resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: جوانی کی عبادت بوڑھاپے سے افضل ہوتی ہے، حدیث

(62579-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! سنا ہے کہ جوانی کی عبادت بڑھاپے کی عبادت سے افضل ہے، کیا اس بارے میں کوئی حدیث موجود ہے؟ اگر اس حوالے سے کوئی حدیث یا تحریری مواد ہو تو براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: واضح رہے کہ متعدد احادیث مبارکہ میں سات افراد کے بارے میں یہ فضیلت آئی ہے کہ "قیامت کے دن سات لوگ عرش کے سائے میں ہوں گے، ان میں سے ایک شخص وہ بھی ہے جس نے اپنی جوانی میں اللہ تعالی کی عبادت کی ہو۔ ذیل میں روایت کا مکمل ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے ارشاد فرمایا: "سات لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالی اپنےعرش کے سایہ میں جگہ عطا فرمائےگا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا: (1)عادل حکمران (2) ایسا نوجوان جس کی جوانی اپنے رب کی عبادت میں گزری ہو(3) ایسا شخص جس کا دل مسجد میں سے جڑا ہوا ہو(4) دو ایسے افراد جو اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں، اسی محبت ہر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں (5) وہ شخص جسے کسی باعہدہ اور خوبصورت عورت نے گناہ کی طرف بلایا، مگر اس نے کہا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں (6) وہ شخص جو اس قدر چھپا کر صدقہ کرے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ دایاں ہاتھ کیا خرچ کررہا ہے (7) وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد رکے تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں"۔
حدیث کی مختصر وضاحت:
درج بالا روایت سے جوانی میں عبادت کی اہمیت وفضیلت معلوم ہوتی ہے، چونکہ اس حالت میں انسان نفسانی خواہشات کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہے، اور ایسی حالت میں بھی خود کو عبادت پر لگانا یہ زیادہ ثواب کا عمل ہے۔ اس روایت میں مزید اضافہ ملتا ہے کہ وہ شخص اس جوانی کی عبادت پر ہی خود کو لگائے رکھے، یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہوجائے تو ایسا شخص مذکورہ فضیلت کا مستحق ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل* :

*صحيح البخاري، لأبي عبد الله محمد بن إسماعيل البخاري الجعفي،( کتاب الجمعة والإمامة، باب في المسجد ینتظر الصلاة، 234/1، المحقق: د. مصطفى ديب البغا، الناشر: (دار ابن كثير، دار اليمامة) – دمشق):*
عن أبي هريرة-رضي الله عنه-، عن النبي ﷺ، قال: (سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله: الإمام العادل، وشاب نشأ في عبادة ربه، ورجل قلبه معلق في المساجد، ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه، ورجل طلبته امرأة ذات منصب وجمال، فقال إني أخاف الله، ورجل تصدق، أخفى حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه، ورجل ذكر الله خاليا، ففاضت عيناه).

*الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري، لمحمد بن يوسف شمس الدين الكرماني (ت 786ه) (کتاب الجمعة والإمامة، باب في المسجد ینتظر الصلاة، 46/5، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت-لبنان):*
قوله (شاب): لم يقل بدله: "رجل"؛ لأن العبادة في الشباب أشد وأشق؛ لكثرة الدواعي وغلبة الشهوات وقوة البواعث على متابعة الهوى.

*فتح الباري بشرح البخاري، لأحمد بن علي بن حجر العسقلاني (773 - 852 ه)، (باب من جلس في المسجد ينتظر الصلاة وفضل المساجد، 145/2، رقم كتبه وأبوابه وأحاديثه: محمد فؤاد عبد الباقي [ت 1388 ه]، قام بإخراجه وتصحيح تجاربه: محب الدين الخطيب [ت 1389 ه]، الناشر: المكتبة السلفية – مصر):*
قوله: (وشاب) خص الشاب؛ لكونه مظنة غلبة الشهوة؛ لما فيه من قوة الباعث على متابعة الهوى؛ فإن ملازمة العبادة مع ذلك أشد وأدل على غلبة التقوى.
قوله: (في عبادة ربه) في رواية الإمام أحمد، عن يحيى القطان "بعبادة الله"، وهي رواية مسلم، وهما بمعنى، زاد حماد بن زيد، عن عبيد الله بن عمر: "حتى توفي على ذلك"، أخرجه الجوزقي. وفي حديث سلمان: "أفنى شبابه ونشاطه في عبادة الله".

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees