resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: ماہِ ربیع الاوّل میں سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے تقریبات کا اہتمام

(60504-No)

سوال: مفتی صاحب! ربیع الاول میں سیرت النبی ﷺ کے عنوان سے پروگرامات/کانفرنس کرنے کا کیا حکم ہے؟ نیز اس طرح کے پروگرامات کرنے میں دیگر لوگوں کی مشابہت کی وجہ سے کیا حکم ہوگا کیونکہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے محرم میں ذکر شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو غیروں کی مشابہت کی وجہ سے حرام کہا ہے تو کیا ربیع الاول میں سیرت کے عنوان سے پروگرامات/ کانفرنس کرنا بھی غیروں کی مشابہت کی وجہ سے جائز نہ ہوگا؟

جواب: واضح رہے کہ سیرتِ النبی ﷺ کے عنوان سے تقریبات منعقد کروانا بہت بڑی سعادت اور فضیلت کی بات ہے، خصوصاً اس دور میں لوگوں کی آگاہی کے لیے ایسے پروگراموں کا انعقاد مستحسن عمل ہے، لیکن آج کل سیرتِ النبی ﷺ کے عنوان سے تقریبات کو ربیع الاوّل کے ساتھ جس طریقے سے خاص کیا جا رہا ہے، اس کا ثبوت جنابِ نبی کریم ﷺ، صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور تابعین کی زندگیوں میں کہیں نہیں ملتا۔
لہٰذا اس کے بجائے بلا التزام پورے سال کسی بھی مہینے میں ایسے پروگرام منعقد کروا کر ان میں معتبر علماءِ کرام کو مدعو کر لینا چاہیے، تاکہ لوگوں کو سیرتِ طیبہ کی روشنی میں صحیح رہنمائی مل سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل:*

*الإعتصام للشاطبي: (53/1، ط: دار أبن عفان)*
ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة، كالذكر بهيئة الاجتماع على صوت واحد، واتخاذ يوم ولادة النبي صلى الله عليه وسلم عيدا، وما أشبه ذلك.

ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة، كالتزام صيام يوم النصف من شعبان وقيام ليلته.

*کذا فی تبویب فتاویٰ دارالعلوم کراتشی، (رقم الفتویٰ: 17/2427*)


واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Bida'At & Customs