resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: ایک طلاق دینےکے بعد دستاویزی ثبوت کے لیے اسی کو لکھنا

(62562-No)

سوال: میرے اور میری بیوی کے درمیان اختلافات کی وجہ سے میں نے پہلی مرتبہ واٹس ایپ کے ذریعے اپنی بیوی کو یہ پیغام لکھ کر طلاق دی: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" اس کے بعد میں نے طلاق کا ایک تحریری ڈیڈ/دستاویز تیار کروایا، جس میں یہ لکھا تھا کہ میں اپنی بیوی کو پہلی طلاق دے رہا ہوں۔ میں نے اس غیر دستخط شدہ مسودے (Draft) کو اپنی بیوی کے ساتھ اس وضاحت کے ساتھ شیئر کیا کہ اگر وہ عدت کے دوران باہمی صلح اور رجوع کرنا چاہے تو میں اس کے لیے تیار ہوں، اور اگر وہ صلح نہیں کرنا چاہتی تو سرکاری ریکارڈ میں طلاق درج کروانے کے مقصد سے میں اس دستاویز پر دستخط کرکے اسے یونین کونسل میں جمع کروا دوں گا۔
ہماری صلح کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی، چنانچہ بعد میں میں نے اسی دستاویز پر دستخط کیے اور اسے یونین کونسل میں رجسٹر کروا دیا، اس پورے عرصے کے دوران میری نیت صرف ایک طلاق دینے کی تھی، اور اسی نیت کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے قانونی دستاویزات بھی تیار کروائی تھیں، اب میری سابقہ بیوی اور میں دوبارہ صلح کرنا اور ازدواجی زندگی ایک ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ شرعی اعتبار سے اس صورتِ حال میں ہم پر کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
براہِ کرم اس پورے واقعے کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں اور یہ بھی بتائیں کہ واٹس ایپ پر لکھے گئے الفاظ، غیر دستخط شدہ طلاق کے مسودے اور بعد میں دستخط کرکے یونین کونسل میں رجسٹر کروائے گئے طلاق نامے میں سے ہر ایک کا شرعی طور پر کیا حکم ہے؟

جواب: پوچھی گئی صورت میں واٹس ایپ پر بیوی کو "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" لکھ کر بھیجنے سے ایک طلاق واقع ہوگئی تھی۔
اس کے بعد تیار کیا گیا طلاق نامہ چونکہ اسی پہلی طلاق کی تحریری دستاویز اور قانونی کارروائی کے طور پر تیار کیا گیا تھا، اور سوال کے مطابق شوہر کی نیت اس کے ذریعے نئی طلاق دینا نہیں تھی، بلکہ پہلے سے دی گئی ایک طلاق کو دستاویزی شکل دے کر سرکاری ریکارڈ میں درج کروانا مقصود تھا، اس لیے اگر شوہر حلفاً یہ بیان کرتا ہے کہ طلاق نامہ تیار کرواتے اور اس پر دستخط کرتے وقت اس کی نیت نئی طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ صرف پہلے سے واقع شدہ طلاق کی توثیق اور قانونی اندراج مقصود تھا تو مجموعی طور پر ایک ہی طلاق واقع ہوئی ہے۔
اگر اس طلاق کی عدت گزر چکی ہے تو دونوں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرکے ازدواجی زندگی شروع کرسکتے ہیں، اور شوہر کے پاس آئندہ دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
اور اگر شوہر اس پر حلف نہ اٹھائے تو ایسی صورت میں قضاءً دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، ایسی صورت میں اگر شوہر نے پہلے کوئی طلاق نہیں دی تھی تو بھی دوطلاقوں کے بعد رجوع کرنا درست ہے، تاہم آئندہ شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے، لہٰذا اس کے لیے طلاق کے معاملے میں بہت احتیاط سے کام لینا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الهندية: (355/1، ط: دار الفكر)

رجل قال لامرأته يا مطلقة إن لم يكن لها زوج قبل أو كان لها زوج لكن مات ذلك الزوج ولم يطلق وقع الطلاق عليها وإن كان لها زوج قبله وقد كان طلقها ذلك الزوج إن لم ينو بكلامه الإخبار طلقت وإن قال عنيت به الإخبار دين فيما بينه وبين الله تعالى وهل يدين في القضاء اختلفت الروايات فيه والصحيح أنه يدين ولو قال نويت به الشتم دين فيما بينه وبين الله تعالى لا في القضاء ولو قال لها أطلقتك إن نوى به الطلاق يقع وإلا فلا كذا في فتاوى قاضي خان

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce