سوال:
مفتی صاحب! مجھے کام کے سلسلے میں اور امریکہ سے وطن واپسی کے لیے طلاق کی دستاویز درکار ہے، اگر میں امریکہ میں رہتے ہوئے ہندوستان میں کسی شخص کو 'پاور آف اٹارنی' (اختیارِ وکالت) دوں تاکہ وہ میری جانب سے طلاق کے تمام معاملات نمٹا سکے اور عدالت میں پیشی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہو تو کیا ایسی صورت میں طلاق شرعاً درست ہوگی؟ یا پھر کیا کوئی ایسی صورت ممکن ہے جس میں شرعی قانون کے تحت باقاعدہ طلاق واقع ہوئے بغیر یہ معاملہ حل ہو سکے؟ میں اپنی اہلیہ کو طلاق نہیں دینا چاہتا؛ مجھے یہ سب صرف کاغذی کارروائی (پیپر ورک) کے لیے کرنا ہے۔
جواب: واضح رہے کہ کام یا کاروبار کے لیے بیوی کو طلاق دینا مناسب طرزِ عمل نہیں ہے، لیکن اگر ضروری ہو اور امریکہ میں کام جاری رکھنے یا وطن واپسی کے لیے طلاق کے کاغذات پیش کرنا ضروری ہوں تو اس کے حل کے لیے درج ذیل صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار کی جاسکتی ہے:
1)شوہر بیوی کو ایک طلاق دیدے، پھر عدّت گزرنے کے بعد قانونی طلاق نامہ جمع کرایا جائے، اور پھر دوبارہ بیوی سے نئے حق مہر کے ساتھ نکاح کرلیا جائے، البتہ ایک طلاق واقع ہونے کی وجہ سے آئندہ دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
2)دوسری صورت یہ ہے کہ قانونی کاغذات میں طلاق کے الفاظ کے ساتھ متصل طور پر "إن شاء الله" لکھا جائے تو شرعاً طلاق واقع نہیں ہوگی۔
بہتر یہی ہے کہ ان دونوں صورتوں میں سے کوئی صورت اختیار کرلی جائے، اگر ان پر بھی عمل ممکن نہ ہو تو مجبوری میں درج ذیل تیسری صورت بھی اختیار کی جاسکتی ہے:
3)شوہر پہلے سے اس بات پر دو گواہ بنالے کہ قانونی ضرورت کے پیشِ نظر فرضی طلاق نامہ بنوایا جارہا ہے، حقیقی طلاق مقصود نہیں۔ پھر طلاق نامہ بنانے والے کو طلاق کا وکیل نہ بنائے، اور نہ ہی اس طلاق نامہ پر خود دستخط کرے، نہ انگوٹھا (Finger prints) لگائے، بلکہ کسی اور شخص سے اپنا دستخظ کروالے، ایسی صورت میں صرف اس فرضی طلاق نامے سے شرعاً طلاق واقع نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*الهندية: (1/ 378)*
ولو كتب إليها أما بعد فأنت طالق ثلاثا إن شاء الله تبارك وتعالى موصولا بكتابته لا تطلق وإن كان مفصولا تطلق كذا في الظهيرية.
*رد المحتار على الدر المختار: (3/ 246، ط: دار الفكر)*
ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه....
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی