resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: آن لائن (online) گیم کھیلنا اور اس کے ذریعہ غیر مسلم خاتون کو دین کی دعوت دینا

(63600-No)

سوال: السلام علیکم، ایک نوجوان مسلمان، جو حافظِ قرآن ہے، ایک غیر مسلم لڑکی (جو اسلام میں دلچسپی رکھتی ہے) سے گزشتہ ایک سال سے نجی طور پر پیغامات کے ذریعے رابطے میں ہے، ان دونوں کی ملاقات ایک آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی تھی، جس میں نامناسب قسم کے اوتار استعمال کیے جاتے تھے، نوجوان کا کہنا ہے کہ اس کے پیغامات کا مقصد صرف دعوتِ دین ہے، وہ چاہتا ہے کہ وہ لڑکی مسلمان ہوجائے اور پھر وہ اس سے شادی کرے، وہ اپنے نیک والدین کی مخالفت کو یہ کہہ کر نظر انداز کرتا ہے کہ یہ ’’پرانے زمانے کی سوچ‘‘ ہے۔
اس کے نتیجے میں اس کی روحانی حالت بہت خراب ہوگئی ہے، اس نے قرآن کی تلاوت چھوڑ دی ہے، سنت کی نمازیں ترک کردی ہیں اور اپنے پریشان حال والدین کے ساتھ رفتہ رفتہ بدتمیزی اور بحث و تکرار کرنے لگا ہے۔
اس صورتِ حال میں شرعی حکم کیا ہے؟ براہِ کرم قرآن و سنت کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں تاکہ اسے یہ راستہ چھوڑنے، دوبارہ قرآن سے جڑنے اور والدین کے حقوق ادا کرنے کے لیے قائل کیا جاسکے۔
براہِ کرم یہ بھی ملحوظ رہے کہ وہ قرآن یا حدیث کی تشریح کے مستند حوالے کے بغیر کسی کی نصیحت قبول نہیں کرے گا، کیونکہ وہ یہ کہے گا کہ ’’اس عالم کے پاس کیا دلیل ہے؟‘‘

جواب: مسلمان مرد کا کسی غیر مسلم خاتون کو دین اسلام کی دعوت دینا جائز ہے، لیکن چونکہ غیر مسلم خاتون مسلمان مردوں کے لیے نامحرم ہیں، اس لیے دعوت دین دیتے وقت اس کے ساتھ بے تکلفی سے بات کرنا اور دوستی جیسا تعلق بنانا درست نہیں ہے۔
سوال میں آپ نے گیم کا ذکر کیا ہے کہ اس میں مختلف قسم کے اوتار استعمال ہوتے ہیں، اوتار چونکہ ہندو مذہب کی اصطلاح ہے، جس کے مطابق "دنیا میں بھگوان مختلف روپوں میں آیا ہے، جنہیں اوتار کہتے کہا جاتا"۔ یہ نظریہ براہِ راست اسلامی عقیدے سے متصادم ہے، اس لیے لازم ہے کہ اس گیم کے کھیلنے سے مکمل طور پر اجتناب کیا جائے۔
جہاں تک والدین کی بات نہ ماننے، تلاوتِ قرآن مجید اور نمازوں میں سستی کا ذکر کیا ہے تو یاد رہے کہ یہ تینوں اعمال ایسے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کا حکم دیا ہے۔ والدین کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے، ترجمہ: "اور تمہارے پروردگار نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، اور نہ انہیں جھڑکو۔ بلکہ ان سے عزت کے ساتھ بات کیا کرو۔ (اسراء :23)
جبکہ نماز کا حکم قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ تقریباً (68) اڑسٹھ مقامات پر آیا ہے، پھر چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سننِ مؤکدہ کی پابندی فرمائی ہے، اس لیے ہمارے لیے بھی ضروری ہے کہ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے ان سنتوں کو پابندی سے ادا کریں، ترمذی شریف کی ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص بارہ رکعت سنت کی پابندی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے اور دو رکعتیں اس(ظہر) کے بعد، دو رکعتیں مغرب کے بعد، دو رکعتیں عشاء کے بعد اور دو رکعتیں فجر سے پہلے۔" (ترمذی: حدیث نمبر: 414)
اسی طرح قرآن مجید کی تلاوت کرنا اگرچہ روزانہ کی بنیاد پر فرض یا واجب تو نہیں ہے لیکن حافظِ قرآن اگر مستقل منزل کی دھرائی چھوڑ دے تو منزل بھولنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے، اور قرآن یاد کرچکنے کے بعد بھول جانا بہت بڑا گناہ ہے. احادیث مبارکہ میں اس کوتاہی پر سخت وعید آئی ہے، ایک حدیث شریف میں ہے: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص قرآن (زبانی) پڑھتا ہو اور پھر اسے بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ تعالٰیٰ سے ملے گا اس حال میں کہ اسے جزام ہوگا۔" (ابوداؤد: حدیث نمبر: 1474)
غیر مسلم کو دین اسلام کی دعوت دینا فرضِ کفایہ ہے، لیکن اس دعوت کے لیے ناجائز ذرائع استعمال کرنے کا انسان مکلف نہیں ہے، اس لیے مذکورہ لڑکے پر لازم ہے کہ اس گیم کو کھیلنا فوراً ترک کردے، جبکہ اس کے والدین کو چاہیے کہ اس کا اس کو نرمی کے ساتھ سمجھائیں اور اس کا ماحول تبدیل کروائیں، اس مقصد کے لیے اس کو کسی اللہ والے کی مجالس میں لیکر جائیں یا تبلیغ وغیرہ میں وقت لگانے کے لیے آمادہ کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

القرآن الکریم: (النور، الایة: 30)
قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ O

و قوله تعالی: (الاسراء، الایة: 23)
وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا‌ ؕ اِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِنۡدَكَ الۡكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوۡ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوۡلًا كَرِيۡمًا‏ o

سنن الترمذی: (رقم الحدیث: 414، ط: دار الغرب الاسلامی)
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ثَابَرَ عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنْ السُّنَّةِ بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ۔

سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث: 1474، ط: دار الرسالة العالمیة)
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنَ امْرِئٍ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ يَنْسَاهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَجْذَمَ".

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Characters & Morals