سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری اہلیہ کے پاس پہلے 7 تولہ سونا تھا، بعد ازاں مزید سونا شامل کرنے سے اس کی مقدار ساڑھے سات (7.5) تولہ ہوگئی، چونکہ اہلیہ کا اپنا کوئی ذریعۂ آمدن نہیں ہے اور خاوند کی آمدنی بھی اتنی نہیں کہ وہ ہر سال اہلیہ کے سونے کی زکوٰۃ ادا کرسکے، اس لیے سوال یہ ہے کہ اگر زکوٰۃ کی فرضیت سے بچنے کے لیے زکوٰۃ کا سال مکمل ہونے سے پہلےسونے کی کچھ مقدار اپنے خاوند یا اپنی اولاد کو حقیقی طور پر ہبہ کرکے ان کی ملکیت میں دے دی جائے، تاکہ اہلیہ کی ملکیت میں موجود سونا نصاب سے کم ہوجائے اور اس پر زکوٰۃ واجب نہ رہے تو کیا شریعت میں اس طرح کرنا جائز ہے؟
اگر یہ طریقہ شرعاً درست نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اور اگر سونا واقعی خاوند یا اولاد کی ملکیت میں منتقل کردیا جائے تو زکوٰۃ کا کیا حکم ہوگا؟ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے حیلہ اختیار کرتے ہوئے مالِ نصاب کو کسی اور کی ملک میں دیدینے سے اگرچہ زکوٰۃ تو واجب نہیں رہتی لیکن صرف زکوٰۃ سے بچنے کے لیے ایسا کرنا مکروہ تحریمی ہے، مسلمان کی شان تو یہ ہونی چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے مال دیکر غنی بنایا ہے تو وہ اس پر شکر ادا کرتے ہوئے کم از کم اس پر واجب ہونے والی زکوٰۃ خوشی اور رضامندی سے ادا کرے، ایسا کرنے سے اس کے مال میں برکت ہوگی، اور معاشرے کو بھی اجتماعی فائدہ ہوگا۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ اہلیہ کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے تو یہ کوئی معتبر شرعی عذر نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے نصاب کے علاؤہ کسی ذریعہ آمدن کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس مال کے نصاب میں زکوٰۃ واجب ہوئی ہے اسی مال میں سے ڈھائی فیصد کی قلیل مقدار نکال کر زکوٰۃ ادا کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*ردالمختار: (2/284، ط: ایچ ایم سعید)*
و إذا فعله حيلة لدفع الوجوب كأن استبدل نصاب السائمة بآخر أو أخرجه عن ملكه ثم أدخله فيه، قال أبويوسف لا يكره؛ لأنه امتناع عن الوجوب لا إبطال حق الغير.وفي المحيط أنه الأصح.وقال محمد: يكره، واختاره الشيخ حميد الدين الضرير؛ لأن فيه إضرارا بالفقراء وإبطال حقهم مآلا
*الھندیۃ: (6/291، ط: دارالفکر)*
رَجُلٌ لَهُ مِائَتَا دِرْهَمٍ أَرَادَ أَنْ لَا تَلْزَمَهُ الزَّكَاةُ فَالْحِيلَةُ لَهُ فِي ذَلِكَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِدِرْهَمٍ قَبْلَ تَمَامِ الْحَوْلِ بِيَوْمٍ حَتَّى يَكُونَ النِّصَابُ نَاقِصًا فِي آخِرِ الْحَوْلِ أَوْ يَهَبَ ذَلِكَ الدِّرْهَمَ لِابْنِهِ الصَّغِيرِ قَبْلَ تَمَامِ الْحَوْلِ بِيَوْمٍ أَوْ يَهَبَ الدَّرَاهِمَ كُلَّهَا لِابْنِهِ الصَّغِيرِ أَوْ يَصْرِفَ الدَّرَاهِمَ عَلَى أَوْلَادِهِ فَلَا تَجِبُ الزَّكَاةُ، قَالَ الْخَصَّافُ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - كَرِهَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا - رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى - الْحِيلَةَ فِي إسْقَاطِ الزَّكَاةِ وَرَخَّصَ فِيهَا بَعْضُهُمْ قَالَ الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْأَجَلُّ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيُّ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - الَّذِي كَرِهَهَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ - رحمه الله - وَاَلَّذِي رَخَّصَ فِيهَا أَبُو يُوسُفَ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - فَقَدْ ذَكَرَ الْخَصَّافُ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - الْحِيلَةَ فِي إسْقَاطِ الزَّكَاةِ وَأَرَادَ بِهِ الْمَنْعَ عَنْ الْوُجُوبِ لَا الْإِسْقَاطَ بَعْدَ الْوُجُوبِ وَمَشَايِخُنَا رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى أَخَذُوا بِقَوْلِ مُحَمَّدٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى - دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْ الْفُقَرَاءِ۔
*کذا فی فتاویٰ محمودیہ: ( 22/295، ط: مکتبہ فاروقیہ)*
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی