سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! براہِ کرم میرے معاملے کا قرآن و سنت اور اہلِ حدیث موقف کے مطابق شرعی حکم بتا دیں۔
میرے شوہر نے پہلی مرتبہ مجھے صرف ایک طلاق دی، اس وقت میں پاک (طاہرہ) تھی، اس کے بعد میری عدت کے اندر میرے شوہر نے رجوع کر لیا اور ہم دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے۔ کچھ عرصے بعد میرے شوہر نے دوسری مرتبہ، جب میں دوبارہ پاک تھی، ایک ہی دن اور تقریباً ایک ہی وقت میں یہ الفاظ چھ مرتبہ کہے: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں..." یعنی انہوں نے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ چھ مرتبہ ایک ہی مجلس/موقع پر کہے، اس کے چار دن بعد مجھے حیض شروع ہوا، اس کے بعد میں نے اپنی عدت مکمل کی، عدت مکمل ہونے کے بعد تقریباً چار ماہ تک ہمارا نکاح نہیں ہوا، پھر تقریباً پانچ ماہ بعد میرے شوہر نے مجھ سے نیا نکاح کیا اور ہم دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنے لگے۔ ہم نے اس وقت ایک اہلِ حدیث عالم کے فتویٰ/موقف کے مطابق نیا نکاح کیا تھا، جس میں ایک مجلس میں دی گئی متعدد طلاقوں کو ایک طلاق شمار کیا گیا تھا۔
براہِ کرم درج ذیل سوالات کا واضح جواب قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں دیں:
1) پہلی ایک طلاق کے بعد رجوع کرنے سے کیا پہلی طلاق شمار رہتی ہے؟
2) ایک ہی مجلس میں "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" چھ مرتبہ کہنے سے ایک طلاق شمار ہوگی یا تین؟
3) اگر چھ طلاقوں کو ایک طلاق شمار کیا جائے تو پہلی طلاق + دوسری مرتبہ کی ایک طلاق = کیا کل دو طلاقیں شمار ہوں گی؟
4) دوسری عدت مکمل ہونے کے بعد کئی ماہ گزرنے پر اسی شوہر سے نیا نکاح کرنا شرعاً درست تھا؟
5) اگر اس وقت نیا نکاح صحیح شرائط کے ساتھ ہوا تھا تو کیا ہمارا موجودہ نکاح صحیح اور قائم ہے؟
6) براہِ کرم اس مسئلے کے متعلق قرآن کی آیات اور صحیح احادیث کے واضح حوالہ جات بھی عطا فرمائیں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ پورا واقعہ دیکھ کر واضح فتویٰ دیں، تاکہ ہمیں اپنے موجودہ نکاح کے بارے میں اطمینان حاصل ہو۔ جزاکم اللہ خیراً
جواب: 1) جی ہاں، پہلی طلاق واقع ہونے کے بعد اگر شوہر نے عدت کے اندر رجوع کرلیا ہو تو رجوع سے نکاح برقرار ہوجاتا ہے، لیکن پہلی طلاق ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ طلاق شمار رہتی ہے، عدت کے اندر رجوع کر لینے کے بعد آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہتا ہے، اگر بعد میں مزید دو طلاقیں دے دے تو تین طلاقیں مکمل ہوجائیں گی، لہٰذا رجوع کا مطلب یہ نہیں کہ پہلی طلاق کالعدم ہوگئی، بلکہ پہلی طلاق اپنے شمار کے اعتبار سے برقرار رہتی ہے۔
5/2) شوہر کا ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں‘‘ چھ مرتبہ کہنے سے تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے اور اب محض رجوع یا تجدیدِ نکاح سے دوبارہ نکاح ممکن نہیں ہے۔ ہاں! اگر آپ عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کریں اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کریں، پھر وہ اپنی مرضی سے آپ کو طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو آپ اس کی عدت گزار کردوبارہ سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتی ہیں۔
6) واضح رہے کہ تین طلاقیں دینے کی صورت میں ائمہ اربعہ (امام ابوحنیفہؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام احمدؒ) کا اس بات پر اجماع ہے کہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں، اس اجماع کے خلاف کوئی بات بھی کہی جائے تو وہ قابل قبول نہیں ہوگی اور کسی سے خلافِ اجماع فتویٰ لے کر اس پر عمل کرنا اور بھی سخت گناہ اور بڑے خطرے کی بات ہے۔
مزید واضح ہو کہ محض خواہشِ نفس کے خاطر ایسے لوگوں سے فتویٰ لے کر مطلّقہ کو اپنے گھر رکھنا بدترین گناہ ہے، فوراً ایک دوسرےسے الگ ہونا لازم ہے ، ورنہ ساری عمر حرام کاری کے مرتکب رہیں گے۔
نوٹ: دلائل کے خانے میں قرآنِ کریم، احادیثِ مبارکہ اور فقہ کی معتبر کتابوں کے حوالہ جات درج کر دیے گئے ہیں، ملاحظہ فرما لیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم : (البقرة، الایة: 230)
’’فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهٗ ... الخ
أحكام القرآن للجصاص: (415/5، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
روح المعانی: (البقرۃ، الایة: 230)
"فإن طلقها‘‘ متعلقا بقوله سبحانه ’’الطلاق مرتان‘‘ .... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها.
صحیح البخاری: (کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث، رقم الحدیث: 5260، ط: دار طوق النجاة)
عن ابن شهاب، قال: اخبرني عروة بن الزبير، ان عائشة اخبرته،" ان امراة رفاعة القرظي جاءت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إن رفاعة طلقني، فبت طلاقي، وإني نكحت بعده عبد الرحمن بن الزبير القرظي وإنما معه مثل الهدبة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعلك تريدين ان ترجعي إلى رفاعة، لا حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته".
سنن أبي داود: (باب في اللعان، رقم الحدیث: 2250، دار الرسالة العربیة)
عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد، في هذا الخبر، قال: فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وكان ما صنع عند النبي صلى الله عليه وسلم سنة، قال سهل: حضرت هذا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمضت السنة بعد في المتلاعنين ان يفرق بينهما ثم لا يجتمعان ابدا.
شرح النووي على مسلم: (70/10، ط: دار إحياء التراث العربي)
وقد اختلف العلماء فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال الشافعي ومالك وأبو حنيفة وأحمد وجماهير العلماء من السلف والخلف يقع الثلاث
رد المحتار: (233/3، ط۔: سعید)
’’وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث۔۔۔۔ أما أولا فإجماعهم ظاهر لأنه لم ينقل عن أحد منهم أنه خالف عمر حين أمضى الثلاث، ولا يلزم في نقل الحكم الإجماعي عن مائة ألف تسمية كل في مجلد كبير لحكم واحد على أنه إجماع سكوتي. وأما ثانيا فالعبرة في نقل الإجماع نقل ما عن المجتهدين والمائة ألف لا يبلغ عدة المجتهدين الفقهاء منهم أكثر من عشرين كالخلفاء والعبادلة وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأنس وأبي هريرة، والباقون يرجعون إليهم ويستفتون منهم وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - {فماذا بعد الحق إلا الضلال} [يونس: 32]- وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف۔‘‘
الفتاوى الهندية: (196/10، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی