resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: سائکک ریڈنگ، نیومرولوجی اور غیر شرعی روحانی اعمال کا شرعی حکم

(62563-No)

سوال:
خدمتِ اقدس مفتی صاحبان، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آج کل یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹک ٹاک پر "صوفی گائیڈنس" (Sufi Guidance) کے نام سے ایک چینل موجود ہے، جس کے رضا علی شاہ العابدی نامی شخص اپنے آپ کو "Psychic Reader"، روحانی معالج اور "Numerologist" (نیومرولوجسٹ) کہتے ہیں اور خواتین و نوجوانوں میں کافی مقبول ہیں۔
یہ شخص اپنی لائیو یوٹیوب ویڈیوز میں لوگوں کے موجودہ حالات اور مستقبل سے متعلق پریشانیوں کے بارے میں بتانے کا دعویٰ کرتا ہے اور "Psychic Reading" کے ذریعے لوگوں کے ذہن کی باتیں اور حالات معلوم کرنے کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔
یہ لوگ قرآن و حدیث میں بیان کردہ مسنون طریقوں کے بجائے علمِ اعداد (Numerology)، علمِ ابجد اور بعض مخصوص اعداد، مثلاً:112211 وغیرہ، کو وظائف اور میڈیٹیشن میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح 786 مرتبہ بسم اللہ یوٹیوب پر لائیو سننے، "یا لطیف" تین ہزار یا چھ ہزار مرتبہ یوٹیوب سے سننے اور "یٰسین وردِ مبین" بھی ان کے چینل سے سننے کی ہدایت دیتے ہیں۔
یہ پلیٹ فارم خود کو "Multi-religious" یعنی کثیر المذاہب پلیٹ فارم بھی قرار دیتا ہے اور غیر مسلموں کو بھی روحانی سکون کے لیے اسلامی کلمات اور مخصوص میڈیٹیشن کرواتا ہے۔
بظاہر یہ پلیٹ فارم مفت ہے، تاہم ان سے فوری یا نجی رابطے اور مشاورت کے لیے تقریباً 1,70,000 پاکستانی روپے کی پریمیم ممبرشپ فیس مقرر ہے، جبکہ وہ مختلف مسائل کے حل اور نجی مشاورت کے عوض بھاری تجارتی فیس بھی وصول کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
1) شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں کیا کسی مسلمان کے لیے ایسے "Psychic Reader" یا "Numerologist" کے پاس جانا، ان سے اپنے مسائل کا حل پوچھنا، ان سے مشورہ لینا اور ان کی بتائی ہوئی باتوں پر یقین کرنا جائز ہے؟
2) کیا وظائف یا روحانی اعمال کے لیے 112211 جیسے مخصوص غیر مسنون اعداد و شمار کا استعمال شرعاً درست ہے؟
3) کیا "786" مرتبہ بسم اللہ، "یا لطیف" تین ہزار یا چھ ہزار مرتبہ اور "یٰسین وردِ مبین" وغیرہ کو مذکورہ طریقے سے مقرر کرکے یوٹیوب سے سننے کی ترغیب دینا اور ان پر عمل کرنا شرعاً درست ہے؟
4) کیا کسی مسلمان کے لیے ایسے چینلز اور پلیٹ فارمز کو سننا، دیکھنا، ان سے مسائل کا حل دریافت کرنا، ان کی باتوں پر یقین کرنا، ان کی ممبرشپ یا گروپ میں شامل ہونا یا انہیں کسی بھی طرح سپورٹ کرنا جائز ہے؟
5) اگر ایسے افراد مستقبل کے حالات، لوگوں کے پوشیدہ احوال یا ان کے ذہن کی باتیں جاننے کا دعویٰ کرتے ہوں تو ان کے اس دعوے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں واضح اور مفصل حکم بیان فرما دیں، تاکہ عام مسلمان ایسے معاملات میں شرعی رہنمائی حاصل کرکے گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: شخص مذکور اوراس کے قائم کردہ ’’صوفی گائیڈنس‘‘ پلیٹ فارم کے حوالے سے ذکر کردہ سرگرمیوں کا شرعی حکم درج ذیل ہے:
1) ایسے افراد کے پاس جا کر مستقبل کے حالات، پوشیدہ امور یا کسی شخص کے باطن و ذہن کے بارے میں معلومات حاصل کرنا اور ان کے دعووں کو غیبی خبر سمجھ کر سچ ماننا شرعاً ناجائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: قل لا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله )فرما دیجیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے، اللہ کے سوا غیب کا علم نہیں رکھتا۔ النمل: 65)، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من أتى كاهناً أو عرافاً فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد)جو شخص کسی کاہن یا نجومی (غیب کا دعویٰ کرنے والے) کے پاس گیا اور اس کی بات کو سچ مان لیا تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی۔ سنن الترمذي حدیث نمبر135) لہٰذا اگر کوئی شخص محض ظن و تخمین، نجوم، اعداد، کشف یا کسی اور غیر شرعی طریقے سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کا دعویٰ کرے تو اس کی تصدیق اور اس کے دعوے کو معتبر سمجھنا سخت گناہ ہے، البتہ کسی کے کفر کا حکم لگانے کے لیے اس کے عقیدے اور مخصوص قول کی تفصیل الگ سے ملحوظ ہوگی۔
2) ایسے اعداد جنہیں کسی خاص روحانی تاثیر، غیبی اثر یا دینی فضیلت کا حامل سمجھا جائے، جبکہ قرآن و سنت سے ان کی کوئی شرعی بنیاد ثابت نہ ہو، ان کو بطور وظیفہ یا دینی عمل اختیار کرنا درست نہیں، عبادات اور اذکار میں جس خاص تعداد، وقت یا طریقے کو شریعت نے متعین کیا ہو، اس کی پابندی ضروری ہے اور کسی غیر ثابت عدد کو شرعی تاثیر کے ساتھ لازم کرنا بدعت اور قابلِ اجتناب عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد.) جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے (یعنی وہ ناقابلِ قبول اور رد کر دی جائے گی.(صحیح البخاری حدیث: 2697، صحیح مسلم حدیث: 1718)
3) بسم اللہ، ذکرِ الٰہی اور اسمائے حسنیٰ کا پڑھنا بذاتِ خود باعثِ اجر ہے، لیکن کسی ایسے عدد کو جسے شریعت نے متعین نہیں کیا، دینی فضیلت یا مخصوص نتیجے کے حصول کے لیے لازم سمجھنا درست نہیں۔ خصوصاً ’’786‘‘ کو بسم اللہ الرحمن الرحیم کا شرعی قائم مقام سمجھنا صحیح نہیں، یہ صرف ابجدی حساب سے حاصل ہونے والا ایک عدد ہے، شریعت میں اس عدد کو بسم اللہ کا متبادل یا مستقل وظیفہ قرار نہیں دیا گیا۔ اسی طرح ’’3000 مرتبہ یا لطیف‘‘ یا اس نوع کے دوسرے اعداد کو شرعی طور پر متعین وظیفہ قرار دینے کے لیے معتبر شرعی دلیل ضروری ہے، البتہ مطلق ذکر کی صورت میں کسی شخص کا اپنی سہولت کے مطابق کثرت سے ذکر کرنا الگ مسئلہ ہے، اصل ممانعت غیر ثابت عدد کو شرعی فضیلت، لازم طریقہ یا مخصوص اثر کے ساتھ وابستہ کرنے میں ہے۔
4) اگر کسی پلیٹ فارم پر مذکورہ غیر شرعی عقائد و اعمال کی ترویج کی جاتی ہو اور آدمی انہیں درست سمجھ کر یا ان کی ترویج و تقویت کے لیے اس پلیٹ فارم کو فیس، ممبرشپ یا مالی تعاون فراہم کرے تو یہ ناجائز کام کی معاونت کے حکم میں ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ولا تعاونوا على الإثم والعدوان (اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔المائدة: 2) لہٰذا ایسے پروگراموں میں شرکت، ان کی تشہیر، ان کے باطل یا غیر شرعی نظریات کی تائید اور ان کی مالی پشت پناہی سے اجتناب لازم ہے، البتہ محض کسی مواد کو اس نیت سے دیکھنا کہ اس کی حقیقت معلوم کی جائے یا اس کا شرعی رد کیا جائے، اس کا حکم الگ ہوگا۔
5) مستقبل کے غیبی حالات کا مستقل اور ذاتی علم کسی مخلوق کو حاصل نہیں، اللہ تعالیٰ ہی عالم الغیب ہے، البتہ انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ بعض غیبی امور بذریعہ وحی بتاتا ہے، لہٰذا کوئی شخص اگر نجوم (Astrology)، نیومرولوجی (Numerology)، سائکک ریڈنگ (Psychic Reading) یا کسی غیر شرعی ذریعے سے مستقبل کے یقینی حالات یا لوگوں کے پوشیدہ امور جاننے کا دعویٰ کرے تو یہ شرعاً ناقابلِ اعتبار دعویٰ ہے، ایسے دعووں پر یقین کرنا اور لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا جائز نہیں۔
خلاصہ:
پوچھی گئی صورت میں اگر مذکورہ پلیٹ فارم پر سائکک ریڈنگ، نیومرولوجی، غیب دانی، غیر شرعی اعداد و وظائف اور اس قسم کے باطل یا غیر ثابت روحانی طریقوں کی ترویج کی جاتی ہے تو مسلمانوں کے لیے ان عقائد و اعمال کو اختیار کرنا، ان کی تصدیق کرنا، ان سے اپنے مسائل کا حل طلب کرنا اور ان کی ترویج یا مالی معاونت کرنا جائز نہیں۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے دینی و دنیاوی مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت سے ثابت اذکار و دعاؤں، نماز، توبہ و استغفار، صدقہ، صبر اور جائز اسباب اختیار کرے اور نام نہاد روحانی عاملوں اور غیب دانی کے دعوے داروں سے اجتناب کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الدلائل:

صحیح مسلم: (صحیح مسلم، کتاب السلام، باب تحریم الکاہنة وإتیان الکاہن، حدیث2230):
مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً.

سنن ابی داود: (سنن أبي داود، كتاب الطب، باب في الكهان، حدیث: 3904)
مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم.

جامع ترمذی(جامع الترمذي، كتاب الطهارة، باب ما جاء في كراهية إتيان الحائض، حدیث: 135)
مَنْ أَتَى كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم.

صحیح البخاری،﴿ کتاب الصلح، باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود، حدیث: 2697؛ صحیح مسلم، کتاب الأقضیة، حدیث: 1718﴾
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ.

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications