عنوان: سورۃ انعام کی ابتدائی تین آیات کی فضیلت سے متعلق حدیث کی تخریج تحقیق (106177-No)

سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب ! درج ذیل فضیلت کی تصدیق فرما دیں۔ ثعلبی نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں: جو شخص سورۃ انعام کی شروع کی تین آیتیں پڑھے، اس پر اللہ تعالی 40 ہزار فرشتے مقرر فرما دیتے ہیں، جو اس کے لیے قیامت کے دن تک اپنی عبادت کے برابر ثواب لکھتے رہتے ہیں اور ساتویں آسمان سے ایک فرشتہ اترتا ہے، جس کے ہمراہ لوہے کا ایک گرض ہوتا ہے، جب کبھی شیطان اس کو وسوسہ ڈالنے کا یا اس کے دل میں کوئی برا خیال ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے، تو فرشتہ اس شیطان کو اس زور سے گرض مارتا ہے کہ اس آدمی اور شیطان کے درمیان ستر پردے حائل ہو جاتے ہیں، پھر جب قیامت کا دن ہو گا، اللہ تعالی اس آدمی سے فرمائیں گے، اس دن تو میری رحمت کے سائے میں چل، جبکہ میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں اور میری جنت کے پھلوں میں سے کھا اور حوض کوثر سے پانی پی اور نہر سلسبیل میں غسل کر تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں۔ تفسیر قرطبی

جواب: سوال میں ذکر کردہ حدیث سورۃ انعام کی ابتدائی تین آیات سے متعلق ہے، جو چار صحابہ کرام: حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت انس بن مالک اور حضرت عبداللہ بن عباس رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین سے مختلف کتب حدیث میں ذکر کی گئی ہے، ذیل میں اس حدیث کے تمام طرق ان کے ترجمہ کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے:

١- حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث

١- أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ خَلَفٍ الوَرَّاقُ بِبَغْدَادَ، فِي صَفَرٍ سَنَةَ إِحْدَى وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ عُثْمَانَ التَّمَّارُ -بَغْدَادِيٌّ ثِقَةٌ- قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ المَوْصِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: «مَنْ صَلَّى الفَجْرَ مَعَ الإِمَامِ فِي جَمَاعَةٍ، وَقَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ، وَقَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الأَنْعَامِ، وَكَّلَ اللهُ بِهِ سَبْعِينَ مَلَكًا يُسَبِّحُونَ اللهَ وَيَسْتَغْفِرُونَ لَهُ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ، وَبَعَثَ اللهُ مَلَكًا مِنَ السَّمَاءِ» الحَدِيث.
(قوارع القرآن لأبی عمرو الجوري- ص١٠٩ (٥٤) فاتحة سورة الأنعام)

٢- (وکذا فی تمھید الفرش نقلا عن مسند الديلمی ص٦٩)

ترجمہ:
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی پھر وہیں مسجد میں بیٹھ کر سورہ انعام کی اول تین آیت پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ ستر فرشتوں کو مقرر فرما دیتے ہیں جو اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کے لیے قیامت تک استغفار کرتے ہیں اور اس کے لیے ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں۔

٢- حضرت جابر بن عبد الله رضي الله عنهما کی حدیث

١- من طريق محمد بن عبد ربه، قال: ثنا منصور بن عبد الحميد أبو نصير، عن الحجاج بن محمد، عن محمد بن مسلم، عن أبي صالح، عن جابر بن عبد الله، عن النبي ﷺ قال: «مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الأَنْعَامِ إِلَى قَوْلِهِ: (وَيَعْلَمُ ما تَكْسِبُونَ)، وَكَّلَ اللهُ بِهِ أَرْبَعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَكْتُبُونَ لَهُ مِثْلَ عِبَادَتِهِمْ إِلَى يَوْمِ القِيَامَةِ، وَيَنْزِلُ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، وَمَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَإِذَا أَرَادَ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوَسْوِسَ أَوْ يُوحِيَ فِي قَلْبِهِ شَيْئًا، ضَرَبَهُ ضَرْبَةً، كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ سَبْعُونَ حِجَابًا، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ القِيَامَةِ يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: امْشِ فِي ظِلِّي، وَكُلْ مِنْ ثِمَارِ جَنَّتِي، وَاشْرَبْ مِنْ مَاءِ الكَوْثَرِ، وَاغْتَسِلْ مِنْ مَاءِ السَّلْسَبِيلِ، وَأَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ».
(تفسیر الثعلبی ١٢/ ١٦ (١٣٤٠) سورة الأنعام)

مرسل أبی صالح رحمہ اللّٰہ
من طريق بشير بن زاذان، عن أبي الحجاج رشدين بن سعد، عن محمد بن مسلم، عن أبي صالح، مرسلًا: «مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الأَنْعَامِ حِينَ يُصْبِحُ، وَكَّلَ اللهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَحْفَظُونَهُ، وَكَتَبَ لَهُ مِثْلَ أَعْمَالِهِمْ ... الحديث، وفي آخره: «لَا حِسَابَ عَلَيْكَ وَلَا عَذَابَ».
(تفسیر الوسیط للواحدي ٢/ ٢٥٠ سورة الأنعام)

ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص صبح کی نماز میں سورہ انعام میں سے پہلی تیں آیتیں پڑھے لفظ آیت ﴿ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ﴾ تک تو اس کی طرف اللہ تعالیٰ چالیس ہزار فرشتے نازل فرمائیں گے جن کے اعمال کی مثل اس کے لیے اجر لکھا جائے گا۔ اور اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جائے گا ساتویں آسمان کے اوپر سے اس کے پاس لوہے ایک ہتھوڑا ہوتا ہے، اگر شیطان اس کے دل میں کوئی برائی (وسوسہ) ڈالنے کی کوشش کرے گا، تو وہ فرشتہ اسے ہتھوڑے سے مارے گا، یہاں تک کہ اس کے اور شیطان کے درمیان ستر حجاب قائم ہوجائیں گے۔ جب قیامت کا دن ہوگا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ ہے، میرے سائے میں چلا جا، کوثر میں سے پی لے، سلسبیل میں سے نہا لے، اور بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوجا۔

٣- حضرت أنس بن مالك رضي الله عنه کی حدیث

من طريق إبراهيم بن الحكم بن ظُهَير، قال: أخبرني أبي، عن أبي رجاء، عن ثابت البناني، عن أنس بن مالك، عن النبي ﷺ قال: «مَنْ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الأَنْعَامِ إِذَا صَلَّى الغَدَاةَ، نَزَلَ إِلَيْهِ أَرْبَعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ...فذكره كنحو حديث جابر.
(قوارع القرآن لأبی عمرو الجوري، ص١٠٧ (٥٢) فاتحة سورة الأنعام)

وقال الذهبي في «الميزان» ١/ ١٤٦: إبراهيم بن الحكم بن ظُهير الكوفي، شيعي جلد. له عن شريك. قال أبو حاتم: كذاب، روى في مثالب معاوية، فمزقنا ما كتبنا عنه. وقال الدارقطني: ضعيف. وقال في (٢/ ٣٣٦) ترجمة أبيه الحكم بن ظُهير: قال ابن معين: ليس بثقة. وقال مَرَّةً: ليس بشيء. وقال البخاري: منكر الحديث. وقال مَرَّةً: تركوه.

ترجمہ:
حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص صبح کی نماز کے بعد سورہ انعام میں سے پہلی تیں آیتیں پڑھے، تو اس کی طرف اللہ تعالیٰ چالیس ہزار فرشتے نازل فرمائیں گے جن کے اعمال کی مثل اس کے لیے اجر لکھا جائے گا۔ اور اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جائے گا ساتویں آسمان کے اوپر سے اس کے پاس لوہے ایک ہتھوڑا ہوتا ہے، اگر شیطان اس کے دل میں کوئی برائی (وسوسہ) ڈالنے کی کوشش کرے گا، تو وہ فرشتہ اسے ہتھوڑے سے مارے گا، یہاں تک کہ اس کے اور شیطان کے درمیان ستر حجاب قائم ہوجائیں گے۔ جب قیامت کا دن ہوگا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ ہے، میرے سائے میں چلا جا، کوثر میں سے پی لے، سلسبیل میں سے نہا لے، اور بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوجا۔

٤- حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کی حدیث

وروى الحافظ في «الأمالي المطلقة» ص ٢٠٤ من طريق السلفي، قال: أخبرنا علي بن أحمد بن بيان، قال: أخبرنا طلحة بن علي، قال: أخبرنا أحمد بن عثمان الأدمي، قال: حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شيبة، قال: حدثنا إبراهيم بن إسحاق الصيني، قال: حدثنا يعقوب القمي، قال: حدثنا جعفر بن أبي المغيرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضی الله عنہما قال: مَنْ قَرَأَ إِذَا صَلَّى الغَدَاةَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الأَنْعَامِ إِلَى (وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ)، نَزَلَ إِلَيْهِ أَرْبَعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، يُكْتَبُ لَهُ مِثْلُ أَعْمَالِهِمْ ... الخ، وقال: هذا حديث غريب، والمتَّهم به إبراهيم بن إسحاق، وإن كان في محمد بن عثمان بعض الضعف، لكنه لم يُترك، وأما إبراهيم قال الدارقطني: متروك. وقال الأزدي: زائغ. وأما ابن حبان فذكره في «الثقات», لكن قال: ربما خالف. وذكره السيوطي في «الدر المنثور» (٦/ ١٠)، فقال: وأخرج السلفي بسندهٍ واهٍ عن ابن عباس مرفوعًا... الحديث.

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص صبح کی نماز کے بعد سورہ انعام میں سے پہلی تیں آیتیں پڑھے لفظ آیت ﴿ وَیَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ﴾ تک تو اس کی طرف اللہ تعالیٰ چالیس ہزار فرشتے نازل فرمائیں گے جن کے اعمال کی مثل اس کے لیے اجر لکھا جائے گا۔ اور اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جائے گا ساتویں آسمان کے اوپر سے اس کے پاس لوہے ایک ہتھوڑا ہوتا ہے، اگر شیطان اس کے دل میں کوئی برائی (وسوسہ) ڈالنے کی کوشش کرے گا، تو وہ فرشتہ اسے ہتھوڑے سے مارے گا، یہاں تک کہ اس کے اور شیطان کے درمیان ستر حجاب قائم ہوجائیں گے۔ جب قیامت کا دن ہوگا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تیرا رب ہوں اور تو میرا بندہ ہے، میرے سائے میں چلا جا، کوثر میں سے پی لے، سلسبیل میں سے نہا لے، اور بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوجا۔

حدیث کا حکم
مذکورہ بالا حدیث میں سے حضرت انس رضی اللّٰہ عنہ کی روایت کے راوی ابراھیم بن الحکم بن ظھیر اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہما کی حدیث کی سند پر محدثین نے کلام کیا ہے، ان کو ضعیف قرار دیا ہے، البتہ چونکہ یہ روایت فضائل کے متعلق ہے اور فضائل میں ضعیف حدیث، خاص طور پر جب اس کے طرق بھی زیادہ ہوں، تو محدثین نے اسے بیان کرنے کی اجازت دی ہے، لہذا اس روایت کو بیان کیا جا سکتا ہے اور اس پر عمل کرنا باعث اجر وثواب ہے۔

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
Print Views: 551

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat

Copyright © AlIkhalsonline 2021. All right reserved.

Managed by: Hamariweb.com / Islamuna.com