resize-left-dar mid-dar right-dar

عنوان:

(63640-No)

سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ پاک قران پاک میں بار بار فرماتے ہیں: غور کرو. تدوبر کرو. سوچو. سمجھو. باقاعدگی سے تلاوت کرنے والا قرآن پاک کو ترجمے کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟ میرا خیال ہے کہ وہ درجنوں آیتوں کا انکاری ہو جاتا ہے، آپ مجھے مشورہ دیں۔ شکریہ

جواب: اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ کریم محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ ہدایت، فہم، تدبر اور عمل کے لیے نازل ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر قرآنِ کریم میں تدبر اور غور و فکر کی دعوت دی ہے، چنانچہ صرف الفاظ کی تلاوت پر اکتفا کرنا اور قرآن کے معانی و مفاہیم سمجھنے کی بالکل کوشش نہ کرنا یقیناً قرآن کے ایک اہم مقصد سے محرومی ہے، تاہم ایسے شخص کو محض اس بنا پر آیات کا منکر کہنا درست نہیں۔
قرآنِ کریم کی تلاوت بہرحال مستقل عبادت ہے، خواہ قاری اس کے تمام معانی نہ سمجھتا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا. ترجمہ: ”جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی۔" (سنن الترمذي، حدیث: 2910)
لہٰذا محض ترجمہ نہ سمجھنے کی وجہ سے تلاوت کی فضیلت ختم نہیں ہوتی۔
البتہ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کے ان احکام کا علم حاصل کرے جن پر اس کی عملی زندگی کا دارومدار ہے۔ قرآنِ کریم کا ترجمہ و مفہوم سمجھنے کی کوشش بھی اسی لیے نہایت اہم ہے کہ قرآن ہدایت کی کتاب ہے اور اس کی ہدایت سے حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوگا جب انسان اس کے پیغام کو سمجھے اور اپنی استطاعت کے مطابق اس پر عمل کرے، البتہ قرآن کے تمام دقیق معانی، تفسیری نکات اور احکام کا استنباط ہر شخص کے ذمہ نہیں، بلکہ یہ اہلِ علم کا میدان ہے۔
لہٰذا جو شخص پابندی سے قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے لیکن اس کے معانی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، اسے کافر، منکرِ قرآن یا منکرِ آیات قرار دینا درست نہیں، البتہ اگر وہ دانستہ طور پر قرآن کے احکام اور ہدایات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے سے بے اعتنائی برتتا ہے تو یہ غفلت اور محرومی کی بات ہے، جس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
مشورہ: ایسے افراد کو ملامت یا سخت الفاظ کے بجائے حکمت اور محبت سے ترغیب دی جائے کہ روزانہ کی تلاوت کے ساتھ چند آیات کا مستند اور آسان ترجمہ و تفسیر بھی پڑھ لیا کریں۔ اس طرح تلاوت کا ثواب بھی حاصل ہوگا اور قرآنِ کریم کے مقصدِ ہدایت، فہم اور عمل سے بھی استفادہ ہوگا۔

.....................
الدلائل:

﴿كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ﴾(سورۃ ص، آیت: 29)

﴿أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا﴾ (سورۃ محمد، آیت: 24)

تفسير ابن كثير، (تفسير سورة ص، آية: 29)
«والله ما تدبره بحفظ حروفه وإضاعة حدوده، حتى إن أحدهم ليقول: قرأت القرآن كله ما يرى له القرآن في خلق ولا عمل.»

الجامع لأحكام القرآن للقرطبي،( تفسير سورة محمد، آية: 24)
«قوله تعالى: أفلا يتدبرون القرآن أي يتفهمونه...»

سنن الترمذي، كتاب فضائل القرآن، حدیث: 2910)
«مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ.»

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Interpretation of Quranic Ayaat