سوال:
میں ایک کال سینٹر میں کام کرتا ہوں، جہاں میں جنازہ گاہوں (Funeral Homes) کے لیے پیغامات وصول کرتا ہوں، ان میں سے بعض جنازہ گاہوں میں میت کو جلانے (Cremation) کا بھی انتظام ہوتا ہے۔
میرا کام یہ ہے کہ ہسپتال، ہسپِس (Hospice) یا دیگر متعلقہ اداروں سے کسی شخص کی وفات کی اطلاع اور اس سے متعلق معلومات حاصل کرکے انہیں جنازہ گاہ تک پہنچاؤں، ان جنازہ گاہوں میں سے بعض میت کو جلانے کا عمل بھی انجام دیتی ہیں، کیا میرے لیے اس طرح کی ملازمت کرنا شرعاً جائز ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں ایسے کال سینٹر میں کام کرنا بذاتِ خود جائز ہے جہاں ہسپتال، ہسپس (Hospice) یا دیگر متعلقہ اداروں سے کسی شخص کی وفات کی اطلاع جنازہ گاہوں (Funeral Homes) تک پہنچائی جاتی ہے۔
البتہ چونکہ شریعتِ مطہرہ میں میت کو جلانا (Cremation) جائز نہیں، یہ میت کی بے حرمتی اور غیر شرعی فعل ہے، اس لیے مسلمان کے لیے کسی ایسے جنازہ گاہ تک میت کو پہنچانا جہاں میت کو جلانے کا انتظام کیا جاتا ہو، اگرچہ براہِ راست گناہ میں شرکت نہیں لیکن گناہ کے کام میں کسی قدر معاونت اور اسباب فراہم کرنے کی وجہ سے کراہت سے خالی نہیں، لہذا اگرچہ اس سے حاصل ہونے والی آمدن حرام نہیں ہوگی، تاہم احتیاط اسی میں ہے کہ اس کام سے بچنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*دلائل:*
*حاشیۃ ابن عابدین (235/5، ط: دار الفكر):*
(قوله: اكتسب حراما إلخ) توضيح المسألة ما في التتارخانية حيث قال: رجل اكتسب مالًا من حرام ثم اشترى فهذا على خمسة أوجه: أما إن دفع تلك الدراهم إلى البائع أولا ثم اشترى منه بها أو اشترى قبل الدفع بها ودفعها، أو اشترى قبل الدفع بها ودفع غيرها، أو اشترى مطلقا ودفع تلك الدراهم، أو اشترى بدراهم أخر ودفع تلك الدراهم. قال أبو نصر: يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير: إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح. وقال الكرخي: في الوجه الأول والثاني لا يطيب، وفي الثلاث الأخيرة يطيب، وقال أبو بكر: لا يطيب في الكل، لكن الفتوى الآن على قول الكرخي دفعا للحرج عن الناس اه. وفي الولوالجية: وقال بعضهم: لا يطيب في الوجوه كلها وهو المختار، ولكن الفتوى اليوم على قول الكرخي دفعا للحرج لكثرة الحرام اه وعلى هذا مشى المصنف في كتاب الغصب تبعا للدرر وغيرها.
*الفتاوی الھندیة: (343/5- ط: دار الفكر):*
أهدى إلى رجل شيئا أو أضافه إن كان غالب ماله من الحلال فلا بأس إلا أن يعلم بأنه حرام، فإن كان الغالب هو الحرام ينبغي أن لا يقبل الهدية، ولا يأكل الطعام إلا أن يخبره بأنه حلال ورثته أو استقرضته من رجل، كذا في الينابيع.
*فقه البیوع (1/193، مکتبة معارف القرآن)*
وإن لم يكن محركاً وداعياً، بل موصلاً محضاً، وهو مع ذلك سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامة المعصية به إلى إحداث صنعة من الفاعل، كبيع السلاح من أهل الفتنة، وبيع الأمرد ممن يعصي به، وإجارة البيت ممن يبيع فيه الخمر، أو يتخذها كنيسة أو بيت نار وأمثالها، فكله مكروه تحريماً بشرط أن يعلم به البائع والأجر، من دون تصريح باللسان، فإنه إن لم يعلم كان معذوراً، وإن علم وصرح كان داخلاً في الإعانة المحرمة. وإن كان سبباً بعيداً بحيث لا يفضي إلى المعصية على حالتها الموجودة، بل يحتاج إلى إحداث صنعة فيه، كبيع الحديد من أهل الفتنة وأمثالها، فذكر تنزيهاً.
*دارالافتاء دارالعلوم دیوبند: رقم الفتوی:(503-438/N=7/144)*
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی