resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: بیوی کا علیحدگی کے بعد رہائش کا مطالبہ کرنا

(63608-No)

سوال: السلام علیکم، عرض ہے کہ میں اپنی اہلیہ سے علیحدگی چاہتا ہوں، اس کا کہنا ہے کہ میں علیحدگی کے بعد بھی اسی گھر میں رہوں گی کیونکہ یہ میرے بچوں کا گھر ہے، (یہ مکان میرے بھائی نے مجھ کو گفٹ دیا ہے، بیٹیاں شادی شدہ ہیں اور بیٹا دوسرے ملک میں ہے اور ہم دو ہی اس میں مقیم ہیں) معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ایسا مطالبہ جائز ہے؟ آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے۔ جزاک اللہ خیرا

جواب: واضح رہے کہ نکاح اور رخصتی کے بعد بیوی کے کھانے، لباس اور رہائش کا خرچہ شوہر کے ذمہ لازم ہوتا ہے، اور اگر خدا نخواستہ میاں بیوی کے درمیان طلاق ہو جائے تو عدت ختم ہونے تک مطلقہ کی رہائش اور کھانے پینے کا خرچہ شوہر ہی کے ذمہ ہوتا ہے، عدت ختم ہوتے ہی عورت آزاد ہو جاتی ہے، جس کے بعد اس کا خرچہ سابقہ شوہر کے ذمہ لازم نہیں رہتا، پوچھی گئی صورت میں چونکہ مذکور گھر آپ کی ذاتی ملکیت ہے اس لیے طلاق کی صورت میں عدت ختم ہونے کے بعد بیوی کا آپ کے اس گھر میں رہنے کا مطالبہ درست نہیں ہے، نیز علیحدگی کے بعد آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں جائیں گے، اس بناء پر بھی آپ دونوں کا ایک گھر میں رہنا درست نہیں ہوگا۔
البتہ اگر آپ کی بیوی کے پاس ذاتی رہائش کا انتظام نہ ہو، اور اس کی بالغ اولاد صاحبِ حیثیت ہیں تو چونکہ تنگدست والدین کا نفقہ صاحبِ حیثیت بچوں پر واجب ہوتا ہے، اس لیے اس کے صاحبِ حیثیت اولاد کو چاہیے کہ وہ اِس صورت میں اپنی والدہ کے لیے مناسب رہائش کا انتظام کرلیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

الفتاوى الهندية: (544/1، ط: رشیدیه)
تجب علی الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمیة والفقیرة والغنیة دخل بها أو لم یدخل، كبیرةً کانت المرأة أو صغیرةً، یجامع مثلها، کذا في فتاویٰ قاضي خان. سواء کانت حرةً أو مکاتبةً، كذا في الجوهرة النیرة."

و فیه ایضاً: (557/1، ط: دار الفکر)
المعتدة عن الطلاق ‌تستحق ‌النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان

البحر الرائق: (باب النفقة، 205/4، ط: سعید)
(ولابویه واجدادہ وجداته لو فقراء) ای تجب النفقة لِھٰؤلاء……واطلق فی الابن ولم یقید فی الغنی مع انه مقید به لما فی شرح الطحاوی ولایجبر الابن علٰی نفقة للابوین المعسرین اذا کان معسراً۔

الھدایة: (باب النفقة، 440/2، ط: سعید)
وعلی الرجل المرسر أن ینفق علی أبویه وأجدادہ وجداته إذا کانوا فقراء وإن خالفوہ فی الدین۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Divorce