سوال:
مفتی صاحب! میرا بھائی والد کی طرف سے حج بدل کرنے جا رہا ہے تو کیا میں اس کے ساتھ اپنا فرض حج ادا کرنے کے لیے جا سکتی ہوں ؟
جواب: واضح رہے کہ عورت کے لیے حج فرض ہونے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ سفرِ حج میں اس کے ساتھ محرم موجود ہو، اصل اعتبار محرم کے ساتھ ہونے کا ہے، نہ کہ اس بات کا کہ محرم خود کس نوعیت کا حج ادا کر رہا ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ اپنے بھائی کے ساتھ سفر کر کے اپنا فرض حج ادا کر سکتی ہیں، خواہ بھائی اپنے والد کی طرف سے حج بدل ہی کر رہا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الدرالمختار مع رد المحتار: (2/ 465،ط: سعید )*
(قوله في سفر) هو ثلاثة أيام ولياليها فيباح لها الخروج إلى ما دونه لحاجة بغير محرم بحر، وروي عن أبي حنيفة وَأَبِي يُوسُفَ كَرَاهَةُ خُرُوجِهَا وَحْدَهَا مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَاحِدٍ، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْفَتْوَى عَلَيْهِ لِفَسَادِ الزَّمَانِ شَرْحُ اللُّبَابِ وَيُؤَيِّدُهُ حَدِيثُ الصَّحِيحَيْنِ «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ إلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ عَلَيْهَا».
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی