سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مجھے ایک مسئلے کے بارے میں شرعی رہنمائی/فتویٰ چاہیے۔
ایک لڑکی نے اپنے گھر والوں کی اجازت کے بغیر ایک لڑکے کے ساتھ خفیہ طور پر نکاح کیا، نکاح ایک مولوی صاحب نے پڑھایا تھا، لیکن لڑکی کے ولی (والد) کی اجازت شامل نہیں تھی۔ نکاح کے بعد لڑکی اور لڑکا صرف ایک دن ساتھ رہے، اس کے بعد دونوں الگ ہوگئے۔ اب اس بات کو تقریباً 6 سے 7 ماہ گزر چکے ہیں اور اس پورے عرصے میں دونوں ساتھ نہیں رہے، اب لڑکی کو کچھ ایسی باتیں معلوم ہوئی ہیں جن کی وجہ سے وہ اپنے شوہر کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی اور اس رشتے کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
اس بارے میں درج ذیل سوالات ہیں:
1) کیا ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا یہ نکاح شرعاً صحیح ہوا تھا یا نہیں؟
2) اگر نکاح صحیح نہیں ہوا تھا تو کیا طلاق دینا ضروری ہوگا یا نکاح خود ہی غیر معتبر سمجھا جائے گا؟
3) اگر نکاح صحیح مانا جائے تو طلاق لینے کا صحیح شرعی طریقہ کیا ہوگا؟ کیا لڑکی شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے؟ اور اگر شوہر طلاق دینے پر راضی نہ ہو تو لڑکی کے لیے کیا شرعی راستہ ہے؟
4) کیا شوہر فون پر طلاق دے سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو فون پر طلاق دینے کا صحیح شرعی طریقہ کیا ہوگا؟
5)چونکہ لڑکی کے گھر والوں کو ابھی اس نکاح کا علم نہیں ہے، اس لیے وہ فی الحال عدالت یا کسی کھلی شرعی مجلس میں نہیں جا سکتی۔ ایسی صورت میں شرعی طور پر کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟
6) نکاح کے بعد دونوں صرف ایک دن ساتھ رہے تھے اور پھر 6–7 ماہ سے بالکل الگ ہیں، اگر اب نکاح ختم کیا جائے تو کیا لڑکی پر عدت لازم ہوگی؟ اگر ہوگی تو کتنی؟
7) قرآن و حدیث کی روشنی میں اس پورے معاملے کا صحیح شرعی حکم کیا ہے؟
براہِ کرم تفصیلی جواب قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ دیں اور یہ بھی واضح فرمائیں کہ لڑکی کے لیے اس صورت میں رشتہ ختم کرنے کا صحیح اور مکمل شرعی طریقہ کیا ہوگا۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ لڑکی کا اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا شرعی و اخلاقی طور پر ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن اگر لڑکا اور لڑکی بالغ ہوں اور باقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیں اور لڑکا اس لڑکی کا کفو (یعنی دینداری، مال، نسب اور پیشہ میں لڑکی کا ہم پلہ ) بھی ہو تو شرعاً یہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے، البتہ غیر کفو میں نکاح کی وجہ سے ولی کو اولاد ہونے سے پہلے تک بذریعہ عدالت فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں آپ کا نکاح اس لڑکے سے منعقد ہوچکا ہے اور آپ اس کی بیوی ہیں، نکاح ختم کرنا یعنی طلاق دینا شوہر کا اختیار ہے، یہ فیصلہ آپ یکطرفہ طور پر نہیں کرسکتی ہیں، اور شوہر کے لیے بھی مناسب نہیں کہ وہ بلا وجہ طلاق دیدے، البتہ طلاق کے لیے میاں بیوی کا آمنے سامنے ہونا ضروری نہیں ہے، شوہر اگر زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کردے تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی، اور چونکہ آپ دونوں نکاح کے بعد ساتھ بھی رہے ہیں اس لیے طلاق کی صورت میں آپ پر عدت بھی لازم ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، رقم الآیۃ: 228)
وَ الۡمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکۡتُمۡنَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ فِیۡۤ اَرۡحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤۡمِنَّ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ ؕ وَ بُعُوۡلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ اِنۡ اَرَادُوۡۤا اِصۡلَاحًا ؕ وَ لَہُنَّ مِثۡلُ الَّذِیۡ عَلَیۡہِنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ ۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیۡہِنَّ دَرَجَۃٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌO
مصنف عبد الرزاق: (236/7، ط: المجلس العلمی)
عن ابن المسيب قال: الطلاق بالرجال، والعدة بالنساء۔
الھدایۃ: (335/2، ط: رحمانیۃ)
وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف " رحمهما الله " في ظاهر الرواية۔
الدر المختار: (56/3، ط: دارالفکر)
(وَلَهُ) أَيْ لِلْوَلِيِّ (إذَا كَانَ عَصَبَةً) وَلَوْ غَيْرَ مُحَرَّمٍ كَابْنِ عَمٍّ فِي الْأَصَحِّ خَانِيَّةٌ، وَخَرَجَ ذَوُو الْأَرْحَامِ وَالْأُمُّ وَالْقَاضِي (الِاعْتِرَاضُ فِي غَيْرِ الْكُفْءِ) فَيَفْسَخُهُ الْقَاضِي وَيَتَجَدَّدُ بِتَجَدُّدِ النِّكَاحِ (مَا لَمْ) يَسْكُتْ حَتَّى (تَلِدَ مِنْهُ) لِئَلَّا يَضِيعَ الْوَلَدُ وَيَنْبَغِي إلْحَاقُ الْحَبَلِ الظَّاهِرِ بِهِ۔
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی