resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: غیر صاحبِ ترتیب کے لیے قضا نمازوں میں تاخیر کا حکم

(62580-No)

سوال: مجھ سے زمانۂ نادانی میں بہت سی نمازیں قضا ہوئیں، فضلِ الٰہی سے بعد میں میں نے کوشش کی کہ ان نمازوں کی قضا ادا کر لوں، حالانکہ مجھے یہ علم نہیں تھا کہ کتنی نمازیں قضا ہوئی تھیں، بس فلاں وقت کی نماز کی نیت کرکے قضا پڑھ لیتا تھا۔
یہ سلسلہ کچھ عرصے تک چلتا رہا۔ پھر میں نے ایک اندازہ لگایا اور قضا نمازیں پڑھنا چھوڑ دیں، البتہ اب بھی مجھے یقین نہیں ہے کہ میں نے اپنی تمام قضا نمازیں ادا کرلی ہیں یا نہیں۔
مزید یہ کہ مجھے یہ علم نہیں تھا کہ محض احتلام ہونے سے غسل واجب ہوجاتا ہے، بلکہ میں اس غلط فہمی میں مبتلا تھا کہ احتلام کی صورت میں غسل اسی وقت لازم ہوتا ہے جب شہوت کے ساتھ احتلام ہو، اس غلطی کا مجھے ابھی علم ہوا ہے، لہٰذا ان مسائل میں رہنمائی فرمائیں:
1) کیا غلط فہمی کی وجہ سے احتلام کے بعد غسل نہ کرنے کی صورت میں ان تمام نمازوں کی قضا پڑھنا لازم ہے جو اگلے غسل تک کے دوران ادا کی گئی ہوں؟ اگر ہاں، تو مجھے ایسی نمازوں کی تعداد بھی معلوم نہیں، اس صورت میں کیا کیا جائے؟
2) نادانی کے زمانے میں جو نمازیں قضا ہوئیں اور بعد میں ان کی قضا ادا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس بات کا یقین حاصل نہ ہوسکا کہ تمام نمازوں کی قضا ادا ہوگئی ہے یا نہیں تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟ (شاید اس بات کا یقین حاصل کرنے کا کوئی یقینی ذریعہ بھی نہیں ہے۔)
3) کیا اس شک کی وجہ سے مجھے صاحبِ ترتیب سمجھا جائے گا؟ یہ تو یقینی ہے کہ میں صاحبِ ترتیب نہیں رہا تھا، لیکن بعد میں صاحبِ ترتیب بننے کے بارے میں شک ہے، کیا ایسی صورت میں ’’الیقین لا یزول بالشک‘‘ کا اصول لاگو ہوگا؟
ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اگر یہ معلوم ہوسکتا ہو کہ اتنی قضا نمازیں ادا کرنے کے بعد میں صاحبِ ترتیب بن جاؤں گا، یعنی جب صرف پانچ نمازوں کی قضا باقی رہ جائے، تو کیا اس وقت مجھ پر صاحبِ ترتیب کے احکام لاگو ہوں گے؟ یعنی جب تک ان آخری پانچ قضا نمازوں کو بھی ادا نہ کرلوں، کیا اس وقت تک مجھے موجودہ وقت کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہوگی؟
4) اگر قضا نمازیں ادا کرنا لازم ہوں تو ظاہر ہے کہ واجب کی ادائیگی کو دیگر کاموں پر ترجیح حاصل ہوگی تو کیا ایسی صورت میں باقی تمام کام چھوڑ کر سارا یا بیشتر وقت قضا نمازیں ادا کرنے میں صرف کرنا چاہیے؟ کیونکہ اگرچہ دیگر کام بعض اوقات ضروری ہوتے ہیں، لیکن شرعاً واجب نہیں کہلاتے، اگرچہ قضا نمازوں کی ادائیگی کے لیے کوئی متعین وقت نہیں، لیکن موت کا بھی کوئی علم نہیں۔براہِ کرم ان چاروں مسائل پر رہنمائی فرمائیں۔

جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر احتلام کی وجہ سے آپ پر غسل فرض ہوتا تھا اور آپ نے بغیر غسل کیے نمازیں پڑھی تھیں تو احتلام کے بعد سے اگلے غُسل تک پڑھی جانے والی تمام نمازیں ادا نہیں ہوئیں، ان نمازوں کی قضاء آپ کے ذمہ لازم ہے۔
اگر قضا نمازوں کی حقیقی تعداد معلوم نہ ہو تو اس صورت میں آپ ایک محتاط اندازہ لگالیں، اور پھر احتیاطاً اس سے کچھ زائد تعداد میں نمازوں کی قضا کرلیں، ان نمازوں کی قضا کرنے میں آپ پر کوئی ترتیب لازم نہیں ہے، البتہ کسی بھی دن کی عشاء اور وتر میں ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے، پہلے عشاء اور اس کے بعد وتر کی قضا کریں، قضا نمازیں ادا کرنے کے بعد جب آپ کو اچھی طرح تسلی ہو جائے کہ آپ کے ذمہ اب مزید کسی نماز کی قضا لازم نہیں ہے تو اس کے بعد آپ دوبارہ صاحب ترتیب شمار ہوں گے۔
جہاں تک آپ کا یہ سوال ہے کہ کیا سب کچھ چھوڑ کر قضا نمازیں پڑھی جائیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ قضا نمازوں کی تعداد اگر زیادہ ہو تو بھی انسان کو چاہیے کہ جلد از جلد ان کی قضا کرلے کہ موت کا کوئی وقت معلوم نہیں لیکن دوسری طرف چونکہ انسان کے ساتھ بہت سی ضرورتیں اور حاجتیں متعلق ہیں، اور یہ ممکن نہیں ہے کہ انسان سب قسم کی ذمہ داریاں چھوڑ کر صرف قضا نمازیں ہی پڑھتا رہے، اس لئے آپ کو چاہیے کہ جتنا اضافی وقت میسر ہو اس میں اپنی قضا نمازیں ادا کرتے رہیں، اور احتیاطاً بقیہ نمازوں کی تعداد کہیں لکھ کر مرنے کے بعد ان کے فدیہ ادا کرنے کی وصیت بھی کردیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

بدائع الصنائع: (كتاب الصلاة، فصل شرائط أركان الصلاة، 114/1، ط: دار الكتب العلمية)
(أما) شرائط أركان الصلاة: (فمنها) الطهارة بنوعيها من الحقيقية والحكمية، والطهارة الحقيقية هي طهارة الثوب والبدن ومكان الصلاة عن النجاسة الحقيقية، والطهارة الحكمية هي طهارة أعضاء الوضوء عن الحدث، وطهارة جميع الأعضاء الظاهرة عن الجنابة.

الدر المختار: (74/2، ط: دار الفکر)
(وَيَجُوزُ تَأْخِيرُ الْفَوَائِتِ) وَإِنْ وَجَبَتْ عَلَى الْفَوْرِ (لِعُذْرِ السَّعْيِ عَلَى الْعِيَالِ؛ وَفِي الْحَوَائِجِ عَلَى الْأَصَحِّ)

رد المحتار: (68/2، ط: دار الفکر)
لا يلزم الترتيب بين الفائتة والوقتية ولا بين الفوائت إذا كانت الفوائت ستا، كذا في النهر. أما بين الوقتيتين كالوتر والعشاء فلا يسقط الترتيب بهذا المسقط كما لا يخفى۔

و فیه ایضاً: (68/2، ط: دار الفکر)
يسقط الترتيب بصيرورة الفوائت ستا ولو كانت متفرقة، كما لو ترك صلاة صبح مثلا من ستة أيام وصلى ما بينها ناسيا للفوائت۔

و فیه ایضاً: (76/2، ط: دار الفکر)
(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً، أو يقول: آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخراً، ولايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت۔

و فیه ایضاً: (70/2، ط: دار الفکر)
(قَوْلُهُ بِسَبَبِ الْقَضَاءِ لِبَعْضِهَا) كَمَا إذَا تَرَكَ رَجُلٌ صَلَاةَ شَهْرٍ مَثَلًا ثُمَّ قَضَاهَا إلَّا صَلَاةً ثُمَّ صَلَّى الْوَقْتِيَّةَ ذَاكِرًا لَهَا فَإِنَّهَا صَحِيحَةٌ اه بَحْرٌ وَقُيِّدَ بِقَضَاءِ الْبَعْضِ لِأَنَّهُ لَوْ قَضَى الْكُلَّ عَادَ التَّرْتِيبُ عِنْدَ الْكُلِّ كَمَا نَقَلَهُ الْقُهُسْتَانِيُّ (قَوْلُهُ عَلَى الْمُعْتَمَدِ) هُوَ أَصَحُّ الرِّوَايَتَيْنِ وَصَحَّحَهُ أَيْضًا فِي الْكَافِي وَالْمُحِيطِ، وَفِي الْمِعْرَاجِ وَغَيْرِهِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى. وَقِيلَ يَعُودُ التَّرْتِيبُ وَاخْتَارَهُ فِي الْهِدَايَةِ. وَرَدَّهُ فِي الْكَافِي وَالتَّبْيِينِ، وَأَطَالَ فِيهِ الْبَحْرُ.

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Salath (Prayer)