resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: زکوٰۃ کی رقم سے مدرسے میں سولر سسٹم لگوانے کا حکم

(60513-No)

سوال: محترم جناب مفتی صاحب! ہمارے گاؤں میں ایک غیر رہائشی مدرسہ ہے، اس میں سولر سسٹم کے لیے بندے نے پانچ لاکھ روپیہ زکوۃ کے دیے ہیں، کیا اس طرح زکوۃ اس مدرسے میں دینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو کیا واپس کر دی جائے؟

جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک (زکوٰۃ کی رقم کا کسی مستحق کو مالک بنانا) ضروری ہے، کسی مدرسے کے لیے سولر سسٹم لگوا کر دینے کی صورت میں چونکہ تملیک نہیں پائی جاتی، لہٰذا اس طرح زکوٰۃ دینا شرعاً درست نہیں۔
رہا یہ مسئلہ کہ رقم واپس کی جائے یا نہیں تو اگر رقم ابھی خرچ نہیں ہوئی تو زکوٰۃ دینے والے سے اجازت لے کر پہلے کسی مستحقِ زکوٰۃ کو مالک بنا دیا جائے، تاکہ زکوٰۃ ادا ہو جائے، پھر اگر وہ مستحق اپنی خوشی سے وہ رقم مدرسے کو دے دے تو یہ اس کی طرف سے تبرع شمار ہوگا، اس طرح کرنے مدرسے کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور زکوٰۃ بھی ادا ہو جائے گی، البتہ اگر رقم پہلے ہی خرچ ہو چکی ہے تو چونکہ تملیک نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، اس لیے دینے والے کو دوبارہ درست طریقے سے زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*الدر المختار مع رد المحتار : (2/ 344، ط: سعید)*
"ويشترط أن يكون ‌الصرف (‌تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه).
(قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني وتقدم تمام الكلام على ذلك أول الزكاة.

*البحر الرائق: (كتاب الزكاة، باب المصرف، 424/2: رشيدية)*
والحيلة في الجواز في هذه الأربعة أن يتصدق بمقدار زكاته على فقير ثم يأمره بعد ذلك بالصرف إلى هذه الوجوه، فيكون لصاحب المال ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Zakat-o-Sadqat