resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: حمل کی حالت میں طلاق اور مشروط طور پر حرام کہنے کا حکم

(60516-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! مجھے اپنے شوہر کی طرف سے کہے گئے بعض الفاظ کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے۔ براہِ کرم تفصیل پڑھ کر فتویٰ عطا فرمائیں۔
1) ایک مرتبہ جب میں حاملہ تھی، میرے شوہر سے فون پر کسی بات پر بحث اور لڑائی ہو رہی تھی۔ دورانِ گفتگو میرے شوہر نے مجھ سے کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"
اس کے کچھ دیر بعد میرے شوہر کہنے لگے کہ چونکہ تم حاملہ ہو، اس لیے طلاق نہیں ہوئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنے کہے ہوئے الفاظ یاد نہیں ہیں، لیکن مجھے واضح طور پر ان کے یہ الفاظ یاد ہیں کہ انہوں نے کہا تھا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"
میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان الفاظ سے طلاق واقع ہوگئی تھی یا حمل کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع نہیں ہوتی؟
2) ایک دوسرے موقع پر میں اپنی خالہ سے فون پر بات کر رہی تھی، فون بند کرنے کے بعد میرے شوہر نے مجھ سے کہا: "اگر آئندہ تم نے اپنی خالہ سے بات کی یا ان کے گھر میں کسی سے مدد لی تو تم مجھ پر حرام ہو۔"
کچھ ہی دیر بعد میرے شوہر نے کہا کہ ان کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ ان کی نیت یہ تھی کہ اگر میں آئندہ خالہ سے بات کروں یا ان کے گھر سے کسی قسم کی مدد لوں تو ہمارے درمیان ازدواجی/جسمانی تعلق کے اعتبار سے میں ان پر حرام ہوجاؤں گی۔
لیکن جب انہوں نے یہ الفاظ کہے تھے تو انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی تھی کہ ان کی مراد صرف ازدواجی تعلق سے "حرام'' ہونا ہے، انہوں نے صرف یہی الفاظ کہے تھے: ''اگر آئندہ تم نے خالہ سے بات کی یا ان کے گھر میں کسی سے مدد لی تو تم مجھ پر حرام ہو۔"
براہِ کرم دونوں واقعات کے بارے میں شرعی حکم واضح فرمائیں، خصوصاً یہ کہ آیا کسی موقع پر طلاق واقع ہوئی یا نہیں، اور اگر ہوئی تو کتنی طلاقیں شمار ہوں گی؟ جزاکم اللہ خیراً۔ والسلام

جواب: واضح رہے کہ حمل کی حالت میں دی گئی طلاق بھی شرعاً واقع ہوجاتی ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں شوہر کے یہ الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہنے سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی، محض حاملہ ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہ ہونے کا خیال درست نہیں ہے۔
دوسری مرتبہ میں شوہر نے کہا: "اگر آئندہ تم نے اپنی خالہ سے بات کی یا ان کے گھر میں کسی سے مدد لی تو تم مجھ پر حرام ہو" تو اس نے حُرمت کو مذکورہ کاموں میں سے کسی ایک کے پائے جانے پر معلق کردیا، ان الفاظ سے بھی "طلاقِ بائن" واقع ہوجاتی ہے، شوہر کا یہ کہنا کہ طلاق کی نیت نہیں تھی، بلکہ ازدواجی تعلق حرام کرنا مقصود تھا، اس سے شرعی حکم تبدیل نہیں ہوتا۔
لہٰذا اگر پہلی طلاق کے بعد عدّت میں رجوع ہوچکا تھا اور پھر مذکورہ شرط بھی پائی گئی یعنی آپ نے اپنی خالہ سے بات کی یا ان کے گھر میں کسی سے مدد لی تو مزید ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی، اور اس دوسری طلاق کے بائن ہونے کی وجہ سے میاں بیوی دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو نئے حق مہر کے ساتھ نیا نکاح کرنا درست ہے، تاہم اس صورت میں شوہر کے پاس آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهندية: (391/1، ط: دار الفكر)

رجل جعل أمر امرأته بيدها فقالت للزوج أنت علي حرام أو أنت مني بائن أو أنا عليك حرام أو أنا منك بائن فهذا كله طلاق.

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce