resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: کیا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں سرسبز و شادابی اور ہریالی کا آجانا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے؟ حدیث کی تحقیق

(63659-No)

سوال: مفتی صاحب! اس مرتبہ حج کے سفر کے دوران عرفات کے میدان اور دیگر مقامات پر کافی ہریالی اور سرسبزی دیکھنے کو ملی۔ اس موقع پر بعض حضرات یہ کہہ رہے تھے کہ مکہ مکرمہ میں ہریالی اور سرسبزی کا آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
مفتی صاحب! دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا احادیثِ مبارکہ میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ قیامت کے قریب مکہ مکرمہ یا جزیرۂ عرب میں دوبارہ ہریالی اور سرسبزی پیدا ہوجائے گی؟ اگر یہ بات احادیث میں وارد ہوئی ہے تو براہِ کرم اس کی وضاحت فرما دیں کہ اس حدیث کا مفہوم کیا ہے اور اس کا موجودہ حالات پر کس حد تک انطباق ہوتا ہے؟

جواب: واضح رہے کہ متعدد احادیث مبارکہ میں قیامت کی مختلف علامات کا تذکرہ ملتا ہے، جن میں سے ایک علامت سرزمین ِعرب میں ہریالی وشادابی کا ہونا بھی ثابت ہے، جس سے معلوم چلتا ہے کہ قیامت سے پہلے عرب کی زمین میں معاشی وزرعی زبردست انقلاب آئے گا، چونکہ مکہ مکرمہ بھی اسی کا حصہ ہے، لہذا یہ حدیث مکہ مکرمہ کے سرسبز ہونے کی بھی خبر دیتی ہے۔ تاہم محض موجودہ عرفات (یا دیگر چند مقامات) کی ہریالی دیکھ کر یہ فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ حدیث میں مذکور علامت پوری ہوگئی ہے یا نہیں؟ چونکہ سبزہ کا نظر آنا مختلف اسباب سے ہوسکتا ہے، جن میں حکومت کی طرف سے گرین ایریاز کی دیکھ بھال اور مصنوعی آب پاشی بھی شامل ہے، لہذا سرزمینِ عرب میں ہونے والی ہر سبزوشادابی کو حدیث کی پیش گوئی کا قطعی مصداق قرار دینا قبل از وقت معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کا حقیقی ظہور اور وقت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ سو اس کے حتمی تعین ومصداق میں الجھنے کے بجائےایک مسلمان کے شایانِ شان یہ ہے کہ اپنے اعمال واصلاح پر توجہ دی جائے۔ فرائض کی پابندی، نیک اعمال میں اضافہ اور فتنوں سے بچنے کی مکمل کوشش کی جائے۔
باقی ذکر کردہ روایت سند کے لحاظ سے مضبوط اور متعدد طرق سے منقول ہونے کی وجہ سے مستند ہے، لہذا اس کو آگے نقل کرنا درست ہے۔ ذیل میں روایت کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک مال ودولت کی فروانی نہیں ہوجائے گی۔ اور فراوانی اس طرح ہوگی کہ ایک شخص اپنے مال کی زکوةنکالے گا لیکن وہ کوئی ایسا شخص نہیں پائے گا جو اس کی زکوة کا مال لے لے (کیونکہ مال دولت کی فراوانی کسی شخص کو محتاج وضرورت مند نہیں چھوڑے گی اور کوئی آدمی اس طرح کے مال لینے پر تیار نہیں ہوگا، اور قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی) جب تک عرب کی سرزمین باغ وبہار اور نہر والی (یعنی بے حساب مال ودولت فراہم کرنے والی) نہ بن جائے۔( صحيح مسلم، کتاب الزکاة، باب الترغیب في الصدقة قبل أن لا یوجد من یقبلها، 701/2، الناشر: مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة)
مسلم شریف کی ایک روایت میں یوں ہے کہ (قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک کہ) عمارتوں اور آبادی کا سلسلہ "اہاب اور یہاب "(مدینہ کے نواح میں واقع دو جگہوں کے نام ہیں) تک نہ پہنچ جائے(یعنی آخرِ زمانہ میں اس قدر عمارتیں بنیں گی کہ ان کا سلسلہ شہرکے اردگرد نواحی علاقوں تک پہنچ جائےگا) (مظاہر حق جدید، علامہ نواب محمد قطب الدین خان دہلویؒ، کتاب الفتن، 25/5، دار الاشاعت)
موجودہ حالات پر انطباق:
قیامت کی مختلف علامات کو محقق برزنجی نے اپنی کتاب "الاشاعة لأشراط الساعة" میں درجِ ذیل تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:
(1)علامات ِبعیدہ: جن کا ظہور ایام گزشتہ میں ہوچکا ہے، جیسے: نبیﷺ کا رحلت فرمانا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا جانا وغیرہ۔
(2)علامات متوسطہ: جن کے وقوع کا سلسلہ ابھی جاری ہے، جیسے: امانت میں خیانت، قطع تعلقی وغیرہ۔
(3)علامات قریبہ: جن کا وقوع ایسے ہوگا جیسے: ہار کی لڑی کا دھاگا ٹوٹ جانے کے بعد اس کے موتی یکے بعد دیگرے سلسلہ وار گرتے ہیں، اور ان علامات کے پورا ہوتے ہی قیامت آجائے گی، جیسے: خروجِ دجال، نزول عیسی وغیرہ۔
سرزمینِ عرب کی شادابی اور اس میں عمارتوں کے قیام کی طرف رجحانات کا پیدا ہونا یہ سب علامات متوسطہ کے قبیل سے ہیں، جن کا وقوع دیگر علامات کی طرح مسلسل جاری ہے۔ بہرحال ان علامات کے ظہور کے مقاصد پر نظر رکھتے ہوئے خود کو غفلت سے بیدا رکھ کر آخرت کی تیاری کی طرف متوجہ کرنا یہی ایک مسلمان کو زیب دیتا ہے۔
روایت کی مختصر وضاحت:
مذکورہ حدیث کے ذیل میں شارحینِ حدیث نے قیامت کے قریب عرب کی زمین کے دوبارہ سرسبز اور شاداب ہونے کے ممکنہ تین بنیادی اسباب ذکر کیے ہیں:
(1)عرب باشندے لڑائی اور جھگڑے اور صحرا میں خانہ بدوشی کی زندگی کو چھوڑ کر کھیتی باڑی، درخت لگانے اور نہریں کھودنے کی طرف آجائیں گے۔
(2)قدرتی نظام کے تحت سرزمین ِ عرب اپنی قدیم تاریخی حالت کی طرح سرسبز ہوگا۔
(3)جنگوں اور فتنوں کی وجہ سے لوگ زمینوں کی دیکھ بھال چھوڑ دیں گے، جس سے وہاں خود بخود قدرتی گھاس اور چشمے جاری ہوجائیں گے۔ غرض سبب کوئی بھی بنے، مذکورہ روایت کی پیش گوئی کے مطابق سرزمینِ عرب میں ہر طرف سبزہ اور پانی ہوجائے گا، اور یہ قیامت کی علامات میں سے ایک علامت ہے، جس کے حتمی وقت کا علم اللہ سبحانہ وتعالی ہی کو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل* :

*القرآن الکریم: (سورة الأعراف، رقم السورة 7 ، رقم الآيات 187 - 188)*
يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْساها قُلْ إِنَّما عِلْمُها عِنْدَ رَبِّي لَا يُجَلِّيها لِوَقْتِها إِلَاّ هُوَ ثَقُلَتْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ لا تَأْتِيكُمْ إِلَاّ بَغْتَةً يَسْئَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْها قُلْ إِنَّما عِلْمُها عِنْدَ اللَّهِ وَلكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ (187)

*صحيح مسلم، لأبي الحسين مسلم بن الحجاج القشيري النيسابوري (206 - 261 ه)، (کتاب الزکاة، باب الترغیب في الصدقة قبل أن لا یوجد من یقبلها، 701/2، المحقق: محمد فؤاد عبد الباقي [ت 1388 ه]، الناشر: مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، القاهرة):*
عن أبي هريرة؛ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا تقوم الساعة حتى يكثر المال ويفيض. حتى يخرج الرجل بزكاة ماله فلا يجد أحدا يقبلها منه. وحتى تعود أرض العرب مروجا وأنهارا".

*المفهم لما أشكل من تلخيص كتاب مسلم، لأبي العباس أحمد بن عمر بن إبراهيم القرطبي (578 - 656 ه)،(باب الدعاء للمنفق وعلى الممسك، والأمر بالمبادرة للصدقة قبل فَوتِها، 57/2، حققه وعلق عليه وقدم له: محيي الدين ديب ميستو - أحمد محمد السيد - يوسف علي بديوي - محمود إبراهيم بزال، الناشر: (دار ابن كثير، دمشق - بيروت)، (دار الكلم الطيب، دمشق – بيروت):*
وقوله: (حتى تعود أرض العرب مروجًا وأنهارًا)؛ أي: تنصرف دواعي العرب عن مقتضى عاداتهم من انتجاع الغيث والارتحال في المواطن للحروب والغارات، ومن نخوة النفوس العربية الكريمة الأبيّة إلى أن يتقاعدوا عن ذلك،
فينشغلوا بغراسة الأرض وعمارتها، وإجراء مياهها، كما قد شوهد في كثير من بلادهم وأحوالهم.

*المفاتيح في شرح المصابيح، للحسين بن محمود بن الحسن، مظهر الدين الزَّيْدَانيُّ الكوفي الضَّريرُ الشِّيرازيُّ الحَنَفيُّ المشهورُ بالمُظْهِري (ت 727 ه)، (باب اشراط الساعة، 392/5، تحقيق ودراسة: لجنة مختصة من المحققين بإشراف: نور الدين طالب، الناشر: دار النوادر، وهو من إصدارات إدارة الثقافة الإسلامية - وزارة الأوقاف الكويتية):*
قولهﷺ: "حتى تعود أرض العرب مروجا وأنهارا": قيل: في زمان قديم كان أكثر أرض العرب مروجا وصحارى متدفقة بالمياه ذات أشجار وثمار، فتبدل العمران بالخراب، والريف بالتباب، والاجتماع بالافتراق، وذلك دأب الله تعالى في البلاد والعباد، كذا ذكره عبد المسيح بن بقيلة الغساني لخالد بن الوليد حين ورد العراق غازيا في خلافة الصديق مع جمهور الصحابة، وقد كان نصرانيا، رأى كسرى أنوشروان بل رأى شابور ذا الأكتاف، قد عمر حتى قارب أربع مئة ونيفا، وقد أدرك من رأى المسيح عليه السلام.(المروج): جمع مرج، وهو الروضة.

*المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج،لأبي زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي (ت 676ه)، (باب بيان أن اسم الصدقة يقع على كل نوع من المعروف، 97/7، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت):*
قوله صلى الله عليه وسلم (حتى تعود أرض العرب مروجا وأنهارا) معناه والله أعلم أنهم يتركونها ويعرضون عنها فتبقى مهملة لا تزرع ولا تسقى من مياهها وذلك لقلة الرجال وكثرة الحروب وتراكم الفتن وقرب الساعة وقلة الآمال وعدم الفراغ لذلك والاهتمام به۔

*الإشاعة لأشراط الساعة، لمحمد بن رسول البرزنجي الحسيني (1040 ه - 1103 ه)، (الباب الاول والثانی والثالث، رقم الصفحة : 29-141-173، تعليقات: محمد زكريا الكاندهلوي، قابله واعتنى به: حسين محمد علي شكري، الناشر: دار المنهاج للنشر والتوزيع، جدة - المملكة العربية السعودية):*
البَابُ الأوّل في الأَمَارَاتِ البعيدة الّتي ظهرت وانقرضت، وهي كثيرةٌ:فمنها: موت النبي صلى الله عليه وسلم: وهو من أَعظم المصائب في الدِّين، بل أعظمها، ومن ثَمَّ قال صلى الله عليه وسلم: "إذا أصيب أحدكم بمصيبة، فليذكر مصيبته بي؛ فإنها أعظم المصائب" رواه ابن سعد، عن عطاء بن أبي رباح ۔۔۔۔ومنھا قتل أمير المؤمنين عمر: ۔۔۔۔۔۔۔
الباب الثاني في الأمارات المتوسطة التي ظهرت ولم تنقض، بل تتزايد إلى أن تتكامل وتتصل بالقسم الثالث، ولنسرد أحاديثها اختصارا. فمنها: "لا تقوم الساعة حتى يكون أسعد الناس بالدنيا لكع بن لكع" رواه أحمد، والترمذي، والضياء عن حذيفة رضي الله عنه، وابن مردويه عن علي كرم الله وجهه.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الباب الثالث في الأشراط العظام والأمارات القريبة التي تعقبها الساعة، وهي أيضا كثيرة: فمنها: المهدي :وهو أولها. واعلم؛ أن الأحاديث الواردة فيه على اختلاف رواياتها لا تكاد تنحصر.فقد قال محمد بن الحسن الإسنوي في كتاب "مناقب الشافعي": "قد تواترت الأخبار عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بذكر المهدي، وأنه من أهل بيته صلى الله عليه وسلم". انتهى

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation and research of Ahadees