resize-left-dar mid-dar right-dar
✨ Ask AI

عنوان: دعا "اَللّٰهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهٗ سَهْلًا وَّأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلًا" میں لفظ 'الحزن' پر زبر و جزم پڑھنے کا حکم

(63647-No)

سوال: السلام علیکم،
اَللّٰهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهٗ سَهْلًا وَّأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلًااللَّهُمَّ لا سَهْلَ إِلاَّ ما جَعَلْتَهُ سَهْلاً، وأنْتَ تَجْعَلُ الحَزْنَ إذَا شِئْتَ سَهْلاً" ان دعاؤں میں ایک حزن کے ز پر زبر ہے اور ایک ز پر جزم ہے، کس طرح پڑھنا صیح ہے؟

جواب: واضح رہے کہ اس دعا میں لفظِ "حزن" زاء کے زبر اور جزم دونوں طرح سے کتابوں میں منقول ہے، دونوں کے معنی الگ الگ ہیں، جس سے دعا کا ترجمہ اور مفہوم بھی مختلف ہو جاتا ہے۔
چنانچہ کتاب "عملُ الیوم واللیلۃ لابن السنی" میں یہ لفظ "الْحَزَنَ" زاء کے زبر کے ساتھ منقول ہے، جس کا معنی "رنجیدہ ،غمگین ہونا" ہے۔ اس عبارت کے مطابق دعا کا ترجمہ یہ ہوگا: "اے اللہ! کوئی چیز آسان نہیں مگر جسے تُو آسان بنا دے، اور تُو ہی غم کو جب چاہے آسان (ہلکا) بنا دیتا ہے۔"
جبکہ کتاب "منتقی الاذکار" للشیخ خالد الجریسی میں یہی لفظ "الْحَزْنَ" زاء کے جزم (سکون) کے ساتھ منقول ہے، جس کا معنی "دشوار، سخت جگہ اور ناہموار (زمین یا امر)" ہے، جو لفظِ "سَہل" (ہموار، آسان) کا متضاد لفظ ہے۔ اس عبارت کے مطابق دعا کا ترجمہ یہ ہوگا: "اے اللہ! کوئی چیز آسان نہیں مگر جسے تُو آسان بنا دے، اور تُو ہی ہر دشوار (سخت) امر کو جب چاہے آسان بنا دیتا ہے۔"
چونکہ دونوں اِعراب معتبر کتابوں سے ثابت اور معنی کے اعتبار سے درست ہیں، اس لیے یہ دعا دونوں طرح ( یعنی زبر اور جزم) کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:

*صحيح ابن حبان : (7/ 433،رقم الحدیث: 6737،ط: دار ابن حزم )*
ذِكْرُ مَا يُسْتَحَبُّ لِلْمَرْءِ سُؤَالُ الْبَارِي جَلَّ وَعَلَا تَسْهِيلَ الأُمُورِ عَلَيْهِ إِذَا صَعُبَتْ.
٦٧٣٧ - أَخبَرنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: حَدثنا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أبو عتاب الدلال، قَالَ: حَدثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلى الله عَلَيه وسَلم، قَالَ: "اللهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَاّ مَا جَعَلْتَهُ سَهْلاً، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزْنَ سَهْلاً إِذَا شِئْتَ".

*کتاب منتقی الاذکار: (ص: 44،ط:إدارة الوقت من المنظور الإسلامي والإداري)*
ما يقولُ إذا استَصْعبَ عليهِ أمرٌ: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللَّهُمَّ لاَ سَهْلَ إلاَّ مَا جَعَلْتَهُ سَهْلاً، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الحَزْنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلاً.

*عمل اليوم والليلة لابن السنی: (ص:311،ط:دار القبلة للثقافة الإسلامية ومؤسسة علوم القرآن)*
بَابُ مَا يَقُولُ إِذَا اسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ أَمْرٌ
٣٥١ - أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ الْمُجَدَّرِ، حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ لَا سَهْلَ إِلَّا مَا جَعَلْتَهُ سَهْلًا، وَأَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ إِذَا شِئْتَ سَهْلًا.

*القاموس الوحید: (ص:281، ط: ادارة الاسلامیات)*
حَزَنَ الامر فلانا۔ حُزنا: غمگین کرنا، رنج پہنچانا، رنجیدہ کرنا۔
الحزْن: سخت جگہ، اکھڑا مزاج آدمی۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی

Find here answers of your daily concerns or questions about daily life according to Islam and Sharia. This category covers your asking about the category of Azkaar & Supplications