سوال:
السلام علیکم، مجھے اپنی ملازمت کے حوالے سے شرعی رہنمائی درکار ہے۔ میں پاکستان میں ایک بینک کے ہیڈ آفس میں ملازم ہوں۔ ہمارے بینک میں اسلامی اور روایتی (Conventional) دونوں طرح کی برانچز موجود ہیں، جن میں تقریباً 49 فیصد اسلامی اور 51 فیصد روایتی (Conventional) برانچز ہیں۔
میری ملازمت کی ذمہ داری بینک کی شکایات (Complaints) سے متعلق ہے۔ اگر بینک کے کسی صارف کو کسی قسم کا مسئلہ پیش آتا ہے تو وہ شکایت درج کرواتا ہے۔ میری ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ اس شکایت کو بینک کے متعلقہ شعبے تک پہنچاؤں، وہاں سے اس کا جواب حاصل کروں اور پھر وہ جواب صارف تک پہنچاؤں۔ ان شکایات میں اسلامی اور روایتی (Conventional)، دونوں طرح کے اکاؤنٹ ہولڈرز شامل ہوتے ہیں۔
ہمارا بینک کریڈٹ کارڈ (Credit Card) فراہم نہیں کرتا، تاہم روایتی (Conventional) سیونگ اکاؤنٹس اور روایتی (Conventional) قرضے (Loans) فراہم کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینک اسلامی سیونگ اکاؤنٹس، کرنٹ اکاؤنٹس اور اسلامی فنانسنگ بھی فراہم کرتا ہے۔
میں اس وقت طالب علم ہوں اور میری آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔ اس لیے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا میرے لیے اس بینک کی موجودہ ملازمت جاری رکھنا شرعاً جائز ہے؟
اس حوالے سے ایک اور بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، جو پاکستان کے تمام بینکوں کا ریگولیٹر ہے، اس نے بینکوں کو 2027 تک مکمل طور پر اسلامی بینکاری نظام کی طرف منتقل ہونے کا ہدف/وقت دیا ہوا ہے۔ اس تناظر میں بھی میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں کہ آیا مجھے کسی دوسری ملازمت کی تلاش کرنی چاہیے، مثلاً کسی اسلامی بینک یا کسی دوسرے ادارے میں، یا موجودہ ملازمت جاری رکھنے میں کوئی شرعی حرج نہیں ہے؟ مزید وضاحت کے لیے، میری ملازمت میں درج ذیل میں سے کوئی ذمہ داری شامل نہیں: کسی قسم کے روایتی (Conventional) قرضے (Loan) کی منظوری دینا، اکاؤنٹ کھولنا یا بند کرنا، اکاؤنٹ میں رقم جمع یا نکلوانا، کسی قسم کی روایتی (Conventional) یا دیگر بینکنگ مصنوعات کی سیل کرنا، روایتی (Conventional) قرضے یا سودی مصنوعات کے معاملات براہِ راست کرنا، میری بنیادی ذمہ داری صرف صارفین کی شکایات کو متعلقہ شعبے تک پہنچانا، متعلقہ شعبے سے جواب حاصل کرنا اور صارف کو جواب فراہم کرنا ہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت، فقہی اصولوں اور معتبر علماء کی آراء کی روشنی میں میری اس مخصوص ملازمت کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا اسے جاری رکھنا میرے لیے جائز ہے یا مجھے متبادل ملازمت تلاش کرنی چاہیے۔ نیز اگر اس معاملے میں کوئی تفصیل یا اضافی معلومات ضروری ہوں تو میں وہ بھی فراہم کر سکتا ہوں۔
جواب: واضح رہے کہ ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہو، وہ ملازمت ناجائز اور حرام ہے، البتہ وہ ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہ ہو اور اس میں سودی لین دین یا سودی لکھت پڑھت وغیرہ سے متعلق کوئی کام نہ کرنا پڑتا ہو تو ایسی ملازمت کی گنجائش ہے۔
پوچھی گئی صورت میں آپ کا کام صارفین کی شکایات سننا اور انہیں متعلقہ شعبے تک پہنچانا ہے۔ ان شکایات میں دو طرح کی شکایات شامل ہیں:
1) اسلامی بینکنگ سے متعلق شکایات کو سننا اور حل کروانا: اگر یہ بینک مستند علماء کرام کی زیر نگرانی شرعی اصولوں کے مطابق کام کر رہا ہو تو ایسے بینک کے اس شعبہ میں کام کرنا اور اس کے عوض ملنے والی تنخواہ جائز اور حلال ہوگی، اس کام کو جاری رکھ سکتے ہیں۔
2) سودی (Conventional) بینکنگ شعبہ کی شکایات سننا اور حل کرنا: اس شعبہ میں ساری شکایات ناجائز نہیں ہوں گی، لیکن ان میں سے ایسی شکایات جو سودی قرضے کی منظوری دلوانے یا سودی معاملات میں براہِ راست معاون بن رہی ہوں تو صرف اس کام کے بقدر جتنی تنخواہ بنتی ہو، وہ آپ کے لیے حلال نہیں ہوگی۔
لہذا بہتر ہے کہ آپ بینک کے صرف اسلامک شعبہ کی شکایات کو حل کرنے کی کوشش کریں، اگر یہ ممکن نہ ہو اور کوئی مناسب مکمل جائز ذریعہ معامش میسر نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں آپ کیلئے اسی ملازمت کو جاری رکھتے ہوئے کل تنخواہ میں سے جتنا حصہ اسلامی بینکنگ کی شکایات اور دیگر جائز کاموں کے عوض ہے وہ حلال ہے، اور جتنا حصہ سودی قرضے دلوانے یا دیگر سودی معاملات میں براہِ راست معاونت پر مشتمل ہو، ان کاموں کے بقدر تنخواہ حلال نہیں ہوگی، اس کا تناسب نکال کر اس کے بقدر رقم کو بغیر ثواب کی نیت سے صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الكريم: (المائدة، الاية: 2)
وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ o
فقه البیوع: (1066/2، ط: ادارہ معارف القرآن)
أما إذاکانت الوظیفة لیس لھا علاقة مباشرة بالعملیات الربویة، مثل وظیفة الحارس، أوسائق السیارة، أوالعامل علی الھاتف، أوالموظف المسئول عن صیانة البناء، أوالمعدات،أوالکھرباء۔۔۔فلایحرم قبولھا ان لم یکن بنیة الإعانة علی العملیات المحرمة، وإن کان الاجتناب عنھا أولی، ولایحکم فی راتبه بالحرمة، لما ذکرنا من التفصیل فی الإعانة والتسبب، وفی کون مال البنک مختلطا بالحلال والحرام.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء الاخلاص،کراچی