سوال:
السلام علیکم، میں نے 2017 میں ایک پلاٹ دیکھا جس کی قیمت 17,50,000 روپے تھی، لیکن میرے پاس پیسے کم تھے، اس پلاٹ کا ذکر میں نے اپنی والدہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ تم یہ پلاٹ لے لو۔ انہوں نے کراچی میں ایک پلاٹ جو کہ میرے والد صاحب نے خریدا تھا (ان کا انتقال 2015 میں ہو گیا تھا) بھائی سے کہہ کر فروخت کروایا، جس کی کل رقم 14,15,000 روپے بنی، اور وہ رقم مجھے بھیج دی گئی۔ باقی پیسے میں نے ڈال کر پلاٹ خرید لیا جو کہ اب میرے نام پر ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ میں وہ رقم جو مجھے دی گئی تھی، وہ میری والدہ اور تمام بہن بھائیوں کا مشترکہ حق تھا، میں وہ واپس لوٹانا چاہتا ہوں۔ کیا میں آج جو خریدا گیا پلاٹ ہے، اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے رقم واپس کروں گا یا پھر اصل رقم یعنی 14,15,000 روپے ہی لوٹاؤں گا؟
*سوال سے متعلق وضاحت:*
محترم آپ کے سوال کے جواب کے لئے درج ذیل امور کی وضاحت مطلوب ہے:
1) کیا والدہ محترمہ نے مذکورہ پلاٹ تمام ورثاء کی اجازت اور رضامندی سے فروخت کیا تھا اور ان کی اجازت سے اس کی رقم آپ کو دی گئی تھی؟
2) رقم دیتے وقت والدہ محترمہ کی کیا نیت تھی؟ کیا انہوں نے اس بات کی کوئی صراحت یا وضاحت کی تھی کہ یہ رقم کس حیثیت سے دی جا رہی ہے (مثلاً ہبہ، قرض یا کسی اور صورت میں)؟ ان امور کی وضاحت کے بعد آپ کے سوال کا جواب دیا جائے گا۔
مستفتی کی طرف سے وضاحت
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:
1) جی ہاں، والدہ محترمہ نے یہ پلاٹ تمام بہن بھائیوں کی باہمی رضامندی اور اجازت سے فروخت کیا تھا، اور یہ رقم مجھے تمام بہن بھائیوں کی رضامندی سے ہی دی گئی تھی۔ یہ رقم مجھے میرے بڑے بھائی نے ہی سینٹ کی تھی ۔
2) رقم دیتے وقت والدہ محترمہ نے اس بات کی کوئی صراحت یا وضاحت نہیں کی تھی کہ یہ رقم کس حیثیت سے دی جا رہی ہے (آیا یہ ہبہ ہے، قرض ہے یا کسی اور صورت میں ہے)، لیکن مجھے ہمیشہ سے یہی لگتا تھا کہ یہ رقم واپس کرنی ہے۔
جواب: سوال اور وضاحت میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق والدہ محترمہ نے تمام ورثاء کی رضامندی سے رقم دی تھی، لیکن دیتے وقت ہبہ یا شرکت وغیرہ کی کوئی صراحت یا معاہدہ نہیں ہوا تھا، لہٰذا اگر رقم دیتے وقت ہبہ، قرض یا شراکت وغیرہ کا کوئی معاہدہ یا صراحت نہ ہوئی ہو تو اس صورت میں یہ رقم قرض شمار ہوگی، کیونکہ جب کسی صراحت کے بغیر کسی کو مال دیا جائے، اور ہبہ، تملیک شرکت وغیرہ کا قرینہ یا معاہدہ موجود نہ ہو تو وہ رقم شرعاً قرض شمار ہوتی ہے، خاص طور پر اس مسئلہ میں جیسا کہ آپ نے وضاحت کی ہے کہ "ہمیشہ سے یہی لگتا تھا کہ یہ رقم واپس کرنی ہے" لہٰذا آپ پر اصل رقم 14,15,000 روپے قرض ہے، جسے واپس کرنا لازم ہے، پلاٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے ادائیگی لازم نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر: (355/2، ط: دار إحياء التراث العربي)
وفي الخلاصة لو دفع إلى رجل ثوبا، وقال: ألبس نفسك ففعل يكون هبة، ولو دفع إليه دراهم فقال: أنفقها يكون قرضا
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: (82/3، ط: دار الجیل)
كذلك لو أعطى أحد لآخر نقودا قائلا له: اصرف هذه على مصارفك أو حوائجك أو على الغزاة ولم يذكر بأن ذلك قرض أو هبة وقبض المذكور ذلك فلا يكون هبة بل يكون قرضا لأن هذا اللفظ محتمل القرض والهبة وبما أن القرض أدنى من الهبة فالأولى حمله على القرض.
مستفاد من تبویب فتاوی جامعة دار العلوم کراتشي: رقم الفتوی: (74/2507)
واللہ تعالٰی أعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی