سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ عام طور پر یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ: "ایک عورت چار مردوں کو جہنم میں لے کر جائے گی۔" کیا یہ بات درست ہے؟ اور کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ سوال میں پوچھی گئی روایت کسی معتبر کتاب میں ہمیں نہیں مل سکی ہے، لہذا جب تک اس کی کوئی معتبر سند نہ مل جائے اس کو نبی ﷺ کی جانب منسوب کرکے آگے نقل کرنا درست نہیں۔
تاہم قرآن وحدیث کی تعلیمات سے یہ بات ضرور ثابت ہے کہ جوشخص اپنی ذمہ داری کو صحیح طریقے سے انجام نہیں دے گا، اس کو اپنی وسعت کے مطابق ادا کرنے میں غفلت کرے گا تو ایسا شخص نہ صرف گناہگار ہوگا، بلکہ اپنے گناہ کے بقدر جہنم کے عذاب کا بھی مستحق ہو گا۔ چنانچہ عورت کی دینی واصلاحی تربیت کی ذمہ داری ابتداء میں والدین پر جبکہ شادی کے بعد شوہر پر ڈالی گئی ہے، لہذا ان دونوں ذمہ دار حضرات پر لازم ہے کہ وہ ان کی صحیح روش پر تربیت کریں۔
اسی طرح کسی عورت کے بھائی اور بیٹے کی جانب سے اس طرح سے غفلت کا مظاہرہ ہو کہ وہ خاتون کی دینی تربیت کی فکرکرنے اور برے کاموں کی مذمت کرنے کے بجائے ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوں یا حوصلہ افزائی کا سبب بنتے ہو، جس سے ان کا اس خاتون کے غلط افعال وکردار پر رضامند ہونا نمایاں ہو تو ایسے افراد بھی شریکِ جرم سمجھے جاتے ہوئے اپنے گناہوں کی سزا میں جہنم کے مستحق بنیں گے، لہذا مذکورہ خاص تناظر میں اگر جملہ کو دیکھا جائے تو یہ بات درست مفہوم پر مشتمل ہے، البتہ اس کے باوجود اس کو نبی کریمﷺ کی جانب منسوب کرنا غلط ہے، کیونکہ ہر درست وحکیمانہ بات کا نبی ﷺ کی جانب سے ہونا لازمی نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*الدلائل* :
*القرآن العظیم، (سورةالنساء، رقم الآية: 84)*
{الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ}
*القرآن العظیم، سورة المائدة، رقم الآیة: 106*
ﵟوَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِﵞ
*مسند الإمام أحمد بن حنبل، للإمام أحمد بن حنبل (164 - 241 ھ)،( مسند المکثرین من الصحابة، مسند عبدالله بن مسعود، 141/10، المحقق: شعيب الأرنؤوط [ت 1438 ه]- عادل مرشد – وآخرون، إشراف: د عبد الله بن عبد المحسن التركي، الناشر: مؤسسة الرسالة):*
عن ابن عمر-رضي الله عنهما- يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كلكم راع، وكلكم مسؤول عن رعيته، فالأمير راع على رعيته، وهو مسؤول عنهم، والرجل راع على أهل بيته، وهو مسؤول عنهم، والعبد راع على مال سيده، وهو مسؤول عنه، والمرأة راعية على بيت زوجها، ومسؤولة عنه "
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی