سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا کاروبار چین میں ہے اور ہماری فیکٹری میں plain (بغیر کسی نشان کے) fez hats/caps اور کپڑے تیار ہوتے ہیں، ہم یہ اشیاء پاکستان میں مسلمان تاجروں/کاریگروں کو wholesale میں فروخت کرتے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے خریدار ان plain Fez اور کپڑوں پر Freemasons کے مخصوص symbols اور embroidery کرتے ہیں اور پھر یہ مکمل شدہ اشیاء Freemasons کو فروخت کی جاتی ہیں، ہماری طرف سے Fez یا کپڑے پر کوئی Masonic symbol، logo یا embroidery نہیں ہوتی، ہم صرف plain/raw product فروخت کرتے ہیں، ہم Freemasons کو براہ راست بھی فروخت نہیں کرتے۔
سوال: کیا ہمارے لیے ایسی plain Fez caps اور کپڑے مسلمان خریداروں کو wholesale فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ بعد میں انہیں Masonic regalia بنانے کے لیے استعمال کریں گے؟ اگر یہ اعانت علی الاثم میں آتا ہے تو کیا ہماری یہ بیع حرام ہوگی یا مکروہ تحریمی؟ اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کیا حکم ہے؟ جزاک اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ "اعانت علی المعصیت" (گناہ کے کام میں معاونت) اس وقت ہوتی ہے جب بیچنے والے کا مقصد گناہ کے کام میں مدد کرنا ہو یا معاملہ کرتے وقت صراحت کردی جائے کہ خریدنے والا اشیاء کو صرف ناجائز مقصد کے لئے استعمال کرے گا یا ایسی چیز فروخت کی جائے جو صرف گناہ کے کام میں استعمال ہوتی ہو اور اس کا کوئی دوسرا جائز استعمال ممکن نہ ہو۔
چنانچہ اگر آپ فیکٹری میں صرف پلین Fez caps اور کپڑے بنا کر بغیر کسی غیر اسلامی علامت یا کڑھائی کے فروخت کرتے ہیں تو ایسی اشیاء فروخت کرنا جائز ہے اور اس کی آمدنی بھی حلال ہے، صرف اس شبہ کی وجہ سے کہ ممکن ہے خریدار ان پر غیر اسلامی علامات لگا کر فروخت کرے گا، یہ "اعانت علی المعصیت" یا گناہ کا سبب نہیں بنتا۔
البتہ اگر کسی خاص خریدار کے بارے میں آپ کو علم ہو کہ وہ یہ چیزیں Freemasons کے لباس کی تیاری کے لیے خرید رہا ہے تو یہ عمل کسی درجہ میں گناہ کا سبب ہے، اس لئے یہ خاص معاملہ مکروہ تنزیہی کے حکم میں ہوگا، لہٰذا ایسے معاملے سے بچنا مناسب اور احتیاط کے قریب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
المبسوط للسرخسي: (26/24، ط: دار المعرفة)
ولا بأس ببيع العصير ممن يجعله خمرا؛ لأن العصير مشروب طاهر حلال، فيجوز بيعه، وأكل ثمنه، ولا، فساد في قصد البائع إنما الفساد في قصد المشتري، ولا تزر وازرة وزر أخرى.
رد المحتار: (391/6، ط: دار الفكر)
(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية
(قوله وجاز) أي عنده لا عندهما بيع عصير عنب أي معصوره المستخرج منه فلا يكره بيع العنب والكرم منه بلا خلاف، كما في المحيط لكن في بيع الخزانة أن بيع العنب على الخلاف قهستاني (قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني (قوله لا تقوم بعينه إلخ) يؤخذ منه أن المراد بما لا تقوم المعصية بعينه ما يحدث له بعد البيع وصف آخر يكون فيه قيام المعصية وأن ما تقوم المعصية بعينه ما توجد فيه على وصفه الموجود حالة البيع كالأمرد والسلاح ويأتي تمام الكلام عليه.
مستفاد من تبویب فتاوی جامعة دار العلوم کراتشی: رقم الفتوی: (2566/85)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی