سوال:
پہلا سوال: اگر بینک (نیشنل بینک) کسی شخص کو ایک کروڑ روپے قرض دے، لیکن وہ شخص اس میں سے صرف دس لاکھ روپے استعمال کرے اور باقی رقم بینک میں موجود رہے تو کیا بینک کا صرف استعمال کی گئی دس لاکھ روپے کی رقم پر منافع لینا شرعاً جائز ہے؟ اور اگر وہ شخص صبح دس لاکھ روپے نکال کر اسی دن بینک بند ہونے سے پہلے واپس جمع کروا دے تو کیا بینک کا اس رقم پر کوئی منافع نہ لینا شرعاً جائز ہے؟ اور اس صورت میں قرض لینے کی اجازت ہوگی؟ جبکہ بینک اس آخری صورت میں واپسی پر کوئی اضافی رقم نہیں لیتی۔
دوسرا سوال: اگر منافع کی شرح خود بینک مقرر نہ کرے بلکہ اسٹیٹ بینک ایک شرح مقرر کرے، جو بینک اور قرض لینے والے دونوں کے لیے قابلِ قبول ہو تو کیا اس مقررہ شرح کے مطابق قرض کی استعمال شدہ رقم پر منافع لینا اور دینا شرعاً جائز ہے؟
جواب: واضح رہے کہ قرض کی رقم پر اضافی رقم یا منافع کی شرط لگانا سود کی ایک صورت ہے جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔
لہذا مذکورہ بینک سے سودی قرض کا معاہدہ کرنا جائز نہیں ہے، خواہ کسٹمر نے قرض کی ساری رقم استعمال کی ہو، یا استعمال نہ کی ہو، نیز قرض پر مشروط منافع کا کوئی بھی معیار یا شرح مقرر کی جائے، سودی قرض کا معاہدہ کرنا بہر صورت ناجائز اور حرام ہے، اس سے اجتناب لازم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
السنن الکبری للبیہقي: (باب کل قرض جر منفعة، رقم الحدیث: 11092، ط: دار الفکر)
عن فضالة بن عبید صاحب النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أنه قال: کل قرض جر منفعة فہو وجه من وجوہ الربا۔
بدائع الصنائع: (395/7، ط: دار الکتب العلمیة)
(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی