resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: پوری رقم وصول نہ کرنے پر طلاق کو معلق کرنا

(61533-No)

سوال: دو افراد کے درمیان کاروباری لین دین کے معاملے میں اختلاف ہوا۔ ایک شخص کا کہنا تھا کہ دوسرے کے ذمے اس کے 36 لاکھ روپے ہیں، جبکہ دوسرے شخص کا کہنا تھا کہ 35 لاکھ روپے ہیں۔ اس پر پہلے شخص نے کہا: ’’اگر میں نے اپنے پورے پیسے وصول نہ کیے تو میری بیوی کو طلاق ہے۔‘‘
بعد میں باہمی حساب کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس کے ذمے 35 لاکھ روپے ہی تھے، اب سوال یہ ہے کہ 35 لاکھ روپے وصول کرنے کی صورت میں اس کی بیوی کو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص نے طلاق کو اپنی پوری رقم وصول نہ کرنے پر معلق کیا تھا، جو حساب و کتاب کے بعد اسے موصول ہوگئی ہے، لہٰذا شرط (مکمل رقم کی عدمِ وصولی) نہ پائی جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ جس سیاق میں اس شخص نے مذکورہ الفاظ کہے ہیں، اس سے اگرچہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے گمان کے مطابق چھتیس لاکھ روپے کو اپنا حق قرار دے کر اس کی عدمِ وصولی پر طلاق کو معلق کیا تھا، لیکن حساب و کتاب کے بعد چونکہ اس کا یہ دعویٰ خلافِ واقع ثابت ہوگیا ہے، لہٰذا خلافِ واقع گمان پر مبنی ہونے کی وجہ سے اس کا یہ دعویٰ کالعدم شمار ہوکر تعلیقِ طلاق کے سلسلے میں معتبر نہیں ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوىٰ الهندية: (420/1، ط: دار الفكر)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

الدر المختار مع رد المحتار: (342/3، ط: دار الفكر)
وشرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود؛ فالمحقق كإن كان السماء فوقنا تنجيز، والمستحيل كإن دخل الجمل في سم الخياط لغو.
(قوله لغو) فلا يقع أصلا لأن غرضه منه تحقيق النفي حيث علقه بأمر محال، وهذا يرجع إلى قولهما إمكان البر شرط انعقاد اليمين خلافا لأبي يوسف وعلى هذا ظهر ما في الخانية: لو قال لها إن لم تردي علي الدينار الذي أخذتيه من كيسي فأنت طالق فإذا الدينار في كيسه لا تطلق بحر، ومنه ما في القنية: سكران طرق الباب فلم يفتح له فقال إن لم تفتحي الباب الليلة فأنت طالق ولم يكن في الدار أحد لا تطلق نهر ومنه مسائل ستأتي في الفروع آخر الباب.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce