سوال:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! مجھے آپ سے اپنے گھر کے کچھ مسائل کے بارے میں رہنمائی چاہیے۔ ہمارے گھر میں ہر وقت لڑائی جھگڑا رہتا ہے، کوئی بھی والدہ سے سیدھے طریقے سے بات نہیں کرتا، میرے بڑے بھائی سب سے زیادہ مسائل پیدا کر رہے ہیں، ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان پر کسی نے کچھ کروا دیا ہے، کیونکہ وہ والدہ کو بہت باتیں سناتے ہیں اور ہر بات میں ضد اور لڑائی کرتے ہیں۔
میرے بڑے بھائی کا رشتہ طے ہو چکا ہے، لیکن شادی کی بات آگے نہیں بڑھ رہی، اسی طرح میرے باقی بہن بھائیوں کے رشتے بھی نہیں آ رہے، اور اگر کہیں سے رشتہ آتا بھی ہے تو بات آگے نہیں چل پاتی۔
ہم ان تمام مسائل کی وجہ سے بہت پریشان ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ براہِ کرم ہماری رہنمائی فرمائیں اور بتائیں کہ ہمیں اس سلسلے میں کیا کرنا چاہیے؟ اگر کوئی شرعی وظیفہ یا دعا ہو تو وہ بھی بتا دیجیے تاکہ ہمارے گھر میں سکون اور محبت قائم ہو اور ہمارے مسائل حل ہو سکیں۔
جزاکم اللہ خیراً
جواب: واضح رہے کہ گھر میں لڑائی جھگڑا ہونا، اہلِ خانہ کا ایک دوسرے کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنا اور رشتوں کی باتوں کا آگے نہ بڑھنا یقیناً پریشانی کا باعث ہے، تاہم محض ان امور کی بنا پر یہ سمجھ لینا کہ کسی نے جادو وغیرہ کروایا ہے، درست نہیں۔
دنیا میں انسان کو مختلف طرح کے مسائل اور آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ضروری نہیں کہ ان تکالیف کا سبب جادو وغیرہ ہی ہو، لہٰذا سب سے پہلے بدگمانی سے اجتناب کرتے ہوئے حکمت و سمجھ داری کے ساتھ گھریلو مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے، بڑے بھائی کو چاہیے کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ ادب و احترام سے پیش آئیں اور ان کی دل آزاری سے بچیں، نیز گھر کے دیگر افراد بھی باہمی محبت و ہمدردی کا معاملہ اختیار کریں۔
گھر میں محبت و الفت پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ یہ ہے کہ تمام افراد ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آئیں، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور باہمی اختلافات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں، اس کے ساتھ ساتھ پنج وقتہ نماز کی پابندی، تلاوتِ قرآن کریم، صبح و شام کے مسنون اذکار اور دعا کا اہتمام بھی کریں۔
گھر میں لڑائی جھگڑے دور کرنے اور باہمی محبت و الفت پیدا ہونے کے لیے درج ذیل دعا کا اہتمام کریں:
"اَللّٰهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ"
ترجمہ: اے اللہ! ہمارے دلوں میں (ایک دوسرے کی) الفت پیدا فرما دے اور ہمارے آپس کے روابط کو عمدہ بنا دے، ہمیں سلامتی کے راستوں کی رہنمائی فرما۔ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر: 969)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*سنن ابی داؤد: (باب في الظن، رقم الحدیث: 4917)*
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ؛ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَجَسَّسُوا ".
*سنن ابو داؤد:(رقم الحدیث:4682)*
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا.
*سنن ابی داؤد: (رقم الحدیث:969)*
عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِهِ قَالَ: وَكَانَ يُعَلِّمُنَا كَلِمَاتٍ، وَلَمْ يَكُنْ يُعَلِّمُنَاهُنَّ، كَمَا يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ: اَللّٰهُمَّ أَلِّفْ بَيْنَ قُلُوبِنَا، وَأَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنِنَا، وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ الخ
واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب
دار الافتاء الاخلاص کراچی