت والجماعت اور اہلِ تشیع کے درمیان اختلاف محض چند فروعی مسائل تک محدود نہیں، بلکہ بنیادی اعتقادی مسائل میں بھی اختلاف ہے، لہٰذا اہل تشیع کے موقّف کو اہل سنت کے مختلف فقہی مذاہب کے باہمی اجتہادی اختلاف پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم اہل سنت والجماعت کے مختلف مجتہدین کے درمیان جمع بین الصلاتین کے بعض احکام میں تفصیلی اختلاف موجود ہے، لیکن روزانہ معمول کے طور پر بلاعذر نمازوں کو جمع کرنا اہل سنت کے مستند مجتہدین کے نزدیک درست نہیں، علامہ زرکشی حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ جمع بین الصلاتین کا ثبوت ہونے کی وجہ سے عذر کی صورت میں یہ جائز ہے، لیکن حضورﷺ سے اس پر دوام ثابت نہیں ہے۔(شرح الزركشي على الخرقي: (2/ 154)
3) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیثِ جمع کو تقریباً تمام فقہاءؒ نے جمعِ صوری پر محمول کیا ہے، یعنی پہلی نماز کو اس کے آخری وقت میں اور دوسری نماز کو اس کے ابتدائی وقت میں ادا کیا جائے، جس سے بظاہر دونوں نمازیں جمع معلوم ہوتی ہیں، حالانکہ ہر نماز اپنے مقررہ وقت میں ادا ہوئی ہے۔ اس لیے اس حدیث سے عام حالات میں حقیقی طور پر دو نمازوں کو ایک وقت میں جمع کرنے کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔
4)چونکہ اہل تشیع فرقہ اہل سنت کے ساتھ بنیادی اعتقادی مسائل میں بھی اختلاف رکھتا ہے، اس لیے اس مسئلے میں ان کے موقّف یا ان کی طرف سے اس حدیثِ مبارکہ کی تشریح کو اہل سنت کے باہمی فقہی اختلاف کے ضمن میں نہیں رکھا جائے گا، البتہ اہل سنت کے معتبر مجتہدین کے درمیان جو اجتہادی اختلاف ہے، اس میں اپنے معتبر فقہی مکتب کی متعلقہ شرائط کی رعایت کے ساتھ پیروی کرنے والے شخص کو محض اختلافی رائے پر عمل کرنے کی وجہ سے گناہ گار قرار نہیں دیا جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الكريم: (النساء، الآية: ١٠٣)*
﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا ●﴾

*شرح الزركشي على مختصر الخرقي: (2/ 154، ط: دار العبيكان)*
وقد أشعر كلام الخرقي بأن الجمع جائز، وليس بمندوب إليه، بخلاف القصر والفطر على ما تقدم، وهو المنصوص والمختار للأصحاب، خروجا من الخلاف، ولأن النبي صلى الله عليه وسلم لم يداوم عليه.

*فيض الباري على صحيح البخاري: (2/ 128، ط: دار الكتب العلمية)*
فإذا حققت الروايات، فاعلم أن الناس جعلوها روايات شتى، وهي تنحط على محط واحد، ومرجع الكل عندي، أن المثل الأول وقت مختصر بالظهر، والمثل الثالث بالعصر، والثاني يصلح لهما، والمطلوب هو الفاصلة بينهما في العمل، فإن عجل الظهر فصلاها بعد الزوال يعجل العصر ويصليها على المثل، وإن أخر الظهر فصلاها على المثل يصلي العصر أيضا مؤخرا إبقاء للفاصلة بينهما، فلا يؤخر الظهر مع تعجيل العصر، لأنه ربما يوجب الجمع مع أن المطلوب هو الفاصلة، نعم تلك الفاصلة قد ترتفع لأجل السفر والمرض، فللمسافر أن يجمع بين الظهر والعصر في المثل الثاني.

*(تبویب جامعہ دار العلوم کراچی: 2199/43)*

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)