سوال:
میرا سوال یہ ہے کہ میرے شوہر بچپن کے صدمے (Trauma) کی وجہ سے ذہنی مریض ہیں اور ذہنی طور پر صحت مند نہیں ہیں، انہوں نے شدید غصے اور نادانی کی حالت میں میرے سامنے 3 بار طلاق کا لفظ بولا ہے، اب جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا ہے تو وہ صاف انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے بالکل یاد نہیں کہ میں نے کیا بولا، اور وہ کہتے ہیں کہ میں نے مر کے اللہ کو منہ دکھانا ہے، میں طلاق نہیں دے سکتا۔ ہمارے معصوم بچے ہیں اور اگر میں گھر چھوڑتی ہوں تو وہ خودکشی یا بچوں کو مارنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ شریعت میں ہمارے نکاح کا کیا حکم ہے؟
جواب: پوچھی گئی صورت میں اگر شدید غصّے کی وجہ سے شوہر کی کیفیت مجنون و مدہوش جیسی ہو گئی تھی، یعنی وہ اپنی عقل اور زبان پر قابو نہیں رکھتا تھا اور بلا اختیار و بلا قصد اس کی زبان سے طلاق کے الفاظ نکل گئے تھے تو ایسی صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ اگر وہ مجنون و مدہوش کی کیفیت میں نہیں تھا، بلکہ اسے اپنے حواس پر کسی قدر قابو تھا، یعنی کچھ باتیں یاد تھیں اور کچھ نہیں، اگرچہ وہ شدید غصے کی حالت میں تھا تو ایسی صورت میں تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے، جس کے بعد نہ رجوع ہوسکتا ہے، اور نہ ہی دو بارہ نکاح ہوسکتا ہے۔
واضح رہے کہ تین طلاقوں کے بعد دوبارہ نکاح کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کرے اور اس سے ازدواجی تعلقات قائم کرے، پھر وہ اسے اپنی مرضی سے طلاق دیدے یا اس کا انتقال ہوجائے تو پھر وہ عورت عدت گزار کر اگر اپنے سابقہ شوہر سے نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلائل:
القرآن الکریم: (البقرۃ، الاية: 230)
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَo
رد المحتار: (244/3، ط: دار الفکر)
قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه. ملخصا ..... فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
اعلاء السنن: (180/11، ط: ادارۃ القرآن)
والمراد الغضب الذي یحصل به الدھش وزوال العقل فإن قلیل الغضب لایخلو الطلاق عنہ إلانادراً، وقد قلنا بعدم وقوع الطلاق في مثل ھذا الغضب قال الزیلعی: قال فی التنقیح: وقد فسرہ أحمد أیضًا بالغضب۔ قال شیخنا : والصواب أنہ یعُمّ الإکراہ والغضب والجنون وکل أمرٍ ا نغلق علی صاحبہ عِلمُه وقصدہ، مأخوذ من غلق الباب.
واللّٰه تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص،کراچی