سوال:
سورۂ فرقان میں شرک، ناحق قتل اور زنا کی معافی کا ذکر ہے، کیا یہ معافی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو پہلے اسلام نہیں لائے تھے؟ کیا مؤمنین کے لیے یہ معافی نہیں ہے؟ کیونکہ جو لوگ پہلے ایمان نہیں لائے تھے اور بعد میں ایمان لے آئے، انہیں معافی مل گئی، جبکہ مؤمنین کے لیے زنا کی سزا بیان کی گئی ہے؟
جواب: واضح رہے کہ اسلام قبول کرنے سے کفر کی حالت میں کیے گئے گناہ معاف ہوجاتے ہیں، اسی طرح مسلمان اگر کسی گناہ کے ارتکاب کے بعد سچی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو معاف فرما دیتے ہیں۔ تاہم گناہوں کی معافی کا تعلق آخرت کے مواخذے سے ہے، جبکہ حدود کا تعلق دنیا میں جرائم کی روک تھام اور معاشرے کو ان کے مفاسد سے محفوظ رکھنے سے ہے۔
درحقیقت یہ مسئلہ اس اصول پر متفرع ہے کہ احناف کے نزدیک حدود زواجر ہیں، مکفرات نہیں؛ یعنی کسی شخص پر حد جاری ہوجانے سے اس کا گناہ خود بخود معاف نہیں ہوجاتا، بلکہ آخرت کے مواخذے سے نجات کے لیے توبہ کرنا بھی ضروری ہے۔
لہٰذا اگر کسی مسلمان یا ذمی کافر سے زنا کا جرم شرعی طریقے سے ثابت ہوجائے تو اس پر شرعی حکم کے مطابق حد جاری کی جائے گی، خواہ اس نے پہلے توبہ کرلی ہو یا بعد میں اسلام قبول کرلیا ہو۔ البتہ غیر مسلموں کے احکام میں حدود جاری ہونے سے متعلق ذمی، حربی اور مستأمن کے اعتبار سے تفصیل ہے، جس کی مراجعت متعلقہ فقہی کتب سے کی جاسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*فتح الملهم:(85/2، ط: دارالعلوم کراتشی)*
وقال بعض علماءنا: يمحوا الإسلام ما كان قبله من كفر وعصيان، وما ترتب عليهما من العقوبات التي هي حقوق الله، وأما حقوق العباد فلا تسقط بالحج والهجرة اجماعاً، ولا بالإسلام لو كان المسلم ذمياً، سواء كان الحق عليه مالياً او غير مالي، كالقصاص، أو كان المسلم حربياً وكان الحق مالياً بالاستقراض أو الشراء، وكان المال غير الخمر.
*فتح الملهم: (368/1،ط: دارالعلوم کراتشی)*
قال الشيخ بدر الدين العيني رحمه الله تعالى: " قال شمس الائمة في كتابه في فصل بيان موجب الأمر في حق الكفار: لا خلاف أنهم مخاطبون بالإيمان، لأن النبي صلى الله عليه وسلم بعث إلى الناس كافة ليدعوهم إلى الإيمان، قال الله تعالى: ﴿ قل يآ أيها الناس إني رسول الله اليكم جميعا ﴾، ولا خلاف أنهم مخاطبون بالمشروع من العقوبات، ولا خلاف أن الخطاب بالمعاملات يتناولهم أيضاً، ولا خلاف أن الخطاب بالشرائع يتناولهم في حكم المؤاخذة في الآخرة، فأما في وجوب الأداء في أحكام الدنيا فمذهب العراقيين من أصحابنا: أن الخطاب يتناولهم أيضاً، والأداء واجب عليهم، ومشايخ ديارنا يقولون: إنهم لا يخاطبون بأداء ما يحتمل السقوط من العبادات" أه، فليتأمل.
وقال العلامة ابن عابدين في رد المحتار في بحث الجزية من كتاب الجهاد ناقلاً عن شرح المنار لصاحب البحر:" إن الكفار مخاطبون بالإيمان، وبالعقوبات۔ سوى حد الشرب۔ والمعاملات، وأما العبادات فقال السمرقنديون: إنهم غير مخاطبين أداء واعتقاداً، وقال البخاريون: إنهم غير مخاطبين بهما أداء فقط، وقال العراقيون: إنهم مخاطبون بهما، فيعاقبون عليهما وهو المعتمد" اه.
*الد المختار مع رد المحتار:(3/4،ط:دار الفکر)*
(اﻟﺤﺪ) ﻟﻐﺔ اﻟﻤﻨﻊ. ﻭﺷﺮﻋﺎ (ﻋﻘﻮﺑﺔ ﻣﻘﺪﺭﺓ ﻭﺟﺒﺖ ﺣﻘﺎ ﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ) ﺯﺟﺮا، ﻓﻼ ﺗﺠﻮﺯ اﻟﺸﻔﺎﻋﺔ ﻓﻴﻪ ﺑﻌﺪ اﻟﻮﺻﻮﻝ ﻟﻠﺤﺎﻛﻢ، ﻭﻟﻴﺲ
ﻣﻄﻬﺮا ﻋﻨﺪﻧﺎ ﺑﻞ اﻟﻤﻄﻬﺮ اﻟﺘﻮﺑﺔ.
(ﻗﻮﻟﻪ ﺣﻘﺎ ﻟﻠﻪ ﺗﻌﺎﻟﻰ) ؛ ﻷﻧﻬﺎ ﺷﺮﻋﺖ ﻟﻤﺼﻠﺤﺔ ﺗﻌﻮﺩ ﺇﻟﻰ ﻛﺎﻓﺔ اﻟﻨﺎﺱ ﻣﻦ ﺻﻴﺎﻧﺔ اﻷﻧﺴﺎﺏ ﻭاﻷﻣﻮاﻝ ﻭاﻟﻌﻘﻮﻝ ﻭاﻷﻋﺮاﺽ (ﻗﻮﻟﻪ ﺯﺟﺮا) ﺑﻴﺎﻥ ﻟﺤﻜﻤﻬﺎ اﻷﺻﻠﻲ، ﻭﻫﻮ اﻻﻧﺰﺟﺎﺭ ﻋﻤﺎ ﻳﺘﻀﺮﺭ ﺑﻪ اﻟﻌﺒﺎﺩ ﻣﻦ ﺃﻧﻮاﻉ اﻟﻔﺴﺎﺩ، ﻭﻫﻮ ﻭﺟﻪ ﺗﺴﻤﻴﺘﻬﺎ ﺣﺪﻭﺩا.
ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻔﺘﺢ: ﻭاﻟﺘﺤﻘﻴﻖ ﻣﺎ ﻗﺎﻝ ﺑﻌﺾ اﻟﻤﺸﺎﻳﺦ: ﺇﻧﻬﺎ ﻣﻮاﻧﻊ ﻗﺒﻞ اﻟﻔﻌﻞ، ﺯﻭاﺟﺮ ﺑﻌﺪﻩ: ﺃﻱ اﻟﻌﻠﻢ ﺑﺸﺮﻋﻴﺘﻬﺎ ﻳﻤﻨﻊ اﻹﻗﺪاﻡ ﻋﻠﻰ اﻟﻔﻌﻞ، ﻭﺇﻳﻘﺎﻋﻬﺎ ﺑﻌﺪﻩ ﻳﻤﻨﻊ ﻣﻦ اﻟﻌﻮﺩ ﺇﻟﻴﻪ.
*المبسوط للسرخسي: (85/9،ط:دار المعرفة*)
(قال) وإذا زنى الذمي فقال: عندي هذا حلال لم يدرأ عنه الحد؛ لأنا علمنا بكذبه فالزنا حرام في الأديان كلها.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی