resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: مؤکل کے ذریعے پوشیدہ احوال معلوم کرنے کے دعوے اور اس کی شرعی حیثیت

(63613-No)

سوال: السلام علیکم، میرے ایک دوست کی ایک بیٹی ہے اور اس کی بیٹی نے سب کو پاگل کیا ہوا ہے، وہ کہتی ہے کہ میرے پاس مؤکل ہے جو مجھے ہر چیز کی خبر لا کر دیتے ہیں، اس نے پورے گھر والوں کو پاگل کیا ہوا ہے، وہ گھر کے ہر بندے کے حال احوال معلوم کرتی ہے اور پھر سب کے سامنے کہتی ہے آپ کے ساتھ یہ مسئلہ ہے، میرے مؤکل نے آکر مجھے یہ خبر دی ہے، اسی طرح رشتہ داروں کے گھر کے چپکے سے حال احوال معلوم کرتی ہے اور پھر ان سب کے سامنے کہتی ہے کہ آپ لوگوں کے گھر میں یہ مسئلہ چل رہا ہے، میرے مؤکل نے آکر خبردی ہے، پوچھنا یہ ہے کہ شریعت میں اس بارے میں کیا حکم ہے؟ کیا موکل شریعت میں ہیں؟ کیا موکل کسی کو خبر لا کر دے سکتے ہیں؟ اس طرح کی باتیں کرنے سے ایمان پر کیا فرق پڑتا ہے؟

جواب: مذکورہ لڑکی کے طرزِ عمل اور پوچھے گئے سوالات کا شرعی و فقہی حکم درج ذیل ہے:
1) کیا شریعت میں مؤکل ہوتے ہیں اور ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
لفظِ "مؤکل" لغت میں کسی کام پر سپرد یا مامور کیے گئے شخص یا ہستی کے معنی میں آتا ہے، اور شریعت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض فرشتوں کے مختلف کائناتی امور (جیسے: بارش برسانا، ارواح قبض کرنا وغیرہ) پر مقرر ہونے کا ثبوت ملتا ہے، لیکن عوام الناس یا عملیات کرنے والوں میں جو یہ تصور رائج ہے کہ انسان کے تابع کوئی نوری یا پاکیزہ ہستی ہوتی ہے جو اسے دنیا کے پوشیدہ معاملات اور غیب کی خبریں لا کر دیتی رہتی ہے، یہ محض ایک بے اصل اور خود ساختہ بات ہے جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں۔ انسانوں کے تابع جنات کے ہونے کے دعوے کرنا یا ان سے خبریں لینا کہانت اور تسخیر کے زمرے میں آتا ہے جو شرعاً مذموم اور ممنوع ہے۔
2) کیا مؤکل یا جنات کسی کو غیب اور پوشیدہ معاملات کی خبر لا کر دے سکتے ہیں؟
غیب کا مطلق اور مستقل علم صرف اور صرف باری تعالیٰ کی ذات کے ساتھ خاص ہے، کسی انسان، فرشتے یا جن کو ذاتی طور پر غیب کا علم حاصل نہیں، البتہ احادیث سے ثابت ہے کہ شیاطین آسمانوں سے چوری چھپے بعض باتیں سن کر اپنے دوست کاہنوں تک پہنچاتے تھے اور اس ایک سچی بات میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا کر پیش کرتے تھے، پس جنات کے پاس نہ تو غیب کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی ان کی دی ہوئی خبریں شرعاً معتبر یا قابلِ اعتماد ہوتی ہیں۔
3)مذکورہ لڑکی کے دعوے اور اس کے رویے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
اگر وہ لڑکی چوری چھپے لوگوں کے حالات و معاملات معلوم کرتی ہے اور پھر اسے "مؤکل کی خبر" کا نام دیتی ہے تو یہ ایک طرف صریح جھوٹ اور فریب ہے، اور دوسری طرف شریعت میں حرام کردہ تجسس اور مسلمانوں کی پردہ دری ہے۔ دوسروں کے پوشیدہ معاملات کی ٹوہ لگانا اور پھر انہیں لوگوں کے سامنے بیان کر کے خاندان میں انتشار اور فتنہ پھیلانا کبیرہ گناہ ہے۔
4)اس طرح کی باتیں کرنے اور غیب کی باتیں ماننے سے ایمان پر کیا اثر پڑتا ہے؟
اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ کے سوا کسی مخلوق (خواہ وہ جن ہو یا مؤکل) کو بذاتِ خود غیب کا علم حاصل ہے تو یہ عقیدہ صریح کفر ہے اور اگر کوئی شخص کاہنوں یا غیب کی خبریں دینے کا دعویٰ کرنے والوں کے پاس جائے اور ان کی تصدیق کرے تو اس پر احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں، البتہ محض یہ کہنے سے کہ "میرے پاس مؤکل ہے"، کسی کلمہ گو مسلمان کو فوراً کافر قرار نہیں دیا جائے گا جب تک کہ اس کے باطنی عقیدے کی حقیقت واضح نہ ہو، تاہم یہ طرزِ عمل سخت گناہ اور شریعت کے احکام کے صریح منافی ہے۔
5) گھر والوں اور رشتہ داروں کے لیے شرعی و عملی رہنمائی کیا ہے؟
گھر والوں پر لازم ہے کہ اس کی ایسی باتوں پر بالکل دھیان نہ دیں اور نہ ہی اس کے دعووں سے مرعوب ہوں، کیونکہ توجہ ملنے سے یہ کیفیت مزید بڑھتی ہے۔ اسے نرمی سے سمجھایا جائے کہ جھوٹ بولنا اور دوسروں کے راز ٹٹولنا گناہ ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ بسا اوقات ایسی کیفیات شدید ذہنی دباؤ یا کسی نفسیاتی خلل کی وجہ سے پیدا ہو جاتی ہیں، لہٰذا مسنون دعاؤں اور تلاوتِ قرآن کے اہتمام کے ساتھ ساتھ اگر ضرورت ہو تو کسی مستند معالج یا ماہرِ نفسیات سے بھی اس کا معائنہ کرانا چاہیے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔

.........................................

الدلائل:

الزواجر عن اقتراف الكبائر: (2/ 177، ط: دار الفكر)
"الْكَبِيرَةُ الثَّالِثَةُ وَالرَّابِعَةُ وَالْخَمْسُونَ، وَالْخَامِسَةُ وَالسَّادِسَةُ وَالسَّبْعُونَ بَعْدَ المائتين: السِّحْرُ، وَالْكِهَانَةُ، وَالتَّنْجِيمُ، وَالضَّرْبُ بِالرَّمْلِ وَالشَّعْبَذَةُ... وَالْكَاهِنُ: هُوَ الَّذِي يَخْتَصُّ بِمُعَالَجَةِ الْغَيْبِيَّاتِ، وَقِيلَ: هُوَ الَّذِي يُخْبِرُ عَمَّا سَيَكُونُ، وَقِيلَ: هُوَ الَّذِي لَهُ تَابِعٌ مِنَ الْجِنِّ يُلْقِي إِلَيْهِ الْأَخْبَارَ، وَمِنْهُ الْعَرَّافُ: وَهُوَ الَّذِي يَدَّعِي مَعْرِفَةَ الشَّيْءِ الْمَسْرُوقِ، وَمَكَانَ الضَّالَّةِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ".

أحكام القرآن للجصاص: (5/ 284، ط: دار إحياء التراث العربي)
"وَأَمَّا قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلَا تَجَسَّسُوا} فَإِنَّهُ قُرِئَ: {وَلَا تَحَسَّسُوا} بِالْحَاءِ وَالْجِيمِ... وَالْمَعْنَى فِيهِمَا وَاحِدٌ، وَهُوَ النَّهْيُ عَنْ التَّفْتِيشِ عَنْ مَعَايِبِ النَّاسِ وَالْبَحْثِ عَنْ سَرَائِرِهِمْ... وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ أَنْ يَتَتَبَّعَ عَوْرَاتِ الْمُسْلِمِينَ لِيَظْهَرَ عَلَيْهَا".

رد المحتار على الدر المختار: (4/ 242، ط: دار الفكر)
"مَطْلَبٌ: فِي كُفْرِ مَنْ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ. (قَوْلُهُ: كَفَرَ) لِأَنَّهُ ادَّعَى لِنَفْسِهِ صِفَةً مَقْصُورَةً عَلَى اللَّهِ تَعَالَى كَمَا فِي الْبَحْرِ عَنْ الْخُلَاصَةِ. وَفِي الْمُحِيطِ: إذَا قَالَتْ لِزَوْجِهَا تَعْرِفُ سِرِّي كَفَرَتْ؛ لِأَنَّ مَعْرِفَةَ السِّرِّ وَالْغَيْبِ لِلَّهِ تَعَالَى... وَفِي الْفَتَاوَى الصُّغْرَى: الْقَوْلُ بِإِحَاطَةِ الْغَيْبِ لِغَيْرِ اللَّهِ تَعَالَى كُفْرٌ كَذَا فِي جَامِعِ الْفُصُولَيْنِ".

صحيح البخاري: (9/ 133، رقم الحديث: 7561، ط: دار طوق النجاة)
"عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلَ أُنَاسٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الكُهَّانِ، فَقَالَ: «لَيْسُوا بِشَيْءٍ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَا أَحْيَانًا بِالشَّيْءِ فَيَكُونُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تِلْكَ الكَلِمَةُ مِنَ الحَقِّ، يَخْطَفُهَا الجِنِّيُّ، فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ كَمَا تُقَرُّ القَارُورَةُ، فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَكْثَرَ مِنْ مِائَةِ كَذْبَةٍ»".

صحيح مسلم: (4/ 1751، رقم الحديث: 2230، ط: دار إحياء التراث العربي)
"عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً»".

مسند أحمد بن حنبل: (15/ 341، رقم الحديث: 9536، ط: مؤسسة الرسالة)
"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَتَى كَاهِنًا، أَوْ عَرَّافًا، فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»".

والله تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Miscellaneous