سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب سے شرعی رہنمائی کی درخواست ہے۔
میرا نکاح 15 فروری 2022 کو ہوا تھا۔ رخصتی نہیں ہوئی، نکاح کے بعد کچھ دن فون پر بات ہوئی، شروع سے ہی شوہر گالی گلوچ کرتا تھا، میرے والدین کو گالیاں دیتا تھا اور مجھے بھی۔ شروع میں میں نے سمجھا کہ وقتی غصہ ہے، برداشت کرتی رہی، پھر اس نے تین سے چار مرتبہ مجھے کہا کہ "تم آزاد ہو، میرا تم سے کوئی تعلق نہیں، اپنے باپ سے کہو کہ جو کاغذی کارروائی ہے وہ کرے اور تمہیں طلاق دے دوں"۔ اس کے بعد وہ مہینوں غائب ہو جاتا تھا۔
اس کے مطالبات یہ تھے:
میری والدہ، والد اور بھائیوں سے تعلق ختم کر دوں، 24 گھنٹے ویڈیو کال پر رہوں، کمرے کا دروازہ بند رکھوں، کوئی اندر نہ آئے، اگر ایک سیکنڈ کال لیٹ اٹھاؤں تو میری والدہ کو کال کر کے انہیں گالیاں دیتا تھا، - اگر میں والدہ کے ساتھ باہر جاتی تو میرے پیچھے لوگ لگا کر نگرانی کرتا تھا،- وہ خود ہالینڈ میں رہتا ہے اور کہتا تھا کہ میرا زیور اور کپڑے اس کی دوستوں کو دے دوں، اس کے باس اور دوستوں سے بات کروں۔
اگر میں کوئی چیز مانگتی تو کہتا بہت بے حیا ہو، میری ماں یا بھائی سے مانگو اور ہمارے درمیان کی ہر ذاتی بات اپنے خاندان میں سب کو بتا دیتا تھا، کوئی پردہ نہیں رکھتا تھا، ان سب باتوں سے تنگ آ کر میں نے رابطہ ختم کر دیا، اب 3 سال 5 ماہ سے ہمارا کوئی رابطہ نہیں ہے، نہ فیملی کو معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے۔
2024 میں اس کی والدہ اور بھائی معافی مانگنے آئے اور شادی کی تاریخ بھی رکھی گئی، لیکن لڑکا پھر غائب ہو گیا، اس کے بعد میں برطانیہ (یو کے) آ گئی اور میں نے شادی سے انکار کر دیا کیونکہ دل اس کو قبول نہیں کر رہا۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے ہالینڈ میں چھپ کر دوسری شادی کی ہوئی ہے، اب وہ چاہتا ہے کہ مجھے رخصت کر کے افغانستان میں اپنی والدہ کے پاس چھوڑ دے جہاں نہ موبائل ہو نہ کسی رشتہ دار سے بات کرنے کی اجازت ہو، تاکہ میں صرف بچے پیدا کرتی رہوں اور وہ ہالینڈ میں دوسری عورت کے ساتھ رہے۔
اس کا بھائی یہاں یو کے میں رہتا ہے اور میرے گھر آ کر میرے والد کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر رخصتی نہ دی یا دوسری جگہ شادی کی تو ہم اسے قتل کر دیں گے۔ میرے والد اور بھائی بھی میرا ساتھ نہیں دے رہے، وہ کہتے ہیں کہ یہ غیرت کا مسئلہ ہے، اگر انہیں پتہ چلا کہ میں نے خلع یا طلاق مانگی تو وہ مجھے قتل کر دیں گے۔
میرا سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ کیا اس کا "تم آزاد ہو" کہنا طلاق شمار ہوگا؟ اور اگر میں اتنے ظلم اور جان کے خطرے کی وجہ سے خلع لینا چاہوں تو شرع میں اس کا کیا طریقہ ہے جبکہ میرا والد ساتھ نہ دے؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔
جواب: 1) آزاد کہنے کا حکم : چونکہ آپ غیر مدخول بہا ہیں، اس لیے خاوند کے پہلی مرتبہ غصہ میں "تم آزاد ہو" کہنے سے ہی آپ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوچکی ہے، غیرمدخول بہا ہونے کی وجہ سے آپ پر کوئی عدت بھی لازم نہیں ہے، لہذا شوہر کو اب رجوع کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔
2)والد اور بھائی کی مخالفت:
آپ عاقلہ اور بالغہ ہیں، شوہر کے ظلم اور جان کے خطرے کے پیشِ نظر اپنے تحفظ اور علیحدگی کے لیے والد یا بھائی کی رضامندی شرعاً ضروری نہیں، غیرت کے نام پر دباؤ ڈالنا ناجائز ہے۔
3)قتل کی دھمکیاں اور جان کا تحفظ:
شریعت میں جان کی حفاظت فرض ہے۔ یو کے میں شوہر کے بھائی یا خاندان کی طرف سے دھمکیوں کے خلاف فوری طور پر برطانوی پولیس کو رپورٹ کریں اور قانونی تحفظ (Protection Order) لیں۔
4) کاغذی ثبوت اور شرعی کونسل: چونکہ شوہر رابطہ میں نہیں ہے اور قانونی و خاندانی پیچیدگیاں ہیں، اس لیے یو کے کی باضابطہ "اسلامک شریعہ کونسل" سے رجوع کر کے فسخِ نکاح کا سرٹیفکیٹ حاصل کریں، تاکہ شرعی و قانونی طور پر آپ کی مکمل آزادی کا تحریری ثبوت محفوظ ہو جائے۔
تاہم اگر شرعی کونسل سے رابطہ میں مشکل ہورہی تو شرعاً آپ آزاد ہیں، کہیں اور نکاح کرسکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
رد المحتار: (299/3، ط: دار الفكر)
بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اه وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق.
کذا في تبویب فتاوى دار العلوم كراتشي: رقم الفتوی: (44/1977)
والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی