resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: قعدۂ اولیٰ چھوڑ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد دوبارہ بیٹھنے سے نماز کا حکم

(60518-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، محترم مفتی صاحب! عشاء کی نماز میں دو رکعتوں کے بعد بیٹھنے کی بجائے امام صاحب کھڑے ہو گئے، مقتدیوں نےلقمہ دیا تو امام صاحب بیٹھ گئے اور اخیر میں سجدہ سہو کر کے نماز مکمل کر لی، سلام پھیرنے کے بعد کسی نے کہا کہ نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی کیونکہ آپ فرض سے واجب کی طرف لوٹے ہیں تو ہم نے دوبارہ پڑھ لی ، اب جو مسبوق بعد میں آ کے دوسری، تیسری ،چوتھی رکعت میں یا دوسری نماز میں آ کر شریک ہوئے ان کی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں امام صاحب کو تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد دوبارہ بیٹھنا نہیں چاہیے تھا، البتہ چونکہ امام صاحب بھول کر دوبارہ بیٹھ گئے تھے اور آخر میں سجدۂ سہو بھی کرلیا تھا، اس لیے نماز درست ہوگئی اور دوبارہ نماز کا اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی، نیز جو حضرات تیسری یا چوتھی رکعت میں جماعت میں شامل ہوئے تھے، ان کی نماز بھی درست ہوگئی، البتہ جو حضرات دوسری جماعت میں شریک ہوئے، ان کی نماز درست نہیں ہوئی اور ان پر نماز کا اعادہ لازم ہے، کیونکہ امام صاحب کی پہلی نماز درست ہوچکی تھی، اس لیے دوسری مرتبہ پڑھی جانے والی نماز ان کے حق میں نفل کے حکم میں تھی اور نفل پڑھنے والے امام کے پیچھے فرض نماز ادا کرنے والے مقتدی کی نماز درست نہیں ہوتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*رد المحتار: (کتاب الصلاة، باب سجود السهو، 83/2، ط: سعید)*
(سها عن القعود الأول من الفرض) ولو عملياً، أما النفل فيعود ما لم يقيد بالسجدة (ثم تذكره عاد إليه) وتشهد، ولا سهو عليه في الأصح، (ما لم يستقم قائماً) في ظاهر المذهب، وهو الأصح، فتح (وإلا) أي وإن استقام قائماً (لا) يعود؛ لاشتغاله بفرض القيام (وسجد للسهو)؛ لترك الواجب (فلو عاد إلى القعود) بعد ذلك (تفسد صلاته)؛ لرفض الفرض لما ليس بفرض، وصححه الزيلعي (وقيل: لا) تفسد، لكنه يكون مسيئاً ويسجد لتأخير الواجب (وهو الأشبه)، كما حققه الكمال، وهو الحق، بحر.

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)