سوال:
السلام عليكم، اگر کوئی غیر کتابی کافر یا ملحد شخص حلال جانور ذبح کرے، اور اس کو ذبح کرتے ہوئے نہ اللہ کا نام لے اور نہ ہی غیر اللہ کا نام لے، اس کا مقصد صرف گوشت کھانا یا بیچنا ہو تو ایسے ذبیحے کا کیا حکم ہے؟
جواب: احناف کے نزدیک ذبیحہ کے حلال ہونے کے لیے ذبح کرنے والے کا مسلمان یا اہلِ کتاب ہونا شرط ہے، چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ﴾ (المائدہ: الایة: 5) ترجمہ: اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان کا کھانا بھی تمہارے لیے حلال ہے۔
*تشریح:* کھانے سے یہاں مراد ذبیحہ ہے، اہل کتاب یعنی یہودی اور عیسائی چونکہ جانور کے ذبح میں انہی شرائط کی رعایت رکھتے تھے جو اسلامی شریعت میں مقرر ہیں اور وہ دوسرے غیر مسلموں سے اس معاملے میں ممتاز تھے کہ فی الجملہ آسمانی کتابوں کو مانتے تھے، اس لیے ان کے ذبح کیے ہوئے جانور مسلمانوں کے لیے جائز قرار دیئے گئے تھے، بشرطیکہ وہ جانور کو صحیح شرعی طریقے سے ذبح کریں اور اس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام نہ لیں۔ (آسان ترجمہ قرآن)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ کہ اہل کتاب کے علاوہ کسی غیر کتابی کافر یا ملحد کا ذبیحہ شرعاً حلال نہیں ہے، خواہ وہ ذبح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لے یا نہ لے اور اس کا مقصد صرف گوشت کھانا یا فروخت کرنا ہی کیوں نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
*تفسير الخازن لباب التأويل في معاني التنزيل: (سورة المائدة (5): آية 5، 2/ 13- 14، دار الكتب العلمية - بيروت)*
«وقوله تعالى: وَطَعامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ حِلٌّ لَكُمْ يعني وذبائح أهل الكتاب حل لكم وهم اليهود والنصارى»
«وأجمعوا على تحريم ذبائح المجوس وسائر أهل الشرك من مشركي العرب وعبدة الأصنام ومن لا كتاب له، وأجمعوا على أن المراد بطعام الذين أوتوا الكتاب ذبائحهم خاصة لأن ما سوى الذبائح فهي محللة قبل أن كانت لأهل الكتاب وبعد أن صارت لهم فلا يبقى لتخصيصها بأهل الكتاب فائدة»
*حاشية ابن عابدين = رد المحتار: (6/ 296- 298، ط الحلبي)*
(وشرط كون الذابح مسلما حلالا خارج الحرم إن كان صيدا) فصيد الحرم لا تحله الذكاة في الحرم مطلقا (أو كتابيا ذميا أو حربيا) إلا إذا سمع منه عند الذبح ذكر المسيح (فتحل ذبيحتهما)...... «(لا) تحل (ذبيحة) غير كتابي من (وثني ومجوسي ومرتد)»
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی