سوال:
السلام علیکم! میرا نکاح مئی 2025 میں ہوا تھا، جس کے بعد میں اپنے شوہر سے خلوت میں ملی، لیکن ان کو نامردی کا مسئلہ تھا، اس لیے ہم بستری نہیں ہو سکی، اس کے بعد ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔
نومبر میں انہوں نے یہ کہہ کر کہ میری طرف سے طلاق ہے، مجھے ایک طلاق دی، اس وقت ہم نے بھی اسے بہت ہلکا لیا اور نظر انداز کر دیا، اس کے بعد دسمبر میں میری رخصتی ہوئی، لیکن اس وقت بھی وہ ہم بستری نہیں کر پاتے تھے، جس کی وجہ سے ہمارے درمیان بہت لڑائی رہتی تھی۔
پھر فروری میں انہوں نے مجھے دوبارہ تین مرتبہ طلاق دی، اس کے بعد ہم نے فتویٰ نکلوایا تو معلوم ہوا کہ پہلی طلاق جو رخصتی سے پہلے دی گئی تھی، اسی سے نکاح ختم ہو گیا تھا، کیونکہ وہ طلاقِ بائن تھی۔
میرا سوال یہ ہے کہ بعد میں انہوں نے جو تین طلاقیں دیں، کیا وہ بھی شمار ہوں گی؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ طلاقِ بائن کے بعد بھی دی گئی طلاق شمار ہوتی ہے۔
نومبر میں جب انہوں نے مجھے طلاق دی تھی، اس کے بعد نومبر، دسمبر اور جنوری میں مجھے حیض آئے تھے، اور تین حیض گزر جانے کے بعد فروری میں انہوں نے مجھے دوبارہ طلاق دی۔
سوال سے متعلق مطلوب وضاحت: السلام علیکم! محترمہ! اس بات کی وضاحت کریں کہ دسمبر میں رخصتی کرتے وقت نکاح دوبارہ ہوا تھا یا نکاح کے بغیر ہی رخصتی کردی گئی تھی؟
مستفتیہ کی طرف سے وضاحت: بغیر نکاح لا علمی میں میری رخصتی ہوئی۔
جواب: واضح رہے کہ خلوتِ صحیحہ کے بعد ہمبستری سے پہلے دی گئی طلاق طلاقِ بائن شمار ہوتی ہے، اور ایسی صورت میں طلاق کے بعد عورت پر عدت بھی لازم ہوتی ہے، دورانِ عدت اگر شوہر دوسری اور تیسری طلاق دے دے تو وہ بھی واقع ہو جاتی ہیں، البتہ اگر طلاق عدت گزرنے کے بعد دی جائیں تو وہ طلاق واقع نہیں ہوتی۔
پوچھی گئی صورت میں نومبر میں دی گئی طلاق طلاقِ بائن تھی، اس کے بعد نئے سرے سے نکاح کرنا ضروری تھا، لہذا دسمبر میں دوبارہ نکاح کیے بغیر رخصتی کا ہونا اور آپ دونوں کا ایک ساتھ رہنا جائز نہیں تھا، اس لیے آپ دونوں پر لازم ہے کہ اس کوتاہی پر اللہ تعالیٰ سے خوب توبہ و استغفار کریں۔
نیز چونکہ فروری میں تین حیض مکمل ہونے سے آپ کی عدت ختم ہو چکی تھی، اس لیے فروری میں عدت کے بعد دی گئی طلاقیں واقع نہیں ہوں گی۔
ایسی صورت میں اگر آپ دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہوگا، البتہ شوہر کو اب صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
اور اگر عورت کسی اور جگہ نکاح کرنا چاہتی ہو تو جس دن سے شوہر نے آپ سے مکمل طور پر علیحدگی (متارکت) اختیار کرلی تھی، اس دن سے تین حیض مکمل ہونے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
الدر المختار مع رد المحتار: (114/3، ط: دار الفکر)
(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل...(كالوطء) فيما يجيء (ولو) كان الزوج (مجبوبا أو عنينا أو خصيا) ... (في ثبوت النسب) ولو من المجبوب (و) في (تأكد المهر) المسمى (و) مهر المثل بلا تسمية و (النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها) في عدتها ... وكذا في وقوع طلاق بائن آخر على المختار.
