resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: شرعی مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے ناجائز زیورات پہن کر مانگی گئی دعاؤں کی قبولیت کے بارے میں سوال

(63644-No)

سوال: السلام علیکم، شیخ صاحب! میرا ایک سوال ہے، مجھے اس بات کا علم نہیں تھا کہ زیورات بھی لباس کے حکم میں شامل ہوتے ہیں اور حرام زیورات پہننا دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بنتا ہے، میں اس حکم سے بالکل ناواقف تھا، اگر مجھے اس کا علم ہوتا تو میں کبھی یہ غلطی نہ کرتا۔
کیا اس صورت میں مجھ سے اس پر مواخذہ ہوگا اور کیا حرام زیورات پہنے ہوئے میں نے جو دعائیں مانگی تھیں، وہ اس وقت مکمل طور پر قابلِ قبول تھیں؟
میں نے سنا ہے کہ جو شخص کسی شرعی حکم سے ناواقف ہو، اس پر وہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔

جواب: واضح رہے کہ ایک مسلمان کے لیے دین کا ضروری علم حاصل کرنا فرض ہے، ضروری علم سے مراد پاکی، عبادات اور حلال و حرام کے وہ مسائل ہیں جن کی ضرورت انسان کو اپنی روز مرہ زندگی پیش آتی ہے، اس قسم کے کسی مسئلہ سے لاعلمی شرعاً عذر نہیں ہے بلکہ ایک کوتاہی ہے، اس لیے سب سے پہلے آپ اپنے اس عمل پر توبہ و استغفار کریں، صدق دل سے توبہ کرنے پر ان شاءاللہ تعالیٰ آپ کا گناہ معاف ہو جائے گا۔
جہاں تک آپ کا ناجائز زیورات پہن کر مانگی گئی دعاؤں کی قبولیت سے متعلق سوال ہے تو چونکہ آپ کے بیان کے مطابق آپ کے دل کی کیفیت یہ ہے کہ اگر آپ کو اس عمل کے ناجائز اور گناہ ہونے کا علم ہوتا تو آپ ایسا بالکل بھی نہیں کرتے، اور اب آپ نے سچی توبہ بھی کرلی ہے، اس لیے حق تعالیٰ کی رحمت سے یہی امید رکھیں کہ آپ کی جملہ دعائیں قبول ہوگئی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*القرآن الکریم: (سورۃ الزمر، رقم الآیۃ: 53)*
قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ O

*سنن ابن ماجه: (رقم الحدیث: 244، ط: دارالجیل)*
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ، وَاللُّؤْلُؤَ، وَالذَّهَبَ".

*رد المحتار: (42/1، ط: دارالفکر)*
مطلب في فرض الكفاية وفرض العين: وفي تبيين المحارم: لا شك في فرضية علم الفرائض الخمس وعلم الإخلاص؛ لأن صحة العمل موقوفة عليه وعلم الحلال والحرام وعلم الرياء؛ لأن العابد محروم من ثواب عمله بالرياء، وعلم الحسد والعجب إذ هما يأكلان العمل كما تأكل النار الحطب، وعلم البيع والشراء والنكاح والطلاق لمن أراد الدخول في هذه الأشياء وعلم الألفاظ المحرمة أو المكفرة، ولعمري هذا من أهم المهمات في هذا الزمان؛ لأنك تسمع كثيرا من العوام يتكلمون بما يكفر وهم عنها غافلون، والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين، إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير۔

*و فیه ایضاً: (297/1، ط: دارالفکر)*
"(قوله: لا جاهلًا إلخ) هو على سبيل اللف والنشر المشوش. والظاهر أن الجهل إنما ينفي كونه كبيرة لا أصل الحرمة إذ لا عذر بالجهل بالأحكام في دار الإسلام۔

واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications