resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: نفاس کی حالت میں آفاقی عورت کا میقات سے احرام باندھ کر مکہ مکرمہ جانا

(62537-No)

سوال: السلام عليكم، ایک عورت جو سعودیہ کے شہر ریاض میں رہتی ہے اس کے نفاس کے ایام چل رہے ہیں، اس کے تمام گھر والے عمرے پر جارہے ہیں تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ان کے ساتھ بغیر احرام کی نیت کے چلی جائے اور عمرہ نہ کرے بلکہ حدود حرم سے باہر کسی ھوٹل میں ٹھہر جائے؟ نیز کیا میقات سے بغیر احرام کی نیت گزرنے کی صورت میں دم آئے گا ؟ اور اگر ھوٹل حدود حرم میں ہو تب کیا حکم ہے؟

جواب: واضح رہے کہ آفاقی یعنی میقات سے باہر رہنے والا شخص جب میقات عبور کرکے حدودِ حرم میں داخل ہوتا ہے تو اس پر عمرہ لازم ہوجاتا ہے، خواہ وہ کسی بھی غرض سے حدودِ حرم میں داخل ہوا ہو، اور اگر کوئی آفاقی شخص احرام کے بغیر مکہ مکرمہ میں داخل ہوجائے تو اس پر عمرہ ادا کرنا اور حدودِ حرم میں ایک دم دینا لازم ہوتا ہے، البتہ اگر وہ واپس میقات جاکر وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لے تو دم ساقط ہوجاتا ہے۔
لہٰذا مذکورہ عورت کے لیے لازم ہے کہ میقات سے عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ میں داخل ہو، چونکہ وہ نفاس کی حالت میں ہے، اس لیے مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد پاک ہونے کا انتظار کرے گی، پاک ہونے کے بعد غسل کرکے عمرہ ادا کرے گی۔ اس طرح پاک ہونے کے بعد عمرہ ادا کرنے سے اس کا عمرہ ادا ہوجائے گا اور اس پر کوئی دم لازم نہیں ہوگا۔ تاہم اگر وہ خاتون حدودِ میقات سے باہر رہے تو پھر اس پر احرام باندھنا لازم نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الدر المختار: (476/2، ط: الحلبي)*
(وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة.

*غنیة الناسک: (باب مجاوزة المیقات بغیر إحرام، ص: 60، ط: إدارة القرآن)*
"آفاقي مسلم مکلف أراد دخول مکة أو الحرم ولو لتجارة أو سیاحة وجاوز آخر مواقیته غیر محرم ثم أحرم أولم یحرم أثم ولزمه دم وعلیه العود إلی میقاته الذي جاوزه أو إلی غیره أقرب أو أبعد ، وإلی میقاته الذي جاوزه أفضل، وعن أبي یوسف: إن کان الذي یرجع إلیه محاذیاً لمیقاته الذي جاوزه أو أبعد منه سقط الدم وإلا فلا، فإن لم یعد ولا عذر له أثم؛ لترکه العود الواجب."
(قوله: أي لآفاقي) أي ومن ألحق به کالحرمي والحلي إذا خرجا إلی المیقات کما یأتي، فتقییده بالآفاقي للاحتراز عما لو بقیا في مکانهما، فلایحرم، کما یأتي".

*النهر الفائق: (باب مجاوزة الميقات بغير إحرام، 152/2، ط: دار الكتب العلمية)*
"فلو دخل كوفي البستان) أي: مكان من الحل داخل الميقات (لحاجة) قصدها يعني: أن الدخول لهذا القصد (له دخول مكة بلا إحرام ووقته) أي: ميقاته البستان، نبه بهذا التفريغ على أن ما مر من لزوم الإحرام من الميقات إنما هو على من قصد أحد النسكين أو دخول مكة والحرم، فقصد مكة والحرم موجب له سواء قصد نسكاً أو لا أما إذا قصد مكاناً من الحل داخل الميقات فإنه يجوز له الدخول لالتحاقه بأهله سواء نوى الإقامة الشرعية فيه أو لا في ظاهر الرواية".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Hajj (Pilgrimage) & Umrah