(قوله والعدة) وجوبها من أحكام الخلوة سواء كانت صحيحة أم لا ط
(قوله وكذا في وقوع طلاق بائن آخر إلخ) في البزازية: والمختار أنه يقع عليها طلاق آخر في عدة الخلوة، وقيل لا اه وفي الذخيرة: وأما وقوع طلاق آخر في هذه العدة فقد قيل لا يقع وقيل يقع، وهو أقرب إلى الصواب لأن الأحكام لما اختلفت يجب القول بالوقوع احتياطا، ثم هذا الطلاق يكون رجعيا أو بائنا ذكر شيخ الإسلام أنه يكون بائنا اه ومثله في الوهبانية وشرحها.
والحاصل أنه إذا خلا بها خلوة صحيحة ثم طلقها طلقة واحدة فلا شبهة في وقوعها، فإذا طلقها في العدة طلقة أخرى فمقتضى كونها مطلقة قبل الدخول أن لا تقع عليها الثانية، لكن لما اختلفت الأحكام في الخلوة في أنها تارة تكون كالوطء وتارة لا تكون جعلناها كالوطء في هذا فقلنا بوقوع الثانية احتياطا لوجودها في العدة، والمطلقة قبل الدخول لا يلحقها طلاق آخر إذا لم تكن معتدة بخلاف هذه.
والظاهر أن وجه كون الطلاق الثاني بائنا هو الاحتياط أيضا، ولم يتعرضوا للطلاق الأول. وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا لأن طلاق قبل الدخول غير موجب للعدة لأن العدة إنما وجبت لجعلنا الخلوة كالوطء احتياطا، فإن الظاهر وجود الوطء في الخلوة الصحيحة ولأن الرجعة حق الزوج وإقراره بأنه طلق قبل الوطء ينفذ عليه فيقع بائنا، وإذا كان الأول لا تعقبه الرجعة يلزم كون الثاني مثله. اه. ويشير إلى هذا قول الشارح طلاق بائن آخر فإنه يفيد أن الأول بائن أيضا، ويدل عليه ما يأتي قريبا من أنه لا رجعة بعده، وسيأتي التصريح به في باب الرجعة، وقد علمت مما قررناه أن المذكور في الذخيرة هو الطلاق الثاني دون الأول فافهم. ثم ظاهر إطلاقهم وقوع البائن أولا وثانيا وإن كان بصريح الطلاق، وطلاق الموطوءة ليس كذلك فيخالف الخلوة الوطء في ذلك.
وأجاب ح: بأن المراد التشبيه من بعض الوجوه وهو أن في كل منهما وقوع طلاق بعد آخر. اه. وأما الجواب بأن البائن قد يلحق البائن في الموطوء فلا يدفع المخالفة المذكورة فافهم.
الدر المختار مع رد المحتار: (409/3، ط: دار الفکر)
(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب
(قوله: بالإجماع) راجع إلى قوله في العدة وهو جواب عن سؤال هو أن قوله: {ولا تعزموا عقدة النكاح حتى يبلغ الكتاب أجله} [البقرة: 235] يعني انقضاء العدة عام، فكيف جاز للزوج تزوجها في العدة والنص بعمومه يمنعه، والجواب أنه خص منه العدة من الزوج نفسه بالإجماع (قوله: ومنع غيره) أي غير الزوج في العدة لاشتباه النسب بالعلوق، فإنه لا يوقف على حقيقته أنه من الأول، أو الثاني، وهذا حكمة شرعية العدة في الأصل، والمراد بذكرها هنا بيان عدم المنع من تحصيص الزوج بالإجماع لا بيان علته لأنه يرد عليه الصغيرة والآيسة، وعدة الوفاة قبل الدخول، ومعتدة الصبي والحيضة الثانية والثالثة فإنه لا اشتباه في ذلك، ولا يجوز التزوج في المدة لعلة أخرى هي إظهار خطر المحل أو هو حكم تعبدي، وتمام بيانه في الفتح.
رد المحتار: (522/3، ط: دار الفکر)
(و) مبدؤها (في النكاح الفاسد) بعد التفريق من القاضي بينهما، ثم لو وطئها حد جوهرة وغيرها، وقيده في البحر بحثا بكونه بعد العدة لعدم الحد بوطء المعتدة (أو) المتاركة. أي (إظهار العزم) من الزوج (على ترك وطئها) بأن يقول بلسانه: تركتك بلا وطء ونحوه، ومنه الطلاق وإنكار النكاح لو بحضرتها وإلا لا، لا مجرد العزم لو مدخولة وإلا فيكفي تفرق الأبدان.
بدائع الصںائع: (187/3، ط: دار الکتب العلمية)
فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ... ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية."
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی