resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان: مسجد اقصیٰ کا دفاع اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریاں

(62585-No)

سوال: محترم مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، امید ہے کہ آپ خیریت اور ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے۔ میں مسجد اقصیٰ کی موجودہ صورتِ حال کے حوالے سے گہری تشویش کے ساتھ یہ خط لکھ رہا ہوں، مسجد اقصیٰ ہمارے ایمان اور تاریخ میں نہایت عظیم مقام رکھتی ہے، موجودہ حالات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کی حرمت کو درپیش خطرات کے پیشِ نظر میں امتِ مسلمہ کے لیے نہایت اہم مسئلے کے بارے میں آپ کی رہنمائی کا طالب ہوں۔
1) اگر مسجد اقصیٰ کو نقصان پہنچایا جائے یا اس کی حرمت کو مزید پامال کیا جائے تو ایسی صورتِ حال میں آپ کے نزدیک عملی طور پر کیا لائحۂ عمل ہونا چاہیے؟
2) ان لوگوں کے خلاف جو ہماری مقدس مقامات اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں پر ظلم و زیادتی کرتے ہیں، عسکری کارروائی کا وجوب کب پیدا ہوتا ہے؟
3) کیا ہمیں اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے امتِ مسلمہ کی حفاظت میں ناکامی اور مقدس مقامات کے دفاع کے لیے اقدام نہ کرنے کے بارے میں ہم سے سوال ہوگا، خصوصاً جب اقدام کے ذرائع موجود ہوں؟
4) مزید یہ کہ سورۂ توبہ کی آیت 24 کی روشنی میں جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی، اپنے رسول ﷺ کی محبت اور اپنی راہ میں جدوجہد کو دیگر تمام چیزوں پر ترجیح دینے کا ذکر فرمایا ہے، اگر ہم عملی اقدام نہ کریں تو کیا ہماری مسلمان ہونے کی حیثیت برقرار رہے گی؟
5) کیا ہماری خاموشی یا عدمِ اقدام کو اپنے دین اور مسلم معاشرے کے تئیں اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے میں شمار کیا جائے گا؟
میں ان تمام امور میں آپ کی قیمتی رہنمائی کا طالب ہوں، تاکہ میں اپنی دینی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھ سکوں اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق عمل کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت، قوت اور عدل قائم کرنے اور مقدسات کے دفاع کی توفیق عطا فرمائے۔ جزاکم اللہ خیراً

جواب: مسجد اقصیٰ کی حرمت کا تحفّظ اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی نصرت شرعی طور پر اہم ذمہ داری ہے۔ ظلم کے خلاف اپنی استطاعت کے مطابق عملی جدوجہد ضروری ہے، لیکن عملی جدوجہد صرف مسلح کارروائی کا نام ہی نہیں؛ دعا، مالی و انسانی امداد، طبّی خدمت، سیاسی و سفارتی کوشش، ظلم کے خلاف جائز آواز اور دیگر مؤثّر ذرائع بھی نصرتِ دین اور نصرتِ مظلوم کے مصداق میں آتے ہیں۔ اگر کسی مسلمان علاقے پر دشمن کا حقیقی مسلح حملہ ہو اور دفاع کی شرائط پوری ہوں تو فقہِ حنفی میں دفاعی جہاد حسبِ استطاعت فرضِ عین ہوسکتا ہے، اور ضرورت کے مطابق اس کا دائرہ اس علاقے سے دوسرے علاقوں کی طرف وسیع ہوتا جاتا ہے۔ تاہم ہر فرد کو اپنی طرف سے مسلح کارروائی شروع کرنے کا اختیار نہیں، نہ ہی عدمِ شرکت بذاتِ خود كفر ہے۔ سورۂ توبہ کی آیت 24 میں اللہ و رسول ﷺ اور دین کی محبت کو دنیاوی مفادات پر مقدم رکھنے کا حکم ہے، اسے کسی فرد کے ایمان کی نفی یا تکفیر کے لیے استعمال کرنا درست نہیں۔ اصل مطلوب یہ ہے کہ مسلمان ظلم پر راضی نہ ہو، اپنی استطاعت کے مطابق مظلوم کی مدد کرے، شرعی حدود کی پابندی کرے اور ایسا اقدام اختیار نہ کرے جو ظلم کو کم کرنے کے بجائے مسلمانوں اور بے گناہوں کے لیے مزید فساد کا سبب بن جائے۔ اب آپ کے سوالات کے مختصرجوابات درج ذیل ہیں:
۱) مسجدِ اقصیٰ کے نقصان یا حرمت پامال ہونے پر لائحۂ عمل
ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے خاموش تماشائی بن جانا درست نہیں، بلکہ حسبِ استطاعت مسجد اقصیٰ کے تحفظ اور وہاں کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے مؤثر اور شرعی جدوجہد کرنا لازم ہے، اس جدوجہد میں دعا، مالی و انسانی امداد، ظلم کے خلاف جائز آواز بلند کرنا، سیاسی و سفارتی ذرائع کا استعمال اور مسلم حکومتوں کو مؤثر اقدام پر آمادہ کرنا شامل ہے، جبکہ محض غصے اور جذبات کی بنا پر کسی فرد یا غیر منظم گروہ کا خود سے مسلح کارروائی شروع کرنا شرعی لائحہ عمل نہیں اور نہ ہی موجودہ بارڈروں (سرحدوں) کے حالات کے پیشِ نظر یہ ممکن رہا ہے، لہذا ہر فرد انفرادی طور پر حکومتوں پر زور ڈالے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں؛ شریعت نے قتال کے ساتھ اس کے حدود کی پابندی بھی لازم کی ہے۔
۲) عسکری کارروائی کا وجوب کب پیدا ہوتا ہے؟
عام حالات میں جہاد کی ذمہ داری فرضِ کفایہ ہوتی ہے، لیکن جب دشمن کسی مسلم علاقے پر حملہ کردے اور عمومی نفیر کی صورت پیدا ہوجائے تو فقہاء کرام کے ذکر کردہ اصول کے مطابق جو مسلمان اس دفاع کی قدرت رکھتے ہوں، ان پر دفاعی قتال فرضِ عین ہوجاتا ہے، اگر مقامی لوگ عاجز ہوں تو یہ ضرورت قریب کے مسلمانوں تک پھیل جائےگی، مگر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر فرد خود سے کوئی مسلح تنظیم بنا کر جنگ شروع کردے، بلکہ یہ کام حکومتوں اور ان کی افواج کی شرعی ذمہ ہے،اسی مقصد کے لیے وہ مسلمانوں کے ئمائندہ ہیں، انفرادی کام سےنفع کے بجائے نقصان زیادہ ہوگا، لہذا انفرادی طور پر جو بس میں ہو، جیسے دعا، مالی امداد ،آوازبلند کرنا، حکومتوں کو اپنی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرنا وغیرہ، یہ اس کی ذمہ داری ہے۔
۳) قیامت کے دن امت اور مقدسات کے دفاع میں ناکامی پر سوال
انسان اپنی استطاعت اور ذمہ داری کے مطابق ہی جواب دہ ہوگا، جیسا کہ فرمانِ مصطفی ﷺ ہے: "جو شخص منکر دیکھے تو اسے ہاتھ سے، زبان سے یا دل سے روکے" (صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۴۹) اور اس کا مدار استطاعت پر ہے۔ جس کے پاس عملی یا مالی اقدام کی قدرت ہے اس سے اسی نوعیت کا تقاضا ہوگا، جبکہ عاجز شخص کم از کم دل سے اسے برا جانے گا، اس لیے تمام مسلمانوں پر یکساں نوعیت کا عسکری اقدام لازم نہیں قرار دیا جا سکتا۔
۴)سورۂ توبہ آیت 24 کی روشنی میں عدمِ اقدام کا حکم
امام طبری اور امام قرطبی کی تفاسیر کی روشنی میں اس آیت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ دنیاوی تعلقات اور مفادات انسان کو اللہ، رسول ﷺ اور دین کی نصرت پر مقدم نہ ہوں، تاہم محض عملی عسکری اقدام نہ کرنے سے کسی مسلمان کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دینا قطعاً درست نہیں، نیز گناہ کا ارتکاب اور اسلام سے خارج ہونا دو الگ احکام ہیں، اور محض کسی فریضہ کے عملی ترک سے کسی کو کافر کہنا شرعاً غلط ہے۔
۵) خاموشی یا عدمِ اقدام کا شرعی حکم
اگر خاموشی سے مراد مظلوموں کی تکلیف سے بے پرواہی اور استطاعت کے باوجود عدمِ مدد ہو تو یہ قابلِ گرفت رویہ ہے، لیکن اگر کسی شخص کے پاس مسلح اقدام کی قدرت نہ ہو یا اس سے مزید بڑا فساد اور بے گناہوں کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہو تو شریعت اسے لازماً مسلح کارروائی کا مکلّف نہیں بناتی، جو شخص میدانِ جنگ میں نہ ہو لیکن مالی و طبی امداد، آواز اٹھانے اور دعا کے ذریعے اپنی استطاعت پوری کررہا ہو، اسے ہرگز "خاموش" یا "غیر ذمہ دار" قرار نہیں دیا جاسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

تفسير الطبري (جلد: ۲۲، صفحہ: ۵۲، مطبوعہ: دار هجر، مصر):
القول في تأويل قوله تعالى: {يا أيها الذين آمنوا استعينوا بالصبر والصلاة إن الله مع الصبرين} ... وأما الاستعانة بالصبر والصلاة، فإنه يعني بذلك: استعينوا على ما أمركم الله به من أداء فرائضه، والقيام بحقوده، واجتناب معاصيه، بالصبر على طاعته، والثبات على دينه، وبالصلاة التي تقربكم إليه.«

رد المحتار على الدر المختار (حاشية ابن عابدين)جلد: ۴، صفحہ: ۱۲۸، مطبوعہ: دار الكتب العلمية، بيروت):
»مطلب في الجهاد فرض كفاية: (قوله فرض كفاية) أي إذا قام به البعض سقط عن الباقين، ولو لم يقم به أحد أثم الجميع... وأما إذا دهم العدو بلدة، فهو فرض عين، وصار الجهاد فرض عين على كل واحد ممن في تلك البلدة، وعلى من قرب منهم بحيث لا يحتاجون إليهم.«

فتح القدير للكمال ابن الهمامجلد: ۵، صفحہ: ۱۹۱، مطبوعہ: دار الكتب العلمية، بيروت):
قوله: والجهاد فرض كفاية إذا قام به البعض سقط عن الباقين)؛ لأنه شرع لإعلاء كلمة الله تعالى ودعوة الناس إلى الإسلام، وذلك يحصل بقعود البعض، والفرض هو أصل القائم به، لا نفس القتال؛ لأنه لا يجب على الكل كفاية... وإن نزل الكفار ببلدة من بلاد المسلمين صار فرض عين على أهلها، وعلى غيرهم عجز أهل تلك البلدة أو لم يعجزوا حتى يسعوا إليهم.«

البحر الرائق شرح كنز الدقائق(جلد: ۵، صفحہ: ۷۷، مطبوعہ: دار الكتاب الإسلامي، القاهرة):
قوله: وهو فرض كفاية) أي ابتداء... وأما إذا هجم العدو على بلدة فصار فرض عين على أهلها، لأنهم صاروا كالمضطرين، فيجب عليهم الدفع بحسب استطاعتهم، وعلى الباقين إعانتهم إذا عجزوا.«

صحيح مسلم بشرح النووي(جلد: ۲، صفحہ: ۲۲، مطبوعہ: دار إحياء التراث العربي، بيروت رقم الحديث: ۴۹ ):
قوله صلى الله عليه وسلم: (من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان). قال العلماء: هذا الحديث أصل في تبيان مراتب إنكار المنكر، وإن الإنكار باليد على من قدر عليه بلا فتنة، وباللسان لمن عجز عن اليد، وبالقلب لمن عجز عنهما، وليس بعد ذلك من الإيمان حبة خردل.«

تفسير القرآن العظيم لابن كثير(جلد: ۴، صفحہ: ۱۱۸، مطبوعہ: دار طيبة للنشر والتوزيع):
قوله تعالى: {قل إن كان آباؤكم وأبناؤكم وإخوانكم وأزواجكم وعشيرتكم وأموال اقترفتموها وتجارة تخشون كسادها ومساكن ترضونها أحب إليكم من الله ورسوله جهاد في سبيله فتربصوا حتى يأتي الله بأمره} الآية. قال ابن عباس رضي الله عنهما في تفسيرها: هم الذين توعدهم الله على ترك الهجرة والجهاد، وبين أن حب الدنيا ومتاعها لا ينبغي أن يتقدم على محبة الله ورسوله وجهاد في سبيله، من غير أن يخرج بذلك عن أصل الإيمان.«

تفسير القرطبي (الجامع لأحكام القرآن(جلد: ۸، صفحہ: ۹۷، مطبوعہ: دار الكتب المصرية، القاهرة):
قوله تعالى: {قل إن كان آباؤكم وأبناؤكم} الآية. تدل على وجوب تقديم محبة الله ورسوله على كل محبوب، وأن من آثر أهليه وأمواله على الجهاد في سبيل الله وتخلف عنه لغير عذر، فقد استحق الوعيد، وليس في الآية ما يدل على كفر من تخلف عن القتال من غير جحود لوجوبه.«

المغني لابن قدامة(جلد: ۱۰، صفحہ: ۳۶۹، مطبوعہ: دار إحياء التراث العربي، بيروت):
وأما شروط وجوب الجهاد فسبعة: الإسلام، والبكارة (البلوغ)، والعقل، والحرية، والذكورة، والصحة القادرة، ووجود النفقة... فإن عجز عن شيء من ذلك سقط عنه الوجوب، لقول الله تعالى: {ليس على الضعفاء ولا على المرضى ولا على الذين لا يجدون ما ينفقون حرج إذا نصحوا لله ورسوله).«

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